اوبامہ بش کے انجام سے سبق حاصل کریں

صحافی  |  عمرانہ مشتاق

بش کا رخصت ہونا اور اوباما کا وائٹ ہائوس میں در آنا پوری دنیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ امریکہ کے کالے صدر نے آتے ہی عالمی منظر نامے پر تیزی سے بدلتی ہوئی صور تحال کیبارے میں اپنے پہلے خطاب میں اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک سے بہتر تعلقات کا جو عندیہ دیا ہے اس میں پاکستان کے حوالے سے ابھی تک بش ہی کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اشارہ ملتا ہے۔ عراق سے فوجیوں کا انخلا اور افغانستان میں زر و زر کا استعمال اور فوج کا اضافہ یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ افغانستان سے امریکہ کیا نکالنا چاہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ روس کی منصوبہ بندی کے سامنے اپنی پیش بندی کر رہا ہے اور چین کی قوت سے وہ خبردار بھی اور باخبر بھی دونوں محاذوں پر امریکہ کی موجودہ پالیسی بھی وہی رہے گی بش نے جو طرز ایجاد کی تھی جس طرح پاکستان کے جانے والے صدر مشرف کا وجود ابھی تک ایوان صدر میں موجود ہے اور اس کی پالیسیاں بدستور چل رہی ہیں۔ اس طرح امریکہ میں جو تبدیلی رونما ہوئی ہے وہ بھی چہرہ بدلا گیا ہے۔ پہلے سفید چمڑی والا تھا اب کالی چمڑی والا ہے۔ بش کی کابینہ کی وزیرخارجہ کالی تھی اس کالے صدر اوبامہ کی وزیر خارجہ سفید ہے۔ گورے اور کالے کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے یہ بات ہمارہے پیغمبر اسلامﷺ نے خطبۃ الوداع میں کہہ دی تھی۔
پاکستان کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ اس کیلئے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی معذرت خواہانہ پالیسیوں کو بدلنا ہو گا۔ امریکی ترجمان اور وہاں کے سیکرٹری انڈر سیکرٹری جس طرح سابق دور میں اپنی برتری ثابت کرتے رہے ہیں۔ اب ایسا نہیں ہونا چاہئے۔
عالمی منظر نامہ پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے عقب میں جو منصوبہ ساز ذہن ہے وہ یہودی اور صہیونی کا ہے۔ ان کے سامنے اوبامہ بے بس ا ور اس کی کابینہ لیکر کی فقیر ثابت ہو رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کا اعلان کرنے والے اوبامہ نے مظلوم کشمیریوں کے لئے کوئی خاص بات نہیں کی اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ بش کے کارناموں سے سبق سیکھنے کی بجائے مزید کسی امتحان میں دنیا کو نہ ڈال دے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات پر زور دیتے ہوئے اوبامہ نے اس کے سارے ڈانڈے افغانستان سے ایران اور پاکستان کی حدود تک محدود کرتے ہوئے ان ملکوں کو ہی ہدف بنایا ہے۔ بارک حسین اوباما بش کے انجام سے عبرت پکڑے اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پیدا کرے اس سے نہ صرف وہ امریکہ کی تاریخ میں اپنا نام زندہ رکھے گا بلکہ دنیا بھی اسے اچھے لفظوں سے یاد رکھے گی۔