اہل دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہل نظر!

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

پاکستان عزم عالیشان جن جانے اور انجانے عذابات اور مسائل و مشکلات سے دو چار ہے ایسا ہونا نہیں چاہئے تھا۔62 سالوں میں پاکستانی قوم نے اور ان کے نام نہاد قائدین صد احترام نے جس طرح ایمان اتحاد اور تنظیم کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ الامان، الحفیظ، تخلیق پاکستان کے بعد حضرت قائداعظمؒ کے عرصہ حیات مبارکہ کو چھوڑ کر اگر المناک سیاسی، قومی اور دستوری احوال کا مطالعہ کیا جائے تو Low Blood Pressure یا High Blood Pressure کا مریض نہ ہونا، اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ ہو گی، جنہوں نے قیام پاکستان کی تاریخ پڑھی یا اس درخشندہ اور تابندہ تاریخ کو بذات خود تخلیق کیا انہیں معلوم ہے کہ پاکستان کس طرح معرض ظہور میں آیا اور آج کیا کیفیات و واقعات سے دو چار ہے۔
اس وقت معاشی، سماجی، علمی، قومی اور سیاسی حالت کچھ یوں ہے کہ چند اندھوں سے ہاتھی کے بارے میں جغرافیہ پوچھا گیا تو، جس نے ہاتھی کی ٹانگوں کو پکڑا تو اس نے کہا کہ یہ ستون ہے جس نے سونڈ پکڑی اس نے کہا یہ سانپ ہے جس نے بدن کو چھوا اس نے کہا کہ یہ ڈرم ہے۔ جس نے دانت پکڑے اس نے کہا یہ تلوار ہے،(قرطاس اقبال۔ پروفیسر منور مرزا) وعلیٰ ہذا القیاس۔ یہی وہ غیر یقینی حالت زار ہے کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ پاکستانی اندرونی اور بیرونی سیاسی اور قومی کیفیات کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے کیوں ہے اس کا ذمہ دار کون ہے اور اس کا علاج کیا ہے، اگر ہم گزارش کریں گے تو تکلیف ہوگی، دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہو اور قوم کے افراد قیامت خیز گرمی سے 24 گھنٹوں میں 20 گھنٹے جھلسا دینے والی گرمی سے دو چار ہوں، لوگ سڑکوں پر سینہ کوبی کرتے کرتے بیہوش ہو رہے ہوں، بچے بلک رہے ہوں، مریض مر رہے ہوں، بوڑھے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوں، طلباء طالبات پڑھنے سے عاری ہوں ان تمام آلام کا کون ذمہ دار ہے؟ لاقانونیت، دہشت گردی، سکہ رائج الوقت، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ان کے تحفظاتی ادارے خود اپنے تحفظ کے محتاج ہوں ایسا پاکستان قائداعظمؒ نہیں چاہتے تھے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو(سوائے نوائے وقت اور وقت نیوز کے) یہ پتہ ہی نہیں کہ قومی تعمیر و استحکام کے تقاضے کیا ہیں، فرسودہ پروگرامات، لایعنی بحث و مباحثہ، چیخ و پکار، خدا کے لیے فکر و تدبر اپنائیں اور قومی عظمت و آزادی اور استحکام و سالمیت کے حوالے سے انتہائی ثقہ، مناسب علمی اور بلاتعصب تعمیری گفتگو کرائیں اور تحریریں بھی ایسی ہونی چاہئیں جن سے ژولیدہ فکری اور فرسودہ خیالات کی آبیاری ممکن نہ ہو، میڈیا کی آزادی بہت اچھی شے ہے لیکن اس کا استعمال مثبت اور تعمیری ہونا چاہیے۔ تاکہ قوم نفسیاتی عوارض میں مبتلا نہ ہو جائے۔ وگرنہ قوم کے افراد حضرت علامہ اقبالؒ کے اس شعر کی ترجمانی کرتے پھریں گے:
اہل دانش عام ہیں، کم یاب ہیںہل نظر!
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ!