نیٹو سپلائی کی بندش ۔۔۔ مسئلہ تو نہیں!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

اس بات میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں کہ وطن عزیز کی سرحدوں کے اندر خودکش حملوں اور مختلف اشکال میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات کا ارتکاب کروا کر دشمن ہمارے ہاں غیراعلانیہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس غیر اعلانیہ جنگ کی صورت میں وہ اپنے مقاصد کے حصول کو یقینی بنائے ہوئے ہے۔ ہنگو میں ڈرون حملے کے بعد اے پی سی میں بیٹھ کر یکجان ہوتے ہوئے فیصلہ کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں منتشر ہو چکی ہیں۔ تحریک انصاف ڈرون حملے روکنے کیلئے صوبہ خیبر پی کے میں اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) جو خود ڈرون حملوں کے خلاف بھڑکیں لگاتی تھی اور تاحال بھڑکیں لگانے میں مصروف ہے اسکے عہدیداران، ارکان اسمبلی اور وزراءاس ملکی سالمیت کے اہم ایشو پر بوکھلاہٹ کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ رانا ثنااللہ خاں تو اس حد تک حواس باختہ نظر آ رہے ہیں کہ خیبر پی کے کی اسمبلی کے سپیکر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ رانا ثنااللہ کی کوئی بات سنجیدگی سے نہیں لینی چاہیے۔ میاں صاحب بھی انہیں ایک دو بار شٹ اپ کال دے چکے ہیں وہ دوسرے سلطان راہی ہیں۔ نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں کو ایک دوسرے سے الگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 2001ءمیں امریکی مجاہد جنرل (ر) پرویزمشرف کی طرف سے ایک ٹیلی فون کال پر سرنڈر ہو کر امریکہ کیلئے پاکستان کو جب فرنٹ لائن اتحادی بنایا اس وقت سے ہی وطن عزیز سے نیٹو سپلائی لائن جاری ہے۔ امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بننے کا یہ ثمر برآمد ہوا کہ امریکہ بہادر نے ہمارے ملک میں ڈرون حملے شروع کر دیئے۔ پرویز مشرف اور سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے روایتی احتجاج جاری رکھنے کے باوجود اندرکھاتے امریکہ کو ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی پھر جب سلالہ چیک پوسٹ پر امریکہ نے حملہ کیا تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے احباب نے نیٹو سپلائی لائن پر پابندی عائد کر دی۔ اب امریکہ کی طرف سے ڈرون حملہ خیبر پی کے کی حدود کے اندر کر دیا گیا ہے جس پر تحریک انصاف کے احتجاج کے ذریعے نیٹو سپلائی روکنے پر جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن عجیب و غریب قسم کی منطق پیش کر رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن اپنے خیبر پی کے کے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے ایسا کردار ادا کر رہے ہیں جو کسی طور پر انہیں زیب نہیں دیتا۔
 اندازہ لگائیں کہ مولانا فضل الرحمن فرما رہے ہیں کہ نیٹو سپلائی لائن روکنے کیلئے احتجاج بے معنی ہیں، ڈرون حملوں کے خلاف سلامتی کونسل اور عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکومت کے آگے لٹو بنی ہوئی ہے تو پھر جب وہ اقتدار کیلئے لٹو کی طرح گھومتے ہیں کیوں حکومت سے مطالبہ نہیں کرتے اور حکومت کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ سلامتی کونسل اور عالمی عدالتوں سے رجوع کریں۔ دراصل مولانا فضل الرحمن ہر صورتحال سے واقف ہوتے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ وہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت اور پرویزمشرف کے دور اقتدار کے دوران ان کے ہر طرح کے سیاسی جرائم میں شامل تھے تو مضائقہ کی بات نہیں ہو گی یہ وہی مولانا فضل الرحمن ہیں جن کے پاس کشمیر امور کا حساب کتاب تھا تو سب سے زیادہ کشمیر کاز کو اس دور میں نقصان پہنچا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ مولانا صاحب خیبر پی کے میں اپنی عبرتناک سیاسی شکست سے سبق حاصل کریں۔ اپنی اصل کی طرف لوٹیں اور تحریک انصاف کے احتجاج میں جماعت اسلامی کی طرح شامل ہو جائیں۔ متحدہ مجلس عمل کے مشترکہ کاز کو نقصان پہنچا کر اپنے سیاسی مفادات اٹھانے والے مولانا فضل الرحمن وہی بولی بول رہے ہیں جو موجودہ حکمران بول رہے ہیں۔
موجودہ حکومت کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے ایک طرف وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کر رہی ہے دوسری طرف ان کا ترجمان نیٹو سپلائی روکنے پر عمران خان کو ملک کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا الزام دے رہا ہے۔ وزیراعظم کو ہر ہفتے بعد بھارت کی تعریفیں تو یاد آ جاتی ہیں مگر انہیں اپنے ملک کے اندر مسائل کیوں نظر نہیں آتے۔ بھارت سے امن کی خواہش میں وہ تڑپ رہے ہیں مگر اندرون ملک امن کی خواہش انہیں کیوں نہیں تڑپاتی۔ مسلم لیگ (ن) کے تمام وزراءجو ماضی کی حکومتوں میں بڑی بڑی باتیں کر کے سورما بنے پھرتے تھے اب ان کی غیرت اور حمیت کہاں ہے، ان کی زبان اب کیوں ویسے بول بولنے سے قاصر ہے، صرف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جرا¿ت سے اور بیباکی سے حق سچ کی بات کر رہے ہیں باقی تمام حکمران اس وقت تحریک انصاف کے گلے پڑ رہے ہیں کہ نیٹو سپلائی کیوں روک دی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نیٹو سپلائی خیبر پی کے سے روک کر چمن کے راستے جا سکتی ہے تو پھر وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دیگر ذمہ داران کس کھیت کی مولی ہیں کیا وہ اپنے ہم وطنوں کی اموات پر چمن کے راستے والی نیٹوسپلائی نہیں روک سکتے۔
جی ہاں وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے ہاتھ ان کے کشکول غیر ملکی امداد قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں نے جکڑ رکھے ہیں لہٰذا اگر تحریک انصاف نے ڈرون حملوں پر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کر ہی دیا ہے تو اس پر احتجاج کرنے اور آواز اٹھانے والے آج خود کیوں ان غیر نظریاتی اور لادین حلقوں کی سوچ سے جا ملے ہیں جن کو کبھی وہ سرحدی گاندھی ہونے کا طعنہ دیا کرتے تھے۔ افسوس مولانا فضل الرحمن وہی زبان بول رہے ہیں جو اے این پی بول رہی ہے اور مسلم لیگ (ن) جس کے انتخابی اشتہارات میں قائداعظم اور حضرت علامہ اقبال کی تصاویر فرمان اور نعروں کو ظاہر کیا جاتا تھا وہ بھی نیٹو سپلائی کی بندش پر معذرت کے ساتھ سرحدی گاندھی جماعت کی بولی بول رہی ہے۔ سوچنا ہو گا کہ جو ماضی میں اس وقت کے حکمرانوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے آج ان کے بارے میں عوام ایسے تاثرات کیوں بیان کر رہے ہیں؟