ماں ! تجھے ڈھونڈوں کہاں …؟؟؟

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

29 دسمبر 2008ء کی وہ سرد ترین رات تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے بھاگتے ہوئے آتے دیکھا تو جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس وقت رات کے نو بج رہے تھے۔ میں سات بجے امی کو خدا حافظ کہہ کر گھر آئی تھی اس لئے جب میں دوبارہ نو بجے ہاسپٹل پہنچی تو سامنے سٹریچر پر امی لیٹی ہوئی تھیں اور ان کا سانس چل رہا تھا مگر ڈاکٹر مجھے تعلیم یافتہ اور ایک صحافی سمجھتے ہوئے بڑے رسان سے یہ بتا رہا تھا کہ اب آپ کی والدہ کی سانسیں مشین کے ذریعے چل رہی ہیں وہ جسمانی طور پر گزشتہ آدھا گھنٹے سے ڈیڈ ہیں وہ آدھا گھنٹہ مجھے ساری سچوائیشن سمجھاتا رہا اور میں کبھی لپک کر امی کو چھوتی‘ کبھی اُس کی بات سنتی لیکن میں کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی اور ضد کر رہی تھی کہ امی تو بالکل ٹھیک ہیں۔ دیکھئے ! ان کی سانسیں چل رہی ہیں اور جسم گرم ہے۔ ڈاکٹر نے ایک بار پھر مجھے سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے بے بسی سے دیکھا اور پھر میرے ہوش ٹھکانے آئے کہ میں اپنی زندگی کی سب سے قیمتی اور پیاری ہستی کھو چکی ہوں۔ میں نے ایک بار پھر کسی معجزے کی تمنا میں امی کو چھوا ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ان کی سانسوں کو محسوس کیا اور بے اختیار بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ 20 دسمبر 1946ء کو امی اس دنیا میں آئی تھیں اور 29 دسمبر 2008 ء کو اس دنیا میں صرف 61 سال گزار کر چلی گئیں۔
دنیا کی ساری مائیں ہی اچھی ہوتی ہیں لیکن میں نے جب بھی اپنی ماں کے بارے میں سوچا ہمیشہ عظمتوں محبتوں اور حیرتوں کے باب کھلتے چلے گئے۔ وہ پاکستان وجود میں آنے سے چھ ماہ پہلے انڈیا کے ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئیں۔ میرے نانا محمد عبدالعزیز خان جاگیردار تھے۔ متمول ہونے کے ساتھ نہایت حسین و جمیل اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے اپنے حسن و جمال کی وجہ سے وہ بہت مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔ امی نانا کا ہو بہو عکس تھیں۔ یوسف زئی خاندان تھا جس کی وجہ سے ان کا رنگ روپ مثالی تھا۔ قدرت نے انہیں ایسے ملکوتی حسن سے نوازا تھا کہ جہاں بیٹھ جاتی تھیں‘ چاند کی طرح روشن اور پُرنور لگتی تھیں۔ صحیح ہے کہ جیسی نیت ہوتی ہے ویسی ہی چہرے کی ہئیت ہو جاتی ہے۔ امی کے اندر اس قدر معصومیت‘ سادگی اور بے غرضی تھی کہ میں اکثر کہتی۔ امی آپ کو تو سولہویں صدی میں پیدا ہونا چاہئے تھا۔ اکیسویں صدی میں اتنے تیز چالاک لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی امی کو چالاکی یا بناوٹ نہیں آتی تھی۔ وہ اکثر ایسی باتیں کر جاتیں کہ سننے والے حیرت زدہ رہ جاتے۔ آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ہم پانچوں بہنوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت میں انہی کا ہاتھ تھا۔ ساری دنیا ہم بہنوں کی تعریف کرتی لیکن امی نے کبھی ہماری تعریف نہیں کی۔
بابا ہمیشہ ہم سے ’’آپ‘‘ کر کے مخاطب ہوتے لیکن امی ہمیشہ ہمیں ’’تو‘‘ کہہ کر بلاتیں اور اگرچہ میں مراتب عزت انا کی معاملے میں بہت نک چڑھی ہوں مگر مجھے امی کا یوں ’’تو‘‘ کہنا بہت من بھاتا تھا۔ امی کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ ان کی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ اس لئے جب ہم ڈھائی تین سال کے تھے تو انہوں نے ہمیں پڑھانا شروع کر دیا۔ اُن کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین ہم تھے۔
ایک ماہ گزر چکا ہے اور لوگ نجانے کہاں کہاں سے آتے ہیں اور روتے ہیں۔ لوگ ان کے خلوص‘ سخاوت‘ محبت اور خدمت کی ایسی باتیں بتاتے ہیں کہ ہم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ہمیں زندگی میں سب کچھ مل جائے گا مگر ماں کبھی نہیں ملے گی۔ میں ابھی تک بے یقینی کی حالت میں ہوں اور اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی ہوں۔