کیا مزاحمتی سیاست میں خواتین زیادہ سخت گیر ہیں؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
کیا مزاحمتی سیاست میں خواتین زیادہ سخت گیر ہیں؟

پاکستان کی جمہوری سیاست کے سورج کو گرہن لگنے سے بچانے کے لئے مزاحمتی سرگرمیوں کی لسٹ لمبی ہے۔ جمہوری سیاست کے حقوق کی سربلندی کے لئے مزاحمتی جدوجہد کا آغاز لیاقت علی خان کے دور سے ہی ہوگیا تھا جب تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کرنے والے مشرقی پاکستان کے کچھ اہم رہنمائوں کو پہلی کابینہ میں نظرانداز کردیا گیا۔ گزشتہ 70 برسوں میں سیاسی مزاحمتیں مارشل لائی ڈکٹیٹروں، سِول ڈکٹیٹروں اور سِول حکومت کی موجودگی میں پس پردہ طاقتوں کے خلاف کسی نہ کسی صورت میں جاری رہی ہیں۔ اِن سیاسی مزاحمت کاروں میں اہم اور بڑے نام شامل ہیں جنہوں نے سڑکوں پر پولیس کے ڈنڈے کھائے، آنسو گیس پر آنسو بہائے، جیل کی دیمک زدہ کوٹھڑیوں میں دن رات گزارے، سرکاری تشدد کے دوران معذور ہوئے اور سیاسی نااہلیت کا پروانہ بھی وصول کیا۔ ان سب میں اہم ترین نام ذوالفقار علی بھٹو کا ہے جن کی جیل کال کوٹھڑی سے ہوتی ہوئی پھانسی گھاٹ پر ختم ہوئی۔ دوسرا نام نواز شریف کا آتا ہے جنہیں چودہ ماہ تک قلعے کی کالی سرنگوں میں رکھا گیا اور عدالتی پیشیوں کا ہوائی سفر زنجیروں میں جکڑ کر کرایا گیا۔ ان دو جمہوری وزرائے اعظم کے علاوہ مثلا کچھ دوسرے نام حسین شہید سہروردی، مولوی تمیز الدین، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی محمود، مصطفی کھر اور ولی خان وغیرہ بھی ہیں جنہوں نے طاقتور فیصلوں یا طاقتور حکمرانوں کو کسی نہ کسی حوالے سے چیلنج کیا لیکن اس لمبی فہرست کی شخصیات میں دو باتیں مشترک ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ سب کے سب کبھی نہ کبھی براہِ راست یا بلاواسطہ طاقتور اداروں کے مرہونِ منت رہے۔ مثلاً ذوالفقار علی بھٹو اپنی سیاست کی انٹری کے دوران ایوب خان کو اپنا سیاسی ڈیڈی کہتے تھے اور نواز شریف بھی جنرل ضیاء الحق کی سیاسی اولاد ہیں۔ دوسری مشترک بات یہ کہ مزاحمت کاروں کی اس فہرست میں سب کے سب مَرد ہیں جبکہ غور کیا جائے تو پاکستان کی سیاسی مزاحمت کاری میں خواتین کے نام بھی کم تعداد کے باجود اتنی ہی شان و شوکت والے ہیں۔ خواتین سیاسی مزاحمت کاروں میںمثلا چند نام نصرت بھٹو، عاصمہ جہانگیر، بیگم نسیم ولی خان، کلثوم نواز ، شیری رحمان، فہمیدہ مرزا، بیگم نجمہ، طاہر ہ اورنگزیب، کشور زہرہ، خوش بخت شجاعت، بشریٰ گوہر، سمیعہ راحیل قاضی، تہمینہ دولتانہ اور شہلا رضا وغیرہ کے ہیں۔ یہاں ایک بات غور طلب ہے کہ پہلی مرتبہ زیادہ تعداد میں خواتین سیاسی مزاحمت کار جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران سامنے آئیں۔ اُس کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی خواتین سیاسی مزاحمت کاروں کو بڑی تعداد میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم اب خواتین سیاسی مزاحمت کار تقریباً ہر پارٹی کے اندر موجود ہیں وہ بعض اوقات جمہوری سیاست کو چیلنج کرنے والوں کو چیلنج کرتی نظر آتی ہیں اور بعض اوقات اپنی ہی پارٹی کے اندر غیرجمہوری شخصیات کو بھی چیلنج کرنے سے باز نہیں آتیں جس کی حالیہ مثال پی ٹی آئی کی عائشہ گلالئی ہیں۔ خواتین سیاسی مزاحمت کاروں میں دو باتیں مشترک ہیں وہ یہ کہ ان میں سے تقریبا کسی کی بھی پیدائش براہِ راست یا بلاواسطہ طاقتور اداروں کی گود میں نہیں ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ ان خواتین سیاسی مزاحمت کاروں نے اپنی مزاحمت کاری میں کبھی کوئی لچک نہیں دکھائی۔ اس بنیاد پر انہیںسخت گیر مزاحمت کار کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی مزاحمت کاری کی خاتونِ اول محترمہ فاطمہ جناح ہیں جنہوں نے طاقتور ترین سربراہ جنرل ایوب خان کو براہِ راست چیلنج کیا اوراپنے موقف میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی۔ دوسری بڑی سیاسی مزاحمت کار خاتون بینظیر بھٹو ہیں جنہوں نے اپنی جوانی میں ہی طاقتور ترین سربراہ جنرل ضیاء الحق کو للکارا۔ بینظیر بھٹو کے سینے پر یہ تمغے بھی سجے ہیں کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے بعد دوسرے مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو بھی آہنی ہاتھوں سے لیا۔ اس کے علاوہ اپنی سیاسی زندگی کے دوران انہوں نے سِول ڈکٹیٹروں اور سِول حکومتوں کی موجودگی میں پس پردہ طاقتوں کو بھی آنکھیں دکھائیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی دونوں حکومتوں کے دوران بھی روایتی خفیہ ہاتھوں سے خوب پنجہ آزمائی کی۔ ملک کی دونوں بڑی قومی سیاسی جماعتوں میں سے پیپلز پارٹی کی مستقبل کی قیادت بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ہے جبکہ تجزیہ کیا جائے تو اُن کی بہن آصفہ بھٹو کا مزاج سیاسی مزاحمت کاری کے حوالے سے اپنی والدہ کی طرح زیادہ مزاحمتی محسوس ہوتا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کی قیادت کا ہار مریم نواز کے گلے میں ڈالا جا رہا ہے۔ دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن میں پہلی خاتون سیاسی مزاحمت کار کلثوم نواز ہیں۔ ان کے مزاج میں بھی دوسری جماعتوں کی سیاسی مزاحمت کار خواتین کی طرح مضبوطی تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی قید میں موجود اپنے شوہر نواز شریف کو رہائی دلوانے کے لئے سخت گیر مزاحمت کی۔ مریم نواز بھی اپنی والدہ اور دوسری جماعتوں کی سیاسی خواتین مزاحمت کاروں کی طرح اس معاملے میں غیرلچکدار محسوس ہوتی ہیں جس کا اظہار انہوں نے اپنے والد نواز شریف کی نااہلی کے بعد اور خاص طور پر حلقہ این اے 120 میں اپنی والدہ کلثوم نواز کی انتخابی مہم کے دوران سیاسی بیانات اور انٹریوز میں کیا۔ اُن کی مزاحمت کاری کے خالص مزاج سے خوف محسوس کرتے ہوئے ہی انہی کی پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے مریم نواز کو محتاط گفتگو کی نصیحت بھی کی۔ سیاسی جماعتوں میں نمبر وَن پوزیشن پر آکر قومی انتخابات کے ذریعے ملکی سربراہی کا انتخاب لڑنے والی دونوں خواتین محترمہ فاطمہ جناح اور بینظیر بھٹو کسی ادارے کی پیدوار نہیں تھیں، دونوں طاقتور حلقوں کو چیلنج کرنے والی تھیں، دونوں کے مزاحمتی مزاج میں کوئی لچک نہیں تھی اور افسوس ناک مشترک بات یہ کہ دونوں کو راستے سے ہٹانے کے لئے نامعلوم طاقتوں نے ایک جیسے حربے ہی استعمال کئے۔ یعنی دونوں غیرطبعی موت کا شکار ہوئیں۔ اب تک کے تبصروں کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح اور بینظیر بھٹو کے بعد مریم نواز مسلم لیگ ن کی طرف سے قومی انتخابات کے ذریعے ملکی سربراہی کا انتخاب لڑنے والی تیسری سیاسی خاتون ہو سکتی ہیں۔ وہ بھی کسی ادارے کی پیداوار نہیں اور اُن کا مزاج بھی سیاسی مزاحمت کاری میں ملاوٹ برداشت کرنے والا نہیں ہے۔ اوپر دی گئی ہسٹری شیٹ کو پڑھ کر یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا مزاحمتی سیاست میں خواتین مجموعی طور پر مَردوں سے زیادہ سخت گیر ہیں؟