ڈرون حملے اور نیٹو سپلائی

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

امریکہ کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بد ستور جاری ہیں۔ چند روز پہلے خیبر پختونخواہ کے ضلع ہنگو کے علاقے میں ہونے والا ڈرون حملہ اس لحاظ سے مختلف نوعیت کا تھا کہ قبائلی علاقوں کی حدود سے باہر کیا جانے والا پہلا ڈرون حملہ تھا۔ مختلف لحاظ سے اس حملے کی نوعیت کو دوسروں سے علیٰحدہ اس لیے قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں کیا گیا ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ قبائلی علاقے انتظامی طور پر تو مختلف ہیں مگر ہیں تو پاکستان کا حصہ۔ اگر قبائلی علاقوں میں ہونے والے حملوں کو صرف یہ سمجھ کر مختلف نوعیت کا قرار دیا جائے کہ یہ ملک کے اُن علاقوں میں کیے جا رہے ہیں جہاں حکومت کا کنٹرول کمزور ہے تو یہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی اس دلیل کو ماننے کے مترادف ہو گا کہ حکومتِ پاکستان افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں پر اپنا کنٹرول نہیں رکھتی اور یہ علاقے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ اس حقیقت سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ڈرون حملے ہماری قومی خودمختاری اور سلامتی کی صریحاً خلاف ورزی ہیں جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جا سکتامگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان حملوں کا نشانہ بننے والے بیشتر لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردانہ کاروائیوں سے منسلک ہوتے ہیں جن کا ان علاقوں میں موجود ہونا ہماری سفارتی اور اخلاقی پوزیشن کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایک رائے تو یہ بھی ہے کہ اس طرح کی سر گرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کی ہماری سر زمین پر موجودگی بھی قومی سلامتی اور خود مختاری کے مترادف ہے۔ پوری پاکستانی قوم اور حکومت ڈرون حملوں کے خلاف ہے اور حکومتی سطح پر اس کی بھرپور مخالفت اور مذمت بھی کی جاتی ہے۔ اِن حملوں کو فوری طور پر رکوانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی بنا بنایا حل نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہر سطح پر سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکہ پر دباﺅ بڑھایا جائے۔ مغرب اور امریکہ میں ڈرون حملوں کے خلاف رائے عامہ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد امریکہ پر دباﺅ بڑھانے کے لیے ایک دفعہ پھر نیٹو سپلائی کو روکنے کی بازگشت سنائی دی۔ اس مطالبے میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پیش پیش ہے۔ تحریکِ انصاف نے تو خیبر پختونخواہ میں ان حملوں کے خلاف بھرپور مظاہرہ بھی کیا اور نیٹو سپلائی کو خیبر پختونخواہ کے علاقے سے گزرنے سے روک دیا۔ یہ اقدام امریکہ پر ڈرون حملوں سے روکنے میں تو کامیاب نہیں ہو گا۔ لیکن پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر کافی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ نیٹو سپلائی صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں بلکہ افغانستان میں موجود چالیس سے زائد ممالک کی افواج اس سے منسلک ہیں۔ تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اس کو بند کرنے کا اعلان تو کر چکے ہیں مگر چونکہ اُن کی جماعت وفاقی سطح پر حکومت میں نہیں اس وجہ سے ظاہر ہے وہ اس انتہائی اقدام کے نتائج اور اثرات کے ذمہ دار بھی نہیں ہونگے۔ اس سے پہلے 2011ءمیں سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کے بعد بھی پارلیمنٹ کی قرار داد کے ذریعے نیٹو سپلائی بند کر دی گئی جو کہ دس مہینے کے بعد بحال ہوئی۔ اُس دوران بھی امریکہ سے زیادہ اثرات کا شکار پاکستان ہی ہوااور جن شرائط کے ساتھ نیٹو سپلائی کی بحالی کو مشروط کیا گیا تھا اُن میں سے شاید ہی کوئی پوری ہوئی ہوں۔ مجموعی طور پر پاکستان کو ہزیمت اُٹھانا پڑی۔ ڈرون حملوں کیخلاف تحریک انصاف کی طرف سے پشاور میں دیے گئے دھرنے کے دوران بیشتر تقاریر کا نشانہ امریکہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت تھی جس سے اس سلسلے میں موجود سیاسی سوچ اور پختگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی یہ واضح پالیسی ہے کہ اُسے جہاں کہیں بھی ٹارگٹ ملے گا اُسے نشانہ بنایا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ ہماری موجودہ معاشی اور سلامتی کی صورتِ حال اس چیز کی متحمل ہو سکتی ہے کہ ہم پوری دُنیا سے ٹکر لے سکیں۔ ڈرون حملے جب شروع ہوئے تھے اُسی وقت اُن کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی جانی چاہیے تھی۔ اب اس مرحلے پر کم از کم نیٹو سپلائی کو روکنے جیسے اقدام کے ذریعے تو یہ حملے رُکنے والے نہیں۔ ویسے بھی ایک صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی نافذ کردہ پالیسی اور بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف ایسا اقدام کیسے کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کے اندر مزید عدم استحکام پیدا ہو گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سُبکی ہو گی۔ عمران خان اور اُن کے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ حقیقت پر مبنی سیاست کریں اور مسئلے کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز دیں کیونکہ اُن کی پارٹی ملک کے ایک اہم حصے میں اقتدار میں ہے۔ لہذاہ وہ صحیح معنوں میں اپنے آپ کو حزبِ اختلاف نہیں کہہ سکتے۔ اُنہیں اب تک یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ انتخابی نعروں اور زمینی حقائق میں کافی فرق ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہر سطح پر اپنے اندر اتحاد پیدا کریں اور حکمرانی کو مضبوط و موثر بنائیں تا کہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دُنیا ہماری بات سننے اور سمجھنے پر مجبور ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو ڈرون حملوں جیسے واقعات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب گھر کے اندر آگ لگی ہو تو دشمن سے اُسے بجھانے کی اُمید رکھنا کم علمی ہو گی۔ ہمیں سب سے پہلے اُن اسباب کو ختم کرنا ہے جن کی بدولت ہم آج اس نہج پر ہیں جو کہ صرف اتفاق،دور اندیشی اور معاشی بحالی میں ہی ممکن ہے۔