مجھے ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے!

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

عمران خان نے ایکبار پھر دل کی بات کہہ دی کہ ہم بہت جلد آئیں گے اور سیاست کے افق پر چھائیں گے۔ حقائق یہ ہیں کہ عمران خان نے پھر ایک اژدہام سے پُرجوش خطاب کیا اور دنیا کو ایک مرکز پر اکٹھا کر ڈالا۔ پرویز رشید نے عمران خان کے بھرپور جلسہ سے بوکھلا کر کافی عجیب بیان دیا ہے جس کا عنوان ہے کہ ”عمران کا دل طالبان کے ساتھ اور تلوار امریکہ کے ساتھ ہے“ پرویز رشید کا یہ بیان تو عمران خان کے حق میں جاتا ہے کہ عمران خان مغربی ذہن کے نہیں بلکہ فنڈامینٹلسٹ ہیں جو محب وطن ہونے کی دلیل ہے۔ البتہ یہ بے ڈھنگا سا پیوند ہے کہ ”تلوار امریکہ کے ساتھ ہے“ یہ کافی بے معنی فقرہ ہے۔ کچھ یہی پریشانی چوہدری نثار کو بھی لاحق تھی۔ وزیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے انہیں پشاور کے اندرونی حالات کا قبل از وقت احساس ہوگیا تھا لہٰذا چوہدری نثار بھی مارے بوکھلاہٹ کے سرتاج عزیز اور امریکہ کے متعلق پریشان کن بیان دے بیٹھے، جس پر ابھی تک ن لیگ سمیت اپوزیشن، عوام، میڈیا اور خود چوہدری نثار حیران اور اس سے بھی زیادہ پریشان ہیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ کسی امریکی یقین دہانی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، معلوم نہیں سرتاج عزیز نے کیسے اعتبار کرلیا۔ چوہدری نثار نے گھبراہٹ میں یہ بھی کہا کہ کون کہہ سکتا ہے امریکہ ہمارا دوست ہے۔ ڈالروں اور عزت نفس میں سے ایک کو چننا ہوگا۔ سرتاج عزیز کا سیاست اور معیشت میں توانا کردار رہا ہے اس لئے ایک سینئر اور محترم شخصیت کو ایسے ریمارکس دینا چوہدری نثار کیلئے مناسب نہیں تھا۔ادبی کانفرنس میں وزیراعظم نے سیاست، ثقافت، خوراک، بھارت اور دیگر امور پر تو بات کی لیکن ادبی حوالے سے کوئی جاندار نکتہ نہ پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ قیمہ کی بات کی لیکن ادب کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا۔ ادباءو شعراءکی بہبود کیلئے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ ادب کا سیاست، ثقافت، معاشرت، معیشت اور عالمی ادب میں کردار پر کوئی قابل ذکر نکتہ نہ تھا۔ بدقسمتی سے پیپلزپارٹی دور کی طرح ن لیگ بھی محض چند قصیدہ خواہوں پر نظر کرم کرتی ہے اور کورنش بجا لانے والے یا جی حضور کی گردان کرنیوالے ہی ان کی نگاہ التفات اور عہدوں کے اہل ہیں۔ بہرحال وزیراعظم بھی نفسیاتی طور پر عمران خان کے جلسہ سے پریشر میں تھے۔
ادھر صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے پریس انسٹیٹیوٹ میں ہونیوالے سیمینار میں ایک دل پذیر اور طویل ترین تقریر کی جس میں انہوں نے انگریزی اردو اور پنجابی کا تڑکا لگا کر اپنی دال کو مرغ مُسلم بنا دیا۔ پریس انسٹیٹیوٹ میں ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس کی صدارت کیلئے وزیر خوراک کو منتخب کیا گیا تھا۔ اس سیمینار میں ڈاکٹر قیس اسلم، عامر ضمیر، عارف انصاری اور عارفہ صبح خان نے خطاب کیا۔ موضوع ”مہنگائی میں ہوشربا اضافہ“ تھا۔ پاکستان میں یہ ایک سلگتا موضوع، سسکتا سوال اور کُلبلاتا مسئلہ ہے۔ اس موقع پر وزیرخوراک بلال یاسین نے کہا کہ انہیں شدت سے ادراک ہے کہ مہنگائی نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔بلال یاسین بھی عمران خان کے نیٹو سپلائی روکنے کے جلسہ سے کچھ پریشان نظر آرہے تھے۔ اس موقع پر عامر ضمیر، عارف انصاری، ڈاکٹر قیس اسلم نے بھی اظہار خیال کیا۔ سیمینار میں کئی بار دلچسپ موڑ آئے جن کا ذکر پھر سہی۔ اس موضوع پر میرا مﺅقف یہ تھا کہ مہنگائی صرف حکومت کو نہیں ستاتی وگرنہ پوری قوم کو کاٹتی ہے۔ مہنگائی نے ہم سب کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ اس وقت پاکستانی قوم خود اپنے حالات سے جنگ کر رہی ہے۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں مگر میں کہتی ہوں کہ ہم حالت نزاع میں ہیں۔ ہم کسی سے کیا لڑیں گے، ہمیں تو خود مہنگائی نے مار دیا ہے۔ مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے پاکستانیوں کو اعصابی اور جسمانی طور پر کمزور کرکے رکھ دیا ہے۔ اسی لئے علیحدگی اور طلاق کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ اسکا ذمہ دار کون ہے بلکہ میں تو کہوں گی کہ اسکا مجرم اور گناہگار کون ہے؟ ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہیں اور اخراجات آمدن کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ بلوں نے پاکستانیوں کی مت مار دی ہے۔ کھانے سے ز یادہ بلوں کی فکر ستاتی ہے۔ بل نہ دو تو بھوک اڑی رہتی ہے، بل دیدو تو بھوک مر جاتی ہے۔ پاکستانی قوم کو بل کھا رہے ہیں اور مہنگائی کی بڑی وجہ یہ بل ہیں.... لہٰذا میرا مشورہ تو یہی ہے کہ وزیر خزانہ بدل کر دیکھ لیں۔ شاید عوام کو کچھ افاقہ ہوجائے۔ کیا حکومت بتانا پسند کریگی کہ سفید پوش طبقہ کہاں جائے۔ افسوس! جن حکمرانوں کو عوام نے اتنے یقین اور محبت سے اتنے ہیوی مینڈیٹ سے منتخب کیاتھا.... انہوں نے پانچ ماہ میں عوام کا خون چوس لیا ہے۔ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضوں نے قوم کا مورال ڈاﺅن کیا ہے۔ غالب کو محبوب کی بیوفائی نے بدنام کیاتھا اور ہمیں آئی ایم ایف کے عشق نے رسوا کردیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ کوئی اپنی غلطی اور کوتاہی کو نہیں مانتا۔ اب حکومت خود امریکہ کیخلاف واویلا مچا رہی ہے جبکہ ڈرونز بند کرانا خود حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے لیکن حکومت خود کو ہر طرح سے بری الذمہ کرلیتی ہے۔ پاکستان میں حالات کافی حوصلہ شکن ہو چکے ہیں۔ مجھے تو اکثر یہ مصرع ستاتا رہتا ہے کیونکہ اسی میں ہمارا مافی الضمیر قید ہے۔
ع....مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ کہ تو نہ مر جائے