خوش آمدید جنرل راحیل شریف‘ الوداع جنرل اشفاق پرویز کیانی

وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشیدکے اس انکشاف کے بعد کہ پاکستان آرمی کے سپہ سالار جو 29 نومبر کے روز اپنے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے ہیں ان کے جانشین کا نام وزیراعظم میاں محمد نواز شریف 28 نومبر کو اعلان فرمائیں گے۔ وہ دن اور آج 27 نومبر تک قوم کے انتظار کا عالم مت پوچھیے کیونکہ انتظار کی یہ عجیب کیفیت الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ طرح طرح کی قیاس آرائیاں اخبارات اور ٹی وی شوز میں سب کے سامنے ہے۔ Suspense کا یہ عالم اس ڈرامائی انداز میں برقراز تھا کہ 27 نومبر کے اخبارات نے سب امیدواروں کی سنیارٹی کے لحاظ سے تصویریں لگائے ہوئے اعلان کیا کہ وزیراعظم نے نئے آرمی چیف کیلئے مشاورت مکمل کر لی ہے اور رات کو جنرل کیانی کے الوداعی عشائیہ میں تمام اہل امیدواروں سے ملااقت کے بعد کل 28 نومبر کو اعلان متوقع ہے۔ لیکن دوپہر 27 نومبر کو اچانک جمود ٹوٹا۔ Suspense کا ایسے خاتمہ ہوا جیسے بے تابی دل غائب ہو کر ”بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے“ دل و دماغ اور روح کو سکون اور مسرت کے ملے جلے جذبات سکھ کا سانس لیکر اللہ کا شکر ادا کریں۔ جنرل راحیل شریف پاک فوج کے نئے سپہ سالار ہونگے اور جنرل راشد محمود کو صدر مملکت نے نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے نام کی منظوری دیدی ہے۔ ان تاریخ ساز فیصلوں پر میں وزیراعظم جناب محمد نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف کو نیشنل فورم آف پاکستان کے تمام معزز ممبران کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعاﺅں کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس فورم کے ممبران کی اکثریت کی عمر 70 برس سے اوپر ہے اور ان ریٹائرڈ سول و ملٹری عہدوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے احباب میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان‘ سابق گورنر حضرات‘ سابق چیف آف سٹاف پاک‘ پاک بحریہ و پاک فضائیہ‘ سینئر وکلائ‘ وائس چانسلرز‘ انتظامیہ اور امور خارجہ کے ماہرین اور معیشت و انرجی اور تجارت و بینکاری کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ سب کے سب جنرل راحیل شریف کو نیک تمناﺅں کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے الوداع کہنے کیلئے مناسب الفاظ کی تلاش میں ماضی کے چھ سالوں کی مسلسل قومی سلامتی کے ناطے سے ان چیلنجز اور ریاست کے وجود کو خطرات کی جدوجہد کے طوفانوں سے نبردآزما ہونے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار کو یاد کر رہے ہیں۔ کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستان کے سابقہ سپہ سالار زمانہ جنگ و امن میں جن حالات سے گزرے ہیں‘ ماضی کے چھ برس کے دورانیہ میں پاک سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی کے ناطے اندرونی لاءاینڈ آرڈر کو درپیش نہ صرف انتشار اور بدامنی بلکہ دہشت گردی اور بغاوت کے سیاہ بادلوں میں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اندرونی و بیرونی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کو جس دانشمندی اور جرات و تدبر سے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع میں آئین و قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانے میں ملک میں جمہوری عمل کی پاسداری میں پاک فوج کی قیادت کا جو اعلیٰ ترین معیار سر بلند رکھتے ہوئے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اس قدر مضبوط اور مربوط بنا دیا کہ کہ کنونشنل اور نیوکلیئر و میزائل طاقت کا لوہا منوانے کے بعد ریٹائرمنٹ سے پہلے پاکستانی ساختہ DRONES کا بیڑا فوج اور فضائیہ میں شامل کر کے قوم کو ایسا بہترین تحفہ پیش کیا ہے جو پاکستان کی DETERRENT صلاحیت میں مزید اضافہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ نہ صرف پاکستانی دفاع میں جنرل کیانی نے ایک نیا ملٹری ڈاکٹرین پیش کر کے پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے شعبہ میں ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر سول حکومت کی Supremacy کو فروغ دیاہے بلکہ نظریہ پاکستان اور قائد اعظم کے تصور پاکستان یعنی ایک جدید اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت کے قیام کیلئے پاکستانی افواج کے کردار کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایک حقیقی قومی اور جمہوری جذبہ سے سرشار اور ہم آہنگ کرنے کا جو اسلوب واضح کیا ہے اس پر نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور نئے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود عمل پیرا ہو کر افواج پاکستان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔
پاکستان کو جو اندرونی و بیرونی چیلنجز اس وقت درپیش ہیں وہ جنرل راحیل شریف اور جنرل راشد محمود کیلئے نئے نہیں ہیں کیونکہ وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ٹیم کا اہم رکن ہونے کے ناطے ان تمام چیلنجز کی ہر نوعیت اور جہت کی IMPLICATIONS سے بخوبی نہ صرف واقف بلکہ پوری گہرائی میں آگاہ ہیں۔ اس لئے جنرل کیانی کی سٹرٹیجک ویژن سے دونوں جنرل شریک کار اور اگر میں ہمراز کا لفظ بھی استعمال کروں تو غلط نہ ہو گا۔ اس لئے 29 نومبر کی صبح جنرل اشفاق پرویز کیانی جب اپنے عہدے کا چارج جنرل راحیل شریف کو دینے کی رسم کے دوران اپنی قیادت کی چھڑی اپنے جانشین کے ہاتھوں میں دینگے تو پاک آرمی کی کمانڈ کا تسلسل جاری رہنے میں کسی دشواری کا گمان نہیں ہونا چاہئے۔ جنرل راحیل شریف کے انتخاب کی راقم کو ایک ذاتی خوشی بھی ہے اور قومی سطح پر بھی یہ وجہ ایک شجاعت اور قیادت کا درخشاں سنبل اس وجہ سے ہے کہ جنرل راحیل شریف نشان حیدر پانے والے پاکستان کے عظیم فرزند میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ میرا ان کے ساتھ بہت دیرینہ رشتہ ان دونوں بھائیوں کے والد بزرگوار برادرم شریف صاحب کی بچپن کی دوستی کے باعث ہے جو میرے لئے ایک ذاتی فخر کا باعث ہے۔