وکلاء کی تحریک اور حکومت کا رویہ

،وکلا تحریک نے لاہور کنونشن میں پھر ایک مرتبہ اپنے مقاصد و اہداف کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل کا غیرمبہم اعلان کر دیا ہے جس کے اہم ترین نکات حسب ذیل ہیں:
1۔ عدلیہ کی بحالی‘ 2۔ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا 3۔ قانون کی حکمرانی کا قیام 4۔ عوام کو بلا تفریق انصاف کی فراہمی 5۔ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ۔
وکلا تحریک کا یہ لائحہ عمل عوامی جذبات کا ترجمان اور قوم کے دل کی آواز ہے۔ تحریک کے ابتدائی مرحلہ میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی مکمل طور پر وکلا تحریک سے ہم آہنگ ہو کر معزول عدلیہ کی بحالی کیلئے سرگرم تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پراسرار وجوہ سے وہ اپنے منشور سے منحرف ہو گئی۔
پی پی پی کی موجودہ حکومت تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت بڑی واضح ہے کہ پرویز مشرف کی آمریت کیخلاف تحریک کا نقطہ آغاز 9مارچ 2007ء ہے جب ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے فوجی ڈکٹیٹر کی طرف سے لگائے گئے الزامات اور مستعفی ہونے کی پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر عدالت کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ تن تنہا قانون کی بالادستی کا پرچم لیکر اپنے گھر سے باہر نکلا تو پولیس کی دہشت گردی کا نشانہ بنا۔ اس مرحلہ پر پورے ملک کی بار ایسوسی ایشنز حرکت میں آئیں اور وکلا کارواں در کارواں آئین و قانون کے تحفظ کیلئے میدان عمل میں آ گئے۔
سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ساڑھے تین ماہ تک پرویز مشرف کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کی سماعت کی۔ اس نے کروڑوں روپے کے معاوضہ پر ملک کے نامی گرامی وکلاء کی خدمات حاصل کیں لیکن چیف جسٹس پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بھی عدالت میں ثابت نہ کیا جا سکا بلکہ کئی مرتبہ غلط بیانی کی وجہ سے اٹارنی جنرل سمیت مشرف کے وکلا کو ندامت کا سامنا کرنا پڑا اور عدالت عظمیٰ سے معافی مانگنا پڑی۔
بالآخر 20جولائی 2007ء کو سپریم کورٹ کی طرف سے وہ تاریخ ساز فیصلہ سامنے آیا جس نے پرویزی آمریت کے مضبوط حصار میں شگاف ڈال دیا اور جلا وطن قیادت کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔
جب جنرل صاحب نے آرمی چیف کی یونیفارم میں صدارت کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو اس اقدام کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا گیا۔ قوم کو پورا اطمینان تھا کہ عدلیہ آئین اور قانون کیمطابق فیصلہ کریگی۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف نے اسی خطرے کے پیش نظر 3نومبر 2007ء کو ایمرجنسی کے نام پر نیا مارشل لاء لگایا اور بحیثیت آرمی چیف عدالت عظمیٰ کے ساٹھ ججز کو ان کے اہل خانہ سمیت قید کر دیا۔
دنیا بھر کی تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ تھا لیکن وکلا نے پہلے سے بڑھ کر ثابت قدمی کیساتھ اس ظالمانہ اقدام کیخلاف زبردست احتجاجی تحریک کو منظم کیا۔ انہوں نے مار کھائی‘ جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن حکومتی ظلم و ستم اور ترغیب و تحریص کا کوئی حربہ انکے پائے استقلال میں جنبش نہ پیدا کر سکا۔
تب سیاسی قیادت ملک سے باہر تھی اور میدان میں صرف وکلاء آمریت کا مقابلہ کر رہے تھے۔ امریکہ نے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی سے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا کیونکہ پرویز مشرف ملک میں انتہائی نامقبول ہونے کی وجہ Do More کے مطالبات پورے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے تھیچنانچہ جنرل مشرف کے تعاون سے این آر او کی شکل میں ایک معاہدہ کیا گیا جسکے نتیجہ میں آصف علی زرداری کیخلاف ملک اور ملک سے باہر چلنے والے مقدمات کو واپس لیا گیا اور اس طرح محترمہ بینظیر بھٹو وطن واپس آ گئیں۔ وطن واپسی کے دن پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو بم دھماکوں سے اڑا کر ان کو یہ پیغام دیدیا گیا تھا کہ وہ فرماں بردار بن کر رہیں ورنہ نتائج خطرناک ہونگے۔
اس دوران میں شریف برادران واپس پہنچ گئے۔ 18فروری کو عام انتخابات کا اعلان کیا چا چکا تھا اور مشرق نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی وہ تقاریر جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ ہی معزول چیف جسٹس کی بحالی کا وعدہ کیا تھا اور مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو مسترد کر دیا تھا۔ آج تک مختلف ٹی وی چینلز دکھا رہے ہیں۔ اب یہ بات زبان زر خاص و عام ہے کہ محترمہ کو اس ڈیل سے انحراف کے نتیجہ میں راستے سے ہٹا دیا گیا اور آصف علی زرداری سے دوبارہ اس ڈیل کی تجدید کی گئی۔ بہرحال 18فروری کے انتخابات میں عوام نے جنرل صاحب اور ان کی پارٹی کو مسترد کر کے دو بڑی جماعتوں کو حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا جنہوں نیباہمی اشتراک عمل سے کام لیکر ’’اعلان بھوربن‘‘ کا تحریری معاہدہ کر کے عدلیہ کی بحالی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کیمطابق حکومتی امور چلانے کا معاہدہ کیا لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر آصف علی زرداری اپنے تحریری معاہدات سے یہ کہہ کر منحرف ہوتے گئے کہ ’’معاہدات قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘ یہ محض انکی لاعلمی ہے وگرنہ قرآن و حدیث میں وعدوں کے ایفا کرنے کا تکرار کے ساتھ حکم دیا گیا ہے اور درحقیقت معاہدات قرآن و حدیث ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ مسلم لیگ نون نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور اب یہ اختلافات شدت اختیارکرتے جا رہے ہیں۔
وکلاء تحریک کے موجودہ تناظر میں کچھ اور واقعات سے بھی عوام کے غصے اور اشتعال میں اضافہ ہوا ہے جن میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ‘ بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ کمیشن مافیا کا حکومت امور میں موثر عمل دخل‘ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال‘ بھارتی دبائو کے سامنے پسپائی کا عمل‘ اقوام متحدہ میں اپنے خلاف قرارداد منظور کرواتے ہیں۔ دوست ملک چین کی مدد حاصل کرنا جماعت الدعوۃ جیسی رفاہی تنظیم کے ذمہ داران کو بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کرنا۔ اس کے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو سیل کرنا امریکہ کو ڈرائون طیاروں کے ذریعہ قبائلی علاقوں میں حملہ کی اجازت۔ امریکی عہدے داروں کو ہلال قائداعظم کے اعزازات سے نوازنا۔
جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور ان کی صاحبزادی فرح ڈوگر کے اضافی نمبر دیے جانے کے غیرقانونی عمل کی پشت پناہی کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت برا نہ منائے تو یہ حقیقت اس کے سامنے رکھی جا سکتی ہے کہ پیپلز پارٹی گیارہ ماہ کی ’’کارکردگی‘‘ کے نتیجہ میں اس مقام پر آ گئی ہے جہاں پرویز مشرف کی حکومت ساڑھے آٹھ سال کے اقتدار کے بعد پہنچی تھی۔
حالات کے اس تناظر میں وکلا تحریک 9مارچ 2009ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔ ’اے پی ڈیم‘‘ کی جماعتیں اور مسلم لیگ نون اس مارچ کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان بھی کر چکی ہیں اور بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ مارچ ایک بڑی عوامی تحریک اور گرینڈ سیاسی الائنس میں تبدیل ہو جائیگا۔
ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ حکومت معقول مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے اعلان کردہ لانگ مارچ کو کچلنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تحریک ’’پرتشدد مارچ‘‘ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے اور ملک بدترین انارکی اور افراتفری کی لپیٹ میں آ جائے گا اور پھر شاید تحریک کی باگ ڈور کسی کے ہاتھ میں بھی نہ رہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ موجودہ حکومت میں بیٹھے دانشور اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر حالات کا غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے شاید تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود پیپلز پارٹی کے اندر موجودہ انداز حکمرانی کیخلاف نہایت توانا آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ اگر آصف علی زرداری ان آوازوں کو نہیں سن سکتے تو ڈاکٹر بابر اعوان‘ فرزانہ راجہ‘ قمرالزمان کائرہ اور فرحت اللہ بابر جیسے دانشوروں کے کانوں تک یہ آواز پہنچنی چاہئے۔
ان حالات میں حکومت کیلئے بہترین لائحہ عمل یہی ہے کہ وہ عوامی امنگوں کیمطابق عدلیہ کو 2نومبر 2007ء کی پوزیشن میں بحال کرے۔
3نومبر کے اقدامات کو کالعدم قرار دے۔ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ ملک و ملت کے مفاد کا تقاضا ہے کہ ان معاملات کو ’’انا‘‘ کا مسئلہ نہ بنایا جائے… ؎
وہ داستاں جو مصائب میں دفن ہے اب تک
زبان خلق پہ گر آ گئی تو کیا ہو گا