قصہ شاہ مدار کے ساتھ ایک انٹرویو کا

کالم نگار  |  خالد احمد

جناب پرویز مشرف ایک طویل عرصے کے بعد ٹی وی سکرین پہ نظر آئے تو ہم چونکے بغیر نہ رہ سکے! سی این این کے اینکر پرسن وولف بلٹز ان سے ویسے ہی سوال کررہے تھے‘ جیسے سوالات وہ جناب آصف علی زرداری سے بھی پوچھ چکے تھے اور وہ ان کے سوالات کے جوابات مہیا کرتے کرتے اپنی بات اتنی بار بدلتے دیکھے گئے کہ ہم جیسے ان پڑھ‘ اجڈ اور گنوار کالم نگار بھی مسکرا کر رہ گئے۔
جناب پرویز مشرف کا ایک فقرہ تو تمام پاکستانی چینلز نے بھی دکھایا: ’’افراد کے بدلے سے پالیسیاں نہیں بدلہ کرتیں‘‘ شاید یہ وہ پیغام تھا جسے عوام کی ہمت پست کرنے کیلئے عوامی تشہیر کی سان پہ چڑھانا ضروری تھا! حالانکہ اس انٹرویو کے دوران اور بہت سی باتیں بھی ہوئیں‘ مثلاً جناب پرویز مشرف نے فرمایا: ’’نئے امریکی صدر براک اوباما جانتے ہیں کہ انہیں اپنے آئندہ چار برس کے دوران کیا کرنا ہے۔ مجھے انہیں مشورہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں‘ تاہم یہ توقع ضرور کی جاسکتی ہے کہ صدر اوباما ناانصافیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے عالمی تنازعات کا ’’سیاسی حل‘‘ نکالنے کی کوشش کریں گے کیونکہ انہی ناانصافیوں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کیلئے راستہ ہموار کیا ہے۔
جناب پرویز مشرف نے یہ بھی کہا: ’’ڈرون حملوں سے پاکستان میں کوئی بھی خوش نہیں!‘‘ نیویارک ٹائمز کے جناب ڈیوڈ کی کتاب کے حوالے سے اٹھائے گئے سوال میں وولف بلٹز نے کہا کہ اس کتاب کے مصنف کے مطابق صدر بش کی جانب سے صدر مشرف پر انحصار ایک بنیادی غلطی تھی‘ ’’آپ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا کہیں گے؟‘‘ جناب پرویز مشرف اس سوال پر انتہائی سخت لہجے میں گویا ہوئے اور فرمایا: ’’میں کتاب کے مصنف سے متفق نہیں‘ انہیں زمینی حقائق کا علم ہی نہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمارے پندرہ سو سے زیادہ فوجی جوان اور افسر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے‘ ہماری فوج نے چھ سے زائد ’’القاعدہ کارکن‘‘ گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کئے‘ ہماری فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کئے‘ خود مجھ پر خودکش حملے ہوئے‘ لہٰذا جو کوئی کہتا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا‘ وہ حقائق سے لاتعلق اور لاعلم ہے!‘‘
جناب پرویز مشرف نے پاکستان کی خدمت میں پیش کئے گئے 10 ارب ڈالر کا حساب بھی چکتا کردیا: ’’10 ارب ڈالر میں سے 5 ارب ڈالر سروسز اور سہولیات وغیرہ کی فراہمی کی مد میں ادا کئے گئے لہٰذا یہ امداد میں شامل نہیں کئے جاسکتے! باقی رہ گئے 5 ارب ڈالر تو ان میں سے ڈھائی ارب ڈالر ہمارے ’’فوجی آلات‘‘ اور ’’وسائل‘‘ وغیرہ پر استعمال ہوئے جبکہ باقی ڈھائی ارب ڈالر سماجی شعبے کی ترقی پر خرچ ہوئے! اللہ اللہ خیر سلاّ اور جناب پرویز مشرف ہاتھ جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے ’’امریکہ نے افغانستان میں 1 کھرب 43 ارب ڈالر اور عراق میں 10 کھرب ڈالر خرچ کئے!‘‘
گویا‘ 10 کھرب ڈالر کسی تیل پیدا کرنے والے ملک کی آزادی کی قیمت ہے جسے جناب جارج بش نے قومی خزانے سے ڈک چینی کے کے کاروبار میں وسعت پیدا کرنے کی غرض سے خرچ کردیا اور یوں یہ حساب بھی چکتا ہوگیا!
جناب جارج بش کیلئے جناب پرویز مشرف کی کتاب کے بعد جناب پرویز مشرف کا یہ انٹرویو ’’مرے پر سو دُرّے‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جناب جارج بش پر یہ بجلی کب گرتی ہے؟ کیونکہ نیویارک ٹائمز اور نیویارک ٹائمز کے مسٹر ڈیوڈ بھی‘ اس انٹرویو کے حوالے سے کچھ نہ کچھ تو کریں گے! کیونکہ وولف بلٹز نے جناب پرویز مشرف کے نام محترمہ بے نظیر بھٹو کی ای میل کا تذکرہ کرتے ہوئے پوچھا تھا‘ ’’یوں بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر آپ پر بھی عائد ہوتی ہے؟‘‘ تو جناب پرویز مشرف نے فرمایا تھا‘ اس ’’مسئلے‘‘ پر بہت ’’الجھاوا‘‘ یا کنفیوژن (Confusion) پایا جاتا ہے! میں بس اتنا کہوں گا کہ اس الجھاوے میں میرے ’’کردار‘‘ کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے‘ میں اس سے متفق نہیں ہوں اور میں اس مسئلے پر کچھ اور کہہ کر اس کو مزید ’’الجھانا‘‘ نہیں چاہتا۔
اللہ بہتر جانتا ہے کہ افغانستان میں خرچ کیا جانیوالا ایک کھرب 43 ارب ڈالر کا سرمایہ صرف بحیرۂ کیسپین سے حاصل ہونیوالا ’’تیل‘‘ پاکستانی بندرگاہ پسنی کے راستے بازار تک لانے پر خرچ ہوا ہے یا‘ یہ راستہ ’’محفوظ‘‘ رکھنے اور ’’رائلٹی کی رقم‘‘ نہ بڑھانے کیلئے خرچ کیا گیا ہے! یا‘ یہ سرمایہ ’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘ پر اٹھایا گیا ہے! صدام حسین ’’تیل کیلئے قوانین‘‘ کی منظوری کے اگلے روز پھانسی پر چڑھائے گئے یا ’’وقوفِ عرفات‘‘ کی دھلی رات کی صبح! ہم کیا جانیں؟ بقول جناب خورشید رضوی…؎
کبھی کبھی ہم ایسے باتیں کرتے ہیں
جیسے نیند میں بچے باتیں کرتے ہیں