ہاں‘ یہ مکافاتِ عمل ہے

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

’’جو بوئے گا وہی کاٹے گا‘‘ یہ محض ایک محاورہ نہیں بلکہ یہ انسانوں کے معاشرے میں ایک ابدی سچائی کا اظہار ہے انسان کو اپنی زندگی میں قدم قدم پر اس حقیقت سے سابقہ پڑتا ہے اسی کا نام مکافاتِ عمل ہے۔ عقل سوچ کر دنگ رہ جاتی ہے گزرے کل میں مسلم لیگ (ق) سیاسی ’’لوٹوں‘‘ کی سرپرستی کرتے وقت سیاسی اخلاق کی حدوں کو روند کر اسے اپنی سیاسی فتح مندی کا نام دے رہی تھی اور مسلم لیگ (ن) دوہائیاں دے رہی تھی ہمارے ٹکٹ پر ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر کھلی بے وفائی کرنے والوں کو ڈیفکشن کلاز کے تحت نااہل قرار دیا جائے پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رانا ثنا اللہ کی جانب سے ان ’’لوٹے‘‘ ارکان کے خلاف ریفرنس سپیکر پنجاب اسمبلی کے چیمبر سے نکل کر الیکشن کمیشن تک رسائی حاصل نہ کر سکا اس وقت کے سپیکر افضل ساہی کو یہ تسلیم کرنے میں تامل رہا کہ رانا ثنااللہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ہیں جو کسی رکن کے خلاف ریفرنس دائر کر سکتا ہے اور کیونکہ سپیکر اس حوالے سے مطمئن نہ ہو سکے تھے یہاں تک کہ پنجاب اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے دوبارہ پانچ سالہ مدت کا آغاز کر چکی ہے لیکن رانا ثنااللہ کا وہ ریفرنس نئے سپیکر کی آمد کے پیش نظر سابقہ سپیکر کی میز کی دراز سے نکل کر ردی کاغذوں کے ڈھیر میں گم ہو چکا ہو گا۔
آج پھر وہی منظر ہے کردار بدل گئے ہیں پنجاب اسمبلی میں (ق) لیگ کے اپوزیشن لیڈر چودھری ظہیر الدین (ق) لیگ کے ٹکٹ پر (ق) لیگ کے ووٹوں کے ذریعہ منتخب ہونے والی صبا صادق کے خلاف اسی ڈی فیکشن کلاز کے تحت کارروائی کی غرض سے ریفرنس دائر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر آج اس بدلے منظر میں وہ کل کے رانا ثنااللہ نظر آ رہے ہیں اور سپیکر جناب رانا اقبال اپنے طرز عمل سے جناب افضل ساہی کی یاد تازہ کر رہے ہیں اور یہ بڑی دلچسپ بات ہے دونوں ادوار میں صبا صادق ہی مشترکہ کردار ہیں یہ محترمہ 2002ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے مخصوص نشست پر منتخب ہوئی تھیں اور کچھ مدت کے بعد (ق) لیگ میں چلی گئیں جو اس وقت حکمران تھی اور فروری 2008ء کے الیکشن میں (ق) لیگ کے ٹکٹ پر دوبارہ مخصوص نشست پر کامیاب ہونے کے بعد وہ (ن) لیگ میں چلی گئیں جو اب حکمران جماعت ہے اور صورتحال میں کیسی مماثلت ہے کل رانا ثنا اللہ انہیں نااہل قرار دلوانے کی کوشش کر رہے تھے اور چودھری ظہیرالدین ان کا دفاع کر رہے تھے آج چودھری ظہیر الدین انہیں نااہل قرار دلوانے کی تگ و دو کر رہے ہیں اور رانا ثنااللہ
نے ان کے دفاع کا فریضہ سنبھال رکھا ہے اور لگتا ہے جس طرح اس محترم خاتون نے (ق) لیگ کے پانچ سالہ اقتدار کے سائے میں وقت گزارا اور سوشل ویلفیئر کی چیئرپرسن بن کر سرکاری مراعات سے فیض یاب ہوتی رہیں اب ایک بار پھر (ن) لیگ کا ممکنہ پانچ سالہ اقتدار ان پر سایہ فگن رہے گا۔ 18فروری کو ملک میں سیاسی کایا پلٹ گئی مگر اقتدار سے ان کا رشتہ بدستور برقرار ہے صبا صادق کا ذکر ایک علامت کے طور پر ہے اصل بات یہ ہے کہ بے اصولی کے مواقع ملیں گے تو بے اصولی کیوں نہیں ہو گی (ق) لیگ واحد جماعت ہے جسے پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا موقع ملا لیکن اس پوری مدت کے دوران (ق) لیگ کی فردِ عمل میں کوئی ایسی روشن مثال نظر نہیں آتی جو ملک میں سیاسی اداروں کے استحکام اور سیاسی اخلاق کو مضبوط کرنے کا باعث بنی ہو اگر کل (ن) لیگ پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سے (ق) لیگ میں آنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی تو آج کسی کو بھی پارٹی سے بے وفائی کرنے کی جرأت نہ ہوتی حالانکہ (ق) لیگ کو دوتہائی سے زیادہ اکثریت حاصل تھی اور اسے لوٹوں کی ہرگز ضرورت نہیں تھی محض مخالف سیاسی جماعتوں کو زچ کرنے کے لئے سیاسی اخلاق کی پامالی کو نہ صرف قبول بلکہ خود ارتکاب کیا گیا آج پنجاب اسمبلی میں (ق) لیگ جس صورتحال سے دوچار ہے یہ مکافاتِ عمل ہی ہے ایک ازلی و ابدی سچائی ’’جو بوئے گا وہی کاٹے گا‘‘