گلیاں ہو جاون سنجیاں وچ بنیا یار پھرے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی

ملک آزاد ہو یا عوام غلام ہوں، لوگ مسلمان ہوں یا کافر، جہالت کا دور دورہ ہو یا علم کا چرچا، ترقی کا پہیہ تیز گھومے یا حالات میں جمود آ جائے، سیلاب آجائے یا آفت سماویہ سے نجات حاصل ہے۔ جنگ ہو یا امن، ان سب حالات میں ایک حقیقت بہرحال اور ہمیشہ ہی برقرار رہتی ہے وہ حقیقت انسانی بقاءکا سب سے ا ہم تقاضہ ہے۔ یہ حقیقت بھوک کو مٹانا ہے اور کسی بھی طرح سے پیٹ بھرنا ہے۔ انسان کے جبلی تقاضوں میں سے اہم ترین تقاضہ اس کا خورد و نوش ہے اور یہ رزق کا معاملہ انتہائی اہم بھی ہے اور خطرناک بھی ہے۔ دین دنیا کی راحت کے حصول میں بھی روٹی، پانی کو بہت دخل ہے۔ تن ڈھانپنے کو کپڑا میسر آئے یا نہ آئے لیکن پیٹ کی آنتوں کا دلسوزی اور بے تابی سے بھوک مٹانے کا مطالبہ بالکل ہی درست ترین ہے۔ بھوک پر لڑائی ہوتی ہے اور بھوک پر فساد برپا ہوتا ہے۔ اسی لئے آسمانی صحائف کی تعلیمات اور اخلاقی تعلیمات کی ترغیبات میں کھانا کھلانے اور بھوکے لوگوں کو اپنے کھانے میں سر تک کرنے کی بہت اہمیت ہے۔ اسلام کی معاشی اخلاقیات میں بھوکوں کو کھانا کھلانا ایک اہم فریضہ ہے۔ انسانوں کی معیشت کے تحفظ کیلئے سخت گیری کا رویہ اپنانا بھی اسلامی تعلیمات کا جزو لاینفک ہے۔ لوگوں کیلئے آسانیوں کو رواج دینا اور ان کی فلاح کیلئے رزق کے اسباب مہیا کرنے سے خوشنودی رب اور خاتم النبین کی رضا کا راستہ نظر آتا ہے۔ عوام کی معاشی حالت پر توجہ رکھنا اور اسے ہمہ وقت درست رکھنے کی کوشش کرنا حکمران اور حکومتی خدمت گاروں کا اہم ترین فریضہ ہے۔ قوم کی معاشی حالت میں ابتری آجانے سے اخلاق اور بر تری کی صلاحیتیں نہایت درجہ زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ روحانی رویوں پر مایوسی کے شکنجے بری طرح سے مسلط ہوجاتے ہیں۔ قوم قوم نہیں رہتی۔ حیوانوں کا ایک جم غفیر جن کی آنکھوں سے وحشت اور بے بسی کا بھیانک منظر جھانکتا ہے اور پھر وہ بڑے حیوانوں کے غلام بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ دراز سے دراز ہوتا جاتا ہے۔ انسان بہرحال انسان ہے اگرچہ وقتی حالات کے تقاضوں کے تحت مجبور وجود اپنی حالت کو حیواناتی دنیا میں پہنچا کر ایک عارضی سکون محسوس کرتے ہیں لیکن جب ان میں کسی بھی درجے انسانی رمق اپنا اظہار کرتی ہے تو پھر بغاوت کی چنگاریاں نئے انداز سے دھواں دینے لگتی ہیں۔اشیاءخورد و نوش میں کمیابی اور قیمتوں میں گرانی بالآخر عوام الناس کو اپنی سوچوں میں تبدیلی پر تیار کرتی ہیں اور وہ کسی بھی انتہائی اقدام پر تیار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر سیاسی تبدیلیوں کا سبب معاشی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایوب خان مرحوم کے خلاف الیکشن میں بھی مہنگائی کو نعرہ بنایا گیا تھا۔ مرحوم حبیب جالب بڑے ذوق و شوق سے عوامی جلسوں میں یہ نظم گاتے تھے....
بیس روپے ہے من آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
بیس گھرانے ہیں آباد
اور ہزاروں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد
لوگ اپنی مایوسی کو خوشیوں میں بدلتے ہوئے دیکھتے تھے اور مزاحمت کیلئے تیار ہو جاتے تھے لیکن پھر کوئی سیاسی کرتب باز جھرلو کی سیاست کا قاعدہ پڑھ کر سناتا اور عوام بے چارے پھر سے حیوان جنس شمار ہونے لگتے تھے۔ اور پھر برسراقتدار طبقے کے گرد پلاٹ پرست، پرمٹ کے دلدادہ جمع ہو جاتے اور زمیندار اپنی مستی میں مست اقتدار کے جھولے پر سوار ہو جاتے تھے تاجر اور سرمایہ دارانکے گرد گھیرا تنگ کرکے اور معاشیات کے میدان کے اکیلے شاہ سوار ہو جاتے تھے۔ مختلف ادوار کی مختلف کہانیاں ہیں پھر مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا تو ایک عوامی حکومت آگئی۔ ان کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا۔ لیکن بنیے کے شاگرد پاکستان کے صنعتکاروں نے سیاستدانوں کی مدد سے ایسا سیاسی جھرلو پھیرا کہ لوگ روٹی اور مذہب کا نام لے کر جاگے۔ عوام کا کندھا حکومت کے جنازے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن مردہ دفن نہیں ہوتا بلکہ عوام کا کندھا بھی شل ہو جاتا ہے اور عوام مرجاتے ہیں، صاحبو! عوام مسلسل مر رہے ہیں، صنعتکاروں اور تاجروں کی حکومت ہے ملازمین بے چارے روتے ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی اعلانیہ بھی ہوتی ہے اور خفیہ بھی ہوتی ہے۔ عوام بے چارے بے روزگاری اور مہنگائی سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ موت سے پہلے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سڑکوں پر مزدوروں کی قطار اندر قطار ہماری حکومتی معاشیاتی طرز کرم کا م تمام کر رہی ہوتی ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام ٹیکسوں کی بھرمار نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے روزانہ جھوٹے وعدوں اور غلط اعداد و شمار کا طومار ہوتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا پروپیگنڈہ ہوتا ہے۔ بجلی کے نرخ بڑھا کر بجلی گرائی جاتی ہے، گیس کی بندش سے سانس کو تنگ سے تنگ کر دیا جاتا ہے۔ تیل کے روزانہ نرخ بڑھتے ہیں، ہر شے میں مہنگائی کی ایسی برقی رو دوڑتی ہے کہ عوام کا تیل نکل جاتا ہے۔ ملازم اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کیلئے اپنے دفاتر، کارخانے اور مقام ملازمت تک پہنچنے کیلئے سواری کے استعمال میں اپنی آدھی تنخواہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر اپنے بچوں کو پالنے کیلئے دیگر ذرائع آمدنی تلاش کرتے ہیں یا پھر بغیر تفریق حلال و حرام کے نئے اسباب تلاش کرتے ہیں۔ پھر بھی ان کے چولہے میں تیز آگ نہیں جلتی۔ ہانڈی میں ابال تو آتا ہے لیکن پیٹ بھرنے کی کوئی سبیل نظرآنا بہت ہی مشکل ہے۔ روٹی دس روپے میں ملتی ہے۔ ایک کلو سبزی ایک سو روپے کے نوٹ کو کمی کمین سمجھ کر دھتکار دیتی ہے۔ سیب سستے ہیں اور آلو مہنگے ہیں۔ پیاز کا تو استحقاق ثابت ہے ہے کہ کنجڑوں کے ہاتھوں سے نکلنا ضروری ہے۔کنجڑوں (سبزی فروشوں) سے پوچھا جاتا ہے کہ پیاز کیوں مہنگا ملتا ہے تو جواب دیتے کہ بگڑے دل حاکم زادے کے حواریوں نے پیاز کو بھارتی یاترا پر بھیج دیا ہے۔ چینی بھی بے چین ہے کہ اسے بھی دشمنوں کا وطن من بھاتا ہے۔ غریب کو سپرد خاک کرنے کا اتنا خوشنما اہتمام ہے کہ سامری جادوگر روز انڈوں پر عمل پڑھتے ہیں اور انڈے بے چارے سفید پوش ہوتے ہیں۔ وہ عملداری کی زد میں رہ کر اپنی پھوٹی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بے چاری سفید مرغیاں تو رقص بسمل کے بعد بگڑے دل نوابوں کے حکم پر سونے کے برابر تولی جاتی ہیں۔ عنقریب قیامت صغریٰ کا آخری سین پارٹ ہوگا جب غربت ختم ہو جائے گی کیونکہ غربت تو غریب کے دم سے ہے اور پاکستان بہت امیر ہونے والا ہے کیونکہ 100 روپے امیر خاندان پاکستان پر قابض و حاکم بن جائیں گے اور پاکستان امیروں کا ملک کہلائے گا۔ مفلوک الحال لوگوں کا قبرستان قرار پائے گا۔ پاکستان کے اٹوٹ انگ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھائیں گے۔ غریب تو مرجائے گا اور قومی غیرت کو بھی اپنے ساتھ لے کر سو جاتے ہیں۔
گلیاں ہو جان سنجیاں
تے وچ بنیا یار پھرے