جنگی بخار … (آخری قسط)

صحافی  |  معین باری

بھارت کی عسکری صلاحیتیں بھی پہلے سے کئی گنا ہوگئیں لیکن بھارتی عقابوں کا دیرینہ خواب اور دائمی بخار ’’اکھنڈ بھارت‘‘ نہ اتر سکا۔ وہ اپنے دوستوں سے مل کر پاکستان کو توڑنے کی سازشیں کرتے رہے۔ اسرائیل روس کے بعد امریکہ سے دفاعی اور ایٹمی معاہدے ہوئے۔ کرزئی دور میں بھارت نے افغانستان میں خفیہ ایجنسیوں کا جال بچھانا شروع کیا۔ ’’افغانستان میں بھارت نے درجنوں قونصلیٹ کھول رکھے ہیں جہاں سے پاکستان کیخلاف خفیہ انٹیلی جنس آپریشنز کنٹرول کئے جاتے ہیں۔ قندھار کے سرحدی انٹیلی جنس مرکز سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے خفیہ انٹیلی جنس آپریشنز کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ سروبی کے سرحدی مرکز سے صوبہ سرحد میں خفیہ آپریشنز کئے جاتے ہیں۔ سروبی ہیڈ کوارٹر کو بھارت اور امریکی مل کر چلاتے ہیں۔ ایک بھارتی جنرل اس خفیہ ادارے کا انچارج ہے۔ افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کے ہمراہ دس ہزار بھارتی فوج کی موجودگی کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ امریکہ و بھارت کے سٹریٹجک پارٹنرشپ کا حصہ ہے۔ پاکستان دونوں طاقتوں کا ہدف ہے‘‘۔ دانشوروں کا تجزیہ ہے کہ امریکہ دوستوں سے ملکر ساحل مکران بلوچستان اور صوبہ سرحد کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔پاکستان میں اتحادیوں کے اہداف دو ہیں۔ ایٹمی تنصیبات اور مسلح افواج‘ گریٹر بلوچستان‘ پختونستان اور سندھو دیش ہدف ثانی ہیں۔ کنڈولیزارائس نے چند ہفتے پیشتر اشارہ دیا تھا کہ ’’پاکستان کی نیوکلیئر تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ہمارے پاس آپشنز ہیں جنہیں جلد بروئے کار لایا جائیگا۔ یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ اتحادی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔
نیویارک کی خبر ’’اگر بھارت پاکستان پر حملہ کر دیتا ہے تو افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈوز پاکستان پر حملہ کر کے اسکی جوہری تنصیبات کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ امریکی کمانڈوز کو اس مقصد کیلئے خصوصی تربیت دی گئی ہے اور وہ اس طاق میں پوزیشنیں سنبھالے بیٹھے ہیں۔ یہ انکشاف امریکی مصنف کی کتاب The Inheritance میں ڈیوڈ سنگیر نے کہا ہے۔ مصنف لکھتا ہے ’’پاکستانی فضائیہ نے اس حد تک اپنے آپکو مضبوط بنا لیا ہے کہ بھارت کے اندر جاکر بہت دور تک اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ آپکا میزائل پروگرام اس حد تک جدید ہے کہ کئی ممالک سے پاکستان آگے ہے۔ میزائل اتنے کارگر اور طاقتور ہیں کہ مشکل وقت میں وہ پاکستان کو محفوظ بنا سکتے ہیں‘‘۔ (نوائے وقت 11 جنوری)
چند دن پیشتر قارئین نے ٹی وی پر سٹرپ چلتی دیکھی ہوگی کہ ’’امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مولن حکمرانوں پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ اگر بھارتی فضائیہ آزاد کشمیر یا لاہور میں کہیں آپریشن (Surgical Strikes) کرے تو اس میں کوئی مداخلت نہ کی جائے۔ خبر ہے کہ صدر مملکت نے جنرل کیانی کو مشورہ کیلئے بلایا۔ انہوں نے تجویز ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہر بھارتی حملہ کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا‘ جس سے بھارتی نیتائوں کی جنگی ٹون بدل گئی لیکن بھارتی فوج کے سیناپتی جنرل دیپک کپور نے 14 جنوری بیان میں پاکستان کو ملٹری آپشن کی دھمکی دی ہے۔ بھارتی جرنیل کا پاکستان سے جنگ کرنے کا یہ بیان معنی خیز ہے اس لئے کہ بھارتی جرنیل کبھی سیاسی بیان نہیں دیتے۔ امید ہے پاکستانی حکمرانوں نے بھارتی سیناپتی کی زہرافشانی کا نوٹس لیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے غزہ میں سیز فائر کے بعد اسرائیلی فارغ ہو کر کوئی شرارت کرائیں۔ جب دونوں اطراف فوجیں جنگی مورچوں میں چلی جائیں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے حکمران سیاسی‘ مذہبی‘ لیڈر‘ وکلائ‘ صحافی‘ دانشور متحد ہوجائیں۔ حکمران آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور قوم کو بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کریں۔ غیرملکی دوستوں میں اضافہ اور نوجوانوں کو جنگی تربیت دیکر دفاع کیلئے تیار کیا جائے۔ فیلڈ مارشل منٹگمری History war fare میں لکھتا ہے ’’شکست اس فوج کا مقدر بن جاتی ہے جس کے اندر سے جارحانہ روح سلب کر لی جائے اور جو نفسیاتی طور پر غیرمتحرک دفاعی پالیسی اپنا لے‘‘۔ امن معاہدے جنگ کو قلیل عرصے کیلئے ملتوی تو کر سکتے ہیں روک نہیں سکتے۔ امن تبھی قائم رہ سکتا ہے جب دشمن اور اپنی افواج کے درمیان طاقت کا توازن برقرار رہے۔
جنگی ایام میں پاکستانیوں پر ایسا وقت آسکتا ہے جب ملکی سلامتی کیلئے انہیں ایسا ہتھیار استعمال کرنا پڑے جس کی تباہی کے تصور سے دل کانپ جاتا ہے۔ کیا ملے گا بھارتی نیتائوں کو جب دونوں اطراف لاکھوں انسانوں کی لاشیں اور زخمی بکھرے پڑے ہونگے انہیں دفنانے اور جلانے والے نہ ہونگے۔ بھارتی فوج کے سابق سیناپتی جنرل سندرجی نے اپنی کتاب Blind men of India میں ٹھیک لکھا ہے کہ بعض بھارتی لیڈر کتنے مورکھ ہیں جو ایٹمی پاکستان سے جنگ چاہتے ہیں۔
اوباما کے صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی وزیرستان پر میزائل حملے‘ بش کے وزیر دفاع بل گیٹ کا نئی امریکی کابینہ میں اسی عہدہ پر فائز رہنا‘ منموہن سنگھ کی بیماری اور بھارتی ہندو عقاب پرناب مکھرجی کا قائمقام وزیراعظم بننا‘ بلوچستان کی علیحدگی میں بھارتی ’’را‘‘ کے ایکٹورول کا انکشاف‘ بھارتی دہشت گرد تنظیم کی پاکستانی ہائی کمشنر کو ای میل کہ ’’پاکستان کو خون میں نہلانا چاہتے ہیں‘‘ تین دن میں پاکستان چھوڑ دو‘ ورنہ قتل کر دینگے‘ سوات اور وزیرستان میں باغی سرداروں کو بھارتی و دیگر غیرملکی جدید گولہ بارود اور اسلحہ کی فراہمی اور فوجیں جنگی مورچوں میں… یہ تازہ ترین حالات میں حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ بھارت سے ہمیں کسی خیر کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ بھارت کا جنگی بخار تبھی نارمل ہو سکتا ہے اگر پاکستانی لیڈر شپ دشمنوں کے پائوں چھونے کے بجائے مجاہدانہ روش اختیار کرے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھے۔