تمہارے ہل ہمارے حل

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

یہ ملک زرعی ہے‘ ہم کسانوں کے شکر گزار ہیں کہ تمہارے ہل نہ رکیں ورنہ ہمیں دانۂ گندم نصیب نہ ہوگا۔ کسان کا ہل کبھی ناکام نہیں ہوا اُس نے جب بھی بیج ڈالا خوشۂ گندم نمودار ہوا اور ہمارے حل‘ ایسے کہ مسائل دئیے‘ حل نہ دئیے۔ ساٹھ برسوں سے ہل ہے اور حل کوئی نہیں۔ اگر ہل ہی پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ ملک آٹا تو کجا کسی بھی چیز کی قحط یا گرانی کا شکار نہ ہوتا یہ مسئلۂ کشمیر جو حل ہی نہیں ہوتا اس لئے کہ ہم نے حل پر جتنی توجہ دی ہل پر اتنی توجہ نہیں دی۔ وگرنہ یہاں ڈیم بنتے‘ پانی کی اور بجلی کی فراوانی ہوتی اور ہم خوشحالی کے اُس نقطے پر ہوتے جہاں سے مسئلۂ کشمیر کا حل دو قدم ہے ہمارے پاس جوہری قوت کے سوا کوئی کوئی غلبہ موجود نہیں اور بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں دی گئی مدت سے فائدہ اٹھایا جب ہم نے اس مدت کو ضائع کر دیا جو ہمیں دی تھی۔ وقت نہ یہ ثابت کیا ہے کہ ہم نصف سے زائد سنچری تک حل ڈھونڈتے رہے کشمیر کے بھی‘ اپنی ناتوانیوں کے بھی مگر ہمارے ہاتھ حل نہیں آیا اور ہل جس طرح کے حالات بھی ہیں چل رہے ہیں۔ اگر ہم نے زراعت کو ایک صنعت بنایا ہوتا تو جدید ہل بھی ہوتے اور مسائل کے حل بھی‘ آج ہم سے صنعت و حرفت بھی گئی اور ہل اس قابل نہ رہنے دیا کہ اپنے ملک کو تو کیا دوسرے ملکوں کو بھی گندم برآمد کرتا‘ کسان دہقان کی حالت تو دیکھیں کہ ’’دہقان ہے کسی قبر کا اُگلا ہوا مردہ‘‘ دیہات ہم نے اتنے اُجاڑ دئیے کہ وہ شہروں میں بس گئے اور شہر اتنے بھر گئے کہ وہ اکثر کسانوں کو بھی کھا گئے ۔ بھارت نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ہماری زمینوں کو بنجر بنانے کی سو وہ اس میں ناکام نہیں اور ہم دانے دنکے کے حصول میں بھی کامیاب نہیں۔ ابھی اگر ہم اپنی زمینوں کو سنوارنے اور کاشتکار کو ابھارنے پر لگ جائیں تو یہ معیشت اتنی بہتر ہو جائے کہ اس سے زیادہ موثر کوئی اسلحہ ہمارے پاس نہ ہو بشرطیکہ ہمارے پاس پانی ہو اور پانی پر شریمان نے بھارت جی نے یہ سوچ سمجھ کر کہ پاکستان کو ریگستان بنانا ہے ہمارے پانی پر براستہ کشمیر قبضہ کر لیا ہے جسے وگزار کروانا ضروری ہے ورنہ ہمارے حل ہمیشہ مذاکرات اور کمیٹیوں کمیشنوں کی نذر ہوتے رہے اور ہل جیسے بھی تھے ہماری عدم توجہی کے باوجود چلتے رہے‘ اسی لئے ہمارے حل نام کے اور ہل کام کے رہے۔ ہم حل تلاش ہی کرتے رہے اور ہمارے ہل ہمیں ڈھونڈتے رہے۔ پاکستان کی سرزمین سونا رکھتی ہے ‘ مگر اُسے سونا اگلنے کا موقع نہ دیا گیا‘ کسان کامیاب رہے ہم ناکام پھرے‘ اس زمین میں گیس‘ تیل اور قیمتی پتھروں جواہر کی کمی نہیں ساٹھ برسوں میں اتنا بھی نہ سمجھے کہ حل تو ہل میں پوشیدہ تھے‘ ہم انہیں کل میں تلاش کرتے رہے اور یوں اتنا عرصہ کل اور کل کی نذر ہوتا رہا۔ آج ہمسایہ ملک نے کسان کو کھاد‘ بجلی مفت مہیا کر رکھی ہے اور جائیں دیکھیں کہ بھارت کی بنجر زمین لہلہاتی فصلوں سے آباد ہے ہم نے صرف اور صرف تعیش کو شعار بنایا ‘ غربت نے ہمیں شکار بنایا‘ ہم اس وقت جو بڑی غلطی کر رہے ہیں وہ کسان کی طرف توجہ نہ دینا ہے‘ اگر ہم اپنے دیہات دلکش بناتے تو یہ شہر ہمارے یوں لبریز نہ ہوتے‘ کشمیر جنت نظیر ہماری زمینوں کے پانیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کو ہم نے کھو دینے پر زور لگا رکھا ہے جب تک شہ رگ کو چھڑوانے کی کوشش نہیں کریں گے جہاد کو زندہ نہیں کریں گے۔ ہمارے کھیت ریگستان بن جائیں گے بلکہ بن رہے ہیں۔ امریکہ اس سلسلے میں بھارت کی مدد کر رہا ہے اور ہم اس کی جنگ لڑ کر چند ڈالرز وصول کر کے خوش ہیں وہ بھی اپنی تجوریوں کیلئے‘ اب قوم اٹھے‘ حکمرانوں پر نہ بیٹھی رہے 1.6 کروڑ عوام امریکہ سے اجتماعی مطالبہ کریں کہ وہ پاکستان کو شارع عام نہ بنائے‘ حکومت اگر کہیں ہے تو جدید ترین زراعت کی منصوبہ بندی کرے‘ حل کو چھوڑے کہ بہت ہو چکی اُسے ڈھونڈنے کی‘ اب ہل پر توجہ دے‘ ہمارے زرعی سائنسدان کسی سے کم نہیں‘ نئے بیج دریافت کر سکتے ہیں‘ ایک ایکڑ سے دس ایکڑ کی فصل اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ہماری فصل بہتر ہوگی تو ہماری اصل بھی بہتر ہوگی‘ ہم اپنے نظریے کی حفاظت بھی کر سکیں گے۔ مگر ہم کو سب سے پہلے پانی کا بندوبست کرنا ہوگا‘ کالا باغ ڈیم ہماری زراعت اور بجلی کو چار چاند لگا سکتا ہے‘ اس کی فزیبلٹی تیار ہے‘ بس زمین کھودنے کی دیر ہے۔ ہم فلسفوں اور رائیگاں حل تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ کریں‘ امریکہ نے پہلے اپنی زراعت کو سنوارا پھر ٹیکنالوجی کی طرف آیا اور سپرپاور بن گیا۔ کشمیر کے مسئلے کو ساری دنیا نے نہ صرف متنازعہ مان لیا ہے بلکہ اُسے دنیا کیلئے خطرناک بھی قرار دیا ہے۔ لوہا گرم ہے‘ اب چوٹ لگانے کی ضرورت ہے‘ ہمارے دریائوں میں پانی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے‘ وجہ صرف یہ ہے کہ بھارت نے ان پر اب تک 62 ڈیم بنا لئے ہیں اور مزید بنا رہا ہے۔ اب کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے اس کیلئے ہمیں حل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ایکشن کرنے کی ضرورت ہے‘ کیوں کہ جب کوئی چیز آپ کی زندگی کیلئے ضروری ہو جائے تو اس کے حصول کیلئے کچھ بھی کرنا روا ہے۔ بھارت اتنا بہادر نہیں جتنا اُس نے اسلحہ اکٹھا کر رکھا ہے مسئلہ مشکل نہیں ایک نعرۂ مستانہ لگانے کی ضرورت ہے۔ بہرصورت ہم پھر کہیں گے اے کسان تمہارے ہل جیت گئے ہمارے حل ہار گئے۔