’’مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری‘‘

قارئین آپ جانتے ہی ہیں کہ سقراط 469 قبل مسیح سے399 قبل مسیح تک کے قدیم یونان کا ایک بہت بڑا عالمی سطح کا دانشور تھا ۔ ایک دن ایک آدمی دوڑتا ہوا سقراط کے پاس آیا اور کہا آپ کو پتہ ہے کہ میں نے آپکے ایک طالب علم کے متعلق کیا سنا ہے۔ سقراط نے کہا ایک لمحہ رک جائیں اور مجھے کچھ بتانے سے قبل آپ پہلے مجھے میرے تین سوالات کا جواب دیں پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اس چیز کا یقین کر لیا ہے کہ جو کچھ آپ مجھے میرے ایک طالب علم کے متعلق بتانا چاہتے ہیں وہ سچ ہے؟ آدمی نے کہا یہ توسنی سنائی بات ہے اسکے سچ ہونے کا میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ سقراط نے دوسرا سوال کرتے ہوئے پوچھاکہ کیا جوبات آپ مجھے میرے شاگرد کے متعلق بتانا چاہتے ہیں وہ اچھی یا مثبت بات ہے؟ آدمی نے نفی میں جواب دیا ۔ سقراط نے کہا تو آپ مجھے میرے طالب علم کے متعلق ایک بری بات بتانا چاہتے ہیں جس کی سچائی کا بھی آپ کو یقین نہیں ۔اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ میرے شاگرد سے متعلق جوبری بات آپ مجھے بتانا چاہتے ہیں کیا وہ میرے لیے کسی لحاظ سے بھی مفید ہے؟ جب اس آدمی نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا تو پھر سقراط نے کہا کہ کسی کے متعلق ایک ایسی منفی بات جس کی سچائی بھی مشکوک ہے اور میرے لیے وہ کسی لحاظ سے مفید بھی نہیں اس کو میں کیوں سنوں۔ آدمی سخت شرمندہ ہوا اور خاموش ہو گیا۔
دراصل ہم لوگ چپ رہنے کے عادی نہیں ہیں کچھ نہ کچھ بولتے یا کہتے رہنا ہمارا مشغلہ ہے اور ہم اس بہت بڑی غلط فہمی کا شکاربھی ہو جاتے ہیں کہ شاید چرب زبانی اور گفتگو کی بہتات سے ہماری دوسروں پر دھاک بیٹھے گی۔اپنے گریبان میں جھانکنے کیبجائے ہم دوسروں کے اندر عیب ڈھونڈتے ہیں اور پھر بغیر تصدیق کے ہر جگہ اسکا برملا تذکرہ بھی کردیتے ہیں اور بار بار لغو بے معنی اور بغیر مقصد کی سنی سنائی کہانیوں کی یلغار سے خاموشی جیسی بہترین نعمت کو بار بار بے رحمی سے پارہ پارہ کرتے ہیں۔ ادب کی دنیا کی ایک بہت بڑی شخصیت مرحوم اشفاق احمد نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ رات کی چاندنی میں سندھ کے ریگستان میں بیٹھے تھے تو ان کے میزبان ساتھی نے پوچھا اشفاق احمد خاموش کیوں ہو کچھ سناؤ اور اشفاق احمد کا جواب تھا کہ اس خاموشی سے حاصل شدہ سکون کی نعمت سے کوئی بڑی بات کہنے کو ہو تو میںخاموشی کو توڑ کراس سکون کو قربان کروں ۔
یہ ٹھیک بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبان گفتگو کرنے کیلئے عطا کی ہے لیکن عقلمند لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کو ایک اچھا Listner والا ہونا چاہیے اپنی بات سنانے کی بجائے دوسروں کی بات سننے کی عادت انسانوں کے چند بہترین اوصاف میں سے ہے ہمیں دوسروں کی بات غور سے سننی چاہیے اور انکو اپنی بات مکمل کرنے کا موقع بھی دینا چاہیے کئی لوگ دوسروں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ان پر جھپٹ پڑتے ہیں دانا لوگ کہتے ہیں کہ اس بے صبری اور جلد بازی سے کام لینے والوں کے متعلق یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ لوگ اپنی عام زندگی کے معمولات کیسے نبھا رہے ہونگے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ عظیم لوگ Conceptsپر بات کرتے ہیں ۔ اوسط درجے کے لوگ Events یا واقعات پر گفتگو کرتے ہیں لیکن چھوٹے لوگوں کا موضوع بحث دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔
در اصل عظیم لوگ دوسروں کی بات صبر اور تحمل سے سنتے ہیں ہمیں وہی باتیں سننی یا سنانی چاہیں جو بقول سقراط سچی ، مثبت اور مفید ہوںاور کم گوئی کو اپنا شعار بنانا چاہیے چونکہ دانا لوگوں نے کہا ہے
Speech is Silver and Silence is Gold\\\" \\\" یعنی اگر گفتگو کو ہم چاندی سے تشبیح دیں تواسکے مقابلے میں خاموشی سونا ہے یہ بھی کسی کا کہنا ہے کہ دانشور لوگ بولتے کم ہیں اور کہتے زیادہ ہیں یعنی
\\\"Those who grow wiser in age, they speak less and say more \\\"
قارئین اس میں شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے آپ بہت سے ٹی وی ٹاک شوز کو ہی دیکھ لیں ان میں بہت دفعہ آپ کو ایک طوفان بدتمیزی کی جھلک نظر آئے گی جہاں بہت سی باتیں بغیر ثبوت کے کہی جاتی ہیں اور کئی دفعہ تو شور شرابے میں کوئی بات سمجھ بھی نہیں آتی عالمی میڈیا میں ایسی صورت حال شاید ہی آپ کو کسی چینل پر نظر آئے۔
ایک دفعہ ایک ٹاک شو میں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے پچھلی حکومت کے ایک سینیٹر نے کہا کہ جنرل صاحب اسٹیل مل کی نجکاری کے سلسلے میں آپ نے جو خط صدر صاحب کو لکھا تھا اسکے آخری پہرے میں تو آپ نے اسٹیل مل کی نجکاری کی تعریف کی تھی میں اس پر بڑا حیران ہوا چونکہ یہ ایک سفید جھوٹ تھا اور قابل احترام سینیٹر مجھے بتا رہے تھے کہ میں نے خط تو نہیں پڑھا لیکن ایسا سنا ہے۔میں نے سینیٹر صاحب کو بتایا کہ مذکورہ خط میں میں نے اسٹیل مل کی نجکاری کو رومن انگریزی میں نورا کشتی لکھ کر بھیجا تھا اور اس خط کے آخری پہرے میں تو میرا استعفیٰ تھا یہ خط شایدآج بھی ایوان صدر اور سپریم کورٹ میں محفوظ ہو گا اس میں شک نہیں کہ ہمارے میڈیا نے پچھلے ساٹھ سالوں میں کامیابیوں کا ایک بہت لمبا سفر طے کر لیا ہے بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ہمارے جناب مجید نظامی ، میر خلیل الرحمان ، میر شکیل الرحمان ، عارف نظامی ، ہارون فیملی اور دوسرے بہت سے صحافی قائدین کی انتھک کوششوں کی وجہ سے صحافت کے میدان میں ایک انقلاب برپا ہو چکا ہے صحافت کا پیشہ محب وطن ، قابل اور دیانتدار لوگوں سے بھرا پڑا ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس پیشے میں بھی اس وقت کچھ غیر ذمہ دار عناصر موجود ہیں جو ٹی وی سکرینوں پر آکر یا اخباری کاغذ اور قلم کے سہارے خدا خوفی کے بغیر اور ثبوت یا شہادت کی عدم موجودگی میں کسی کی پگڑی بھی اچھال سکتے ہیں ایسے غیر ذمہ دار لوگوں کی وجہ سے موجودہ صحافتی آزادی پر آنچ آ سکتی ہے اللہ کرے ایسا نہ ہو سیاسی قائدین کو بھی چاہیے کہ مختصر گفتگو کریں اور ہر بات سوچ سمجھ کر کہیں کم گوئی اور خاموشی وقار میں اضافہ کرتی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر نکسن نے اپنی کتاب \\\"In The Arena\\\" میں لکھا ہے کہ \\\" ایک قائد یا راہبر کے اسلحہ خانے میں سب سے بڑا ہتھیار جس کا شاید اس کو خود بھی پتہ نہ ہو وہ ’’ خاموشی‘‘ ہے ۔ فرانس کے صدر ڈیگال کا کہنا ہے کہ \\\"Nothing more enhances authority than silence\\\" یعنی خاموشی آپکی شخصیت اور رعب داب میں اضافہ کرتی ہے جبکہ زیادہ بولنے والے انسان کو قد آور نہیں سمجھا جاتا امریکی سابق صدر نکسن نے یہ بھی کہا ہے کہ:
\\\"If actions speak louder than words there are times when silence speaks louder still\\\"
ہمارے معاشرے میں خاموشی بہت بڑی مظلوم ہے اس پر ہم بار بار حملہ کر کے اسے توڑتے ہیں حالانکہ تنہائی میں کچھ دیر بیٹھ کر سوچنے سے ہی ذہن میں نئے تصورات جنم لیتے ہیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں سے ہمیں ہر روز تنہائی کے چند خاموش لمحوںکو ضرور چرانا چاہیے ۔امریکہ کے سابق صدر آیئزن ہاور نے بقول صدر نکسن کبھی بھی کوئی اہم فیصلہ اپنی کابینہ کے جھمگٹے میں نہیں کیا وہ کابینہ، قومی سلامتی کونسل اور قانون دانوں سے صلاح مشورہ ضرور کرتے تھے لیکن پھر وہ وائٹ ہاؤس کے اول آفس سے ملحقہ Quiet Room میں اکیلے بیٹھ کر بہت سار ی ریفلیکشن یا سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرتے تھے۔ صدر نکسن نے بھی اپنی مذکورہ بالاکتاب میں لکھا ہے کہ وہ بھی اہم فیصلے Oval Office کی بجائے اس سے۔ملحقہ لنکن سیٹنگ روم یا کیمپ ڈیوڈ جا کر تنہائی میں کافی سوچ بچار کے بعد کرتے تھے۔
پاکستان کی چالیس سالہ خدمت کے بعد میرا ذاتی تجربہ بھی یہ کہتا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں سے کچھ وقت ضرور علیحدگی میں خاموش ماحول کے اندر مختلف معاملات پر سوچ بچارکرنی چاہیے۔
میں نے زندگی میں بہت سارے اہم فیصلے تنہائی میں واک کرتے ہوئے کیے ۔ میں بھی اپنی بساط کیمطابق لکھنے کا تخلیقی کام زیادہ تر رات کے گیار ہ بجے سے لیکر صبح کے ایک بجے تک یا پھر صبح کی نماز کے بعد سے لیکر سورج طلوع ہونے کے وقت تک کرتا ہوں ۔ ان اوقات میں بچے اور گھر والے سورہے ہوتے ہیں کوئی ٹیلیفون کی گھنٹی نہیں بجتی اور کسی قسم کا شور کانوں تک نہیں پہنچ پاتا ۔ یاد رکھیں شور بھی ایک Pollution ہے جوہمارے ذہنوں پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ کی بستی کو چھوڑ کر خاموش ماحول اور تنہائی کی تلاش میں مکہ کی ویران پہاڑیوں میں واقع غار حرا میں پہنچ جاتے تھے۔ مکہ کی پہاڑیوں کے اوپر کوئی سبزہ یا درخت بھی نہیں اسلیے اس غار کے قریب کسی پرندے کے بولنے کی بھی شایدہی کوئی آواز سنائی دیتی ہو۔ خدا وند تعالیٰ نے ہمار نبی کریمﷺ پر اس خاموشی کے ماحول میں ہی قرآن کریم اور نبوت کے پیغامات سمیت اس کائنات کے لیے سب کچھ نچھاور کیا۔ ایک دانشور نے یہ بھی کہا کہ کچھ کہنے کو نہ ہو تو چپ رہو کیونکہ:
\\\"It is better to remain silent and appear a fool, than to speak and remove all doubts\\\"
یعنی چپ بیٹھ کر بیوقوف لگنا بول کر اپنی بیوقوفی کا ثبوت فراہم کر دینے سے بہتر ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ ’’ انسان زبان کے پردے میں چھپا ہے‘‘ اور ساتھ ہی حضرت علی ؓ کا ایک اور قول قارئین کی نذر کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ’’ہمیشہ سچ بولو تاکہ تمہیں قسم نہ کھانی پڑے‘‘ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ نے تلقین فرمائی تھی کہ \\\" زبان کی حفاظت کرو کیونکہ یہ ایک بہترین خصلت ہے\\\" یہاں یہ بات بھی بہت ضروری ہے کہ اہل علم ، دانشور اور صاحب بصیرت لوگوں کو اپنی دانائی کے موتیوں کو دوسروں میں ضرور بکھیرنا چاہیے۔ اہل دانش لوگوں کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ ’’بات کرو تاکہ پہچانے جاؤ چونکہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے‘‘
قارئین محفلوں میں بیٹھ کر خاموشی کا حصول خاصا مشکل کام ہے اور خراب ملکی حالات ، کرپشن، بے روزگاری، بھوک، قیادت کی بے بسی اور نالائقیوں کی داستانیں سن کر دل ویسے ہی ڈوبنے لگتا ہے اور اس شوروغل سے بھاگ کر ایسی جگہ پر جانے کو دل چاہتا ہے جہاں تنہائی اور خاموشی ہو۔ میں ایسے سکون کی تلاش میں زیادہ تر چکوال شہر سے 35 کلو میٹر دور شمال مشرق میں واقع ا پنے گاؤںبادشاہان چلا جاتا ہوں جہاں میرا گھر آبادی سے تھوڑا باہر ایک ایسی جگہ پر ہے جہاں گھر کی کھڑکیوں سے دور دور تک صرف اور صرف قدرت مختلف پیراہنوں میں نظر آتی ہے۔ علامہ اقبال جب مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کی تگ و دو میں اپنے ہی لوگوں کی نا اہلیوں کی وجہ سے مایوس ہو جاتے یا اس درویش کا اس جھوٹے جہاں سے جی بھر جاتا تو وہ بھی تنہائی کی خواہش کرتے تھے انکی نظم ’’ ایک آرزو‘‘ کے چند شعر قارئین کی نذر کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا…؎
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
ہو ہاتھ کا سرھانا، سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت، خلوت میں وہ ادا ہو