بیگم رقیہ مجید

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

مسز رقیہ مجید جو سرگودہا میں ڈویژنل انسپکٹر ہیلتھ سروسز رہی ہیں‘ محکمہ صحت میں انتہائی محنت‘ خلوص اور دیانتداری سے کام کیا اور تمام زندگی اس شعر کے مصداق گزاری دی
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش ِ بریں پر
مسز رقیہ مجید ہمارے عزیز ترین دوست اور رفیق کار پروفیسر راجہ مجید صاحب کی بیگم تھیں۔ پروفیسر راجہ مجید صاحب کے ساتھ گورنمنٹ کالج سرگودہا میں ایک طویل عرصہ مصاحبت رہی۔ پروفیسر راجہ مجید صاحب گورنمنٹ کالج سرگودہا کے مقبول ترین‘ انتہائی محنتی‘ دیانتدار اور نظریہ پاکستان کے مویّد رہے۔
ڈاکٹر اگر ہمدرد اور مخلص ہو تو مریض کی آدھی بیماری ایسے ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ یہی کیفیت مسز رقیہ مجید میں تھی کہ اپنے پلے سے غریب اور نادار مریضوں کا علاج بھی کرتی تھیں اور خیرات کا سلسلہ الگ جاری و ساری رہا۔ مجھے کل کی طرح یاد ہے کہ ہر ماہ بے شمار نادار خواتین و
حضرات اور یتیم بچوں کا وظیفہ لگا رکھا تھا۔ ان کی وفات حسرت آیات پر جس طرح سرگودہا کے عوام کو دکھ اور افسوس پہنچا‘ وہ بیان سے باہر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بھی اعلیٰ پیمانے پر سرانجام دی اور آج وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ محترم راجہ مجید صاحب اکثر بتایا کرتے کہ ان کی بیگم اتنی دیندار‘ پرہیزگار
اور تہجد گزار ہیں جسے وہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم سمجھتے تھے۔ کمال یہ ہے کہ اپنی دفتری اور شعبہ جاتی امور کی مصروفیات کے باوجود اپنے گھر میں غریب اور نادار اور محلے کے بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے کا فریضہ بھی انجام دیتی تھیں۔ یہ سب کچھ انتہائی حیرت والا معاملہ تھا کہ وہ اس طرح کیسے کر لیتی تھیں۔ ایسے لوگ زندہ روح اور بیدار شخصیت کے مالک ہوتے ہیں لیکن مسز رقیہ مجید (مرحومہ) کو حضور پاکؐ سے جو عشق تھا وہ ساری زندگی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ ایسی ہستیاں تاریخ میں کم کم ہی پیدا ہوا کرتی ہیں جو اپنے خاندان کے لئے دوسروں کے لئے اور اپنے محکمے کے لئے باعث برکت و فیض ہوا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔