شریف سے شریف تک!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی

انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں اُس نے ایک لیفٹیننٹ کے طور پر حصہ لیا، زخمی ہونے پر اسپتال میں داخل کرکے سپاہی کو کہا گیا کہ اُس کی حالت جنگ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتی، لیکن لیفٹیننٹ کی رگوں میں دوڑتے پارہ صفت لہو نے اسے ٹک کر بیٹھنے نہ دیا، وہ پلستر چڑھے بازو سمیت اسپتال سے بھاگ کر دوبارہ اپنی کمپنی میں جاپہنچا اور باقی جنگ ایک ہاتھ سے ہی لڑی۔ ستارہ جرات کا اعزاز حاصل کرنے والے پینسٹھ کے اس غازی کو اپنے جوہر دکھانے کا جلد ہی دوبارہ موقع مل گیا۔ انیس سو اکہتر میں اب وہ میجر بن چکا تھا، بھارت نے مشرق کے ساتھ ساتھ اکیس نومبر کو مغربی محاذ بھی کھول دیاتو پاکستان نے اس کا بھرپور دفاع کرنے کا فیصلہ کیا یوں میجر کے ذمے سبونا کی ڈھلوان کے راستے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا فرض آیا۔ میجر اپنے دستے کے ساتھ آگے بڑھا اور چار دسمبر کی رات ”گُرما کھیرا“کے پل پربھارتی فوج کو جالیا، بھارتی فوج کے میجر نرائن سنگھ نے دعوتِ مبارزت دی تو غازی نے خود کا اس مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا، اس مبارزت کا انجام میجر نرائن کی ہلاکت کی صورت میں نکلا، جس کے بعد مختصر سے دستے کے ساتھ بھارتی فوج کو شکست دے کرغازی نے دشمن کے اہم علاقے پر بھی قبضہ کرلیا، چھ دسمبر کو بھارت نے اس علاقے کو واپس حاصل کرنے کیلئے درجنوں ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیاتو میجر نے توپچی کے فرائض خود سنبھالتے ہوئے کئی ٹینک تباہ کردیے، لیکن ایک ٹینک کا گولہ میجر سے چند فٹ کے فاصلے پر آن گرا، جس پر اس جوانِ رعنا کا جسم کئی فٹ اوپر اچھلا اور زخموں سے چور زمین پر آن رہا۔”یہ پل مغربی پاکستان میں داخل ہونے کا دروازہ ہے، اپنی جان لڑا دینا لیکن اس کا قبضہ مت چھوڑنا“ میجرنے ساتھیوں کو آخری نصیحت کی اور جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔میجر کی شہادت کے بعد اس کے ساتھی موت کی پروا کیے بغیر بڑی بے جگری سے لڑے اور سولہ دسمبر 1971ءکے سیاہ دن تک یہ علاقہ پاکستان کے قبضے میں ہی رہا۔مغربی پاکستان کی حفاظت کے فرض کے دوران جان قربان کرنے والے اس میجر کو جنگ کے بعد نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ پاک فوج کا یہ شیر دل میجر کوئی اور نہیں شبیر شریف شہید تھا۔گجرات کے راجپوت خاندان کے چشم و چراغ رانا شبیر شریف شہیدکا اپنے اہل خانہ کے ساتھ آخری رابطہ انتیس نومبر 1971ءکو ہوا۔گھر کے تمام افراد کے ساتھ بات ہوچکی تو او لیول کے طالب علم چھوٹے بھائی راحیل کے ساتھ بات کرتے ہوئے شبیر شریف کے لہجے میں بھرپور پدرانہ شفقت عود کر آئی تھی ” یقینا او لیول مکمل کرنے کے بعدتم ہمیں جوائن کرو گے“۔
شبیر شریف شہید کے یہی چھوٹے بھائی راحیل شریف اب پاکستان کے سپہ سالاراعلیٰ کے منصب پر پہنچ چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف انتہائی تجربہ کار، دانشمند اور شرافت کا مجسمہ تصور کیے جاتے ہیں۔وہ سیاست سے بیزار اور بھارت کے کٹر مخالف بھی سمجھے جاتے ہیں۔جنرل راحیل شریف ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بھارت کی نئی جنگ حکمت عملی کا توڑ نکالا اور عزم نو مشقوں کا انعقاد کرکے بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کو ناکامی سے دوچار کیا۔یوں تو جنرل راحیل انتہائی بارعب اور اپنے موقف پر ڈٹ جانیوالی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، لیکن لوگوں میں گھل مل جانے اور ماتحتوں کی دلجوئی کے باعث انتہائی ہر دلعزیز بھی ہیں۔
قارئین محترم! مشہور ہے کہ گندم، چاول اور تمباکو کے لہلہاتے کھیتوں سے شاداب کنجاہ کی مٹی میں محبت کوٹ کوٹ کو بھری ہے۔ کنجاہ نے ایک جانب پنجاب کی مشہور لوک داستان ”سوہنی مہینول“ کی سوہنی کو جنم دیا توسوہنی نے مہینوال کے عشق میں دریائے چناب کی بپھری لہروںکو بھی مات دیدی اور دوسری جانب کنجاہ نے ایسے سپوت پیدا کیے ہیں جو وطن پر قربان ہونے کو ہی اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ گرما کھیرا کے محاذ پر روانہ ہونے سے پہلے کنجاہ کے سپوت شبیر شریف نے بریوو کمپنی کے اپنے جوانوں کو اکٹھا کیا اور پوری تمکنت سے گویا ہوا ”جوانو! ہم فوج میں جس مقصد کیلئے آئے تھے اسے پورا کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج اُن ماو¿ں کی عزت کا سوال ہے، جنہوں نے ہمیں جنم دیا ۔ میں صرف ایک بات کہوں گاکہ اگر تم میں سے کسی نے میدان جنگ میں پیٹھ دکھائی تو وہ میری رائفل سے نکلی گولی کا رزق بن جائے گا اور اگر میں میدان جنگ سے بھاگنے کی کوشش کروں تو تمہیں جننے والی اپنی ماو¿ں اور گود کھیلانے والی بہنوں کی عصمتوں کی قسم کہ مجھے وہیں گولی سے اُڑا دینا۔ جوانو! میرے ساتھ عہد کرو کہ تم لڑائی سے بھاگنے کی بجائے جان دینا قبول کرو گے اور اگر تم راضی ہو تو پھر تو جنگ کیلئے تیار رہو“ ۔ شہید شبیر کے برادر خورد جنرل راحیل کیلئے اپنے برادر بزرگ کے صرف یہی الفاظ مشعل راہ نہیں بلکہ جنرل راحیل شریف کو عساکر ِپاکستان کی کمان سنبھالتے ہوئے ٹھیک بیالیس برس پہلے آج ہی دن کہے اپنے بڑے بھائی شبیر شریف کے الفاظ بھی ضرور یاد ہوں گے ”مجھے یقین ہے کہ او لیول مکمل کرنے کے بعد تم جلد ہی ہمیں جوائن کرو گے، مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وطن عزیزکی حفاظت کیلئے اگر میرا مشن ادھورا رہ گیا تو میرے بعد میرا مشن اور اس ملک کو محفوظ بنانے کا خواب تم پورا کرو گے۔ یاد رکھنا ایک سچا سپاہی اپنی جان کی پراہ کے بغیر ہی اپنا مشن مکمل کرسکتا ہے، ایک مکمل پیشہ ور سپاہی کیلئے اس سے بڑھ کر اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کیلئے جان قربان کردے، لیکن اس سے بھی بڑا کام یہ ہے کہ ایک سپاہی جان قربان کرنے سے پہلے اپنے حصے کا کام پورا کرجائے“۔جنرل راحیل کے خاندان میں شہید شبیر شریف اور شہید عزیز بھٹی کی صورت میںصرف دو نشان حیدر ہی موجود نہیں بلکہ یہ نشانِ حیدر جنرل راحیل شریف کیلئے نشانِ منزل بھی ہیں۔ روشنی کے ان نشانوں سے جنرل راحیل کو اپنی منزل کا تعین کرنے میں بھی یقینا مدد ملے گی۔بڑے بھائی کی نصیحت کے مطابق اپنے دور میں جنرل راحیل کو بھی اپنے حصہ کا کام مکمل کرنا ہوگااور وہ کام ملک کو سیکیورٹی کے محاذ پر درپیش چیلنجز سے نمٹنا اورپاکستانی فوج کو ایک مکمل پروفیشنل فوج کے قالب میں ڈھالے رکھنا ہوگا۔ اگر جنرل راحیل اس مشن میں کامیاب ہوگئے تو نہ صرف میجر ریٹائرڈ محمد شریف کے شہید بیٹے کا خواب پورا ہوجائے گا، بلکہ راحیل شریف شبیر شریف کی قربانیوں کے صحیح وارث بھی کہلاسکیں گے۔