اِک زخم تازہ روز ہے....!!

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین

ہمارے ہاں عام آدمی بے بس، مجبور، لاچار اور مظلوم ہے ہمارے شہروں میں عام آدمی کی لاشیں ایسی گرتی ہیں جیسے خزاں میں پتے گرتے ہیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن بے گناہوں کا خون خاک میں نہ ملتا ہو، جانوں کے ساتھ ساتھ املاک کو بھی تباہ وبرباد کر دیا جاتا ہے۔ کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ جنگل میں موذی اور خطرناک درندے ہوتے ہیں ہم کہانیاں پڑھ کر ڈرا کرتے تھے اور پھر خود کو شہر کے باسی ہونے پر محفوظ سمجھ کر خوش ہوتے تھے اب معاملہ اسکے برعکس ہو چکا ہے ہمارے شہروں کی نسبت جنگل خاصے پرامن اور پرسکون ہیں۔ ایک کہانی تھی دو دوست جنگل میں سے گزر رہے تھے اچانک سامنے سے شیر آ گیا۔ ایک دوست دوسرے کو فوراً چھوڑ کر درخت پر چڑھ گیا۔ دوسرے دوست نے شیر کو قریب آتے دیکھا تو اس نے زمین پر اُلٹا لیٹ کر سانس روک لی، شیر نے اسے سونگھا اور مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اس طرح اسکی جان بچ گئی اس وقت ہماری کیفیت اس دوسرے دوست جیسی ہے کہ ہم اُلٹے بھی لیٹے ہوئے ہیں اور اپنی سانس بھی روک رکھی ہے لیکن امریکی ڈرون ہمیں مردہ سمجھ کر بھی نہیں بخش رہے۔ ملک الشعراءخاقانی ہند شیخ ابراہیم ذوق نے یہ شعر تو اپنے عہد کے لئے کہے تھے ۔ فٹ اس دور پرفتن پر ہو رہے ہیں ....
 اے ذوق! وقت نالہ کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
ورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ
روز آفتیں نئی ہیں دل پر محن کے ساتھ
اک زخمِ تازہ روز ہے زخم کہن کے ساتھ
افسردہ دل کے واسطے کیا چاندنی کا لطف
لپٹا پڑا ہے مردہ سا گویا کفن کے ساتھ
عمران خان نے نیٹو سپلائی روک کے دکھا دی ہے۔ عمران خان کے بس میں جو تھا اس نے کر دیا اور کچھ نہیں، اس نے احتجاج تو ریکارڈ کرایا ہے۔ امریکہ ہمیں ہر طرف گھیر کر مار رہا ہے۔ عمران خان کی بات سو فیصد درست ہے کہ امریکہ ہمارے خطے میں امن چاہتا ہی نہیں ہے ہماری پاک فوج کا خون اتنا ہی ارزاں ہے کہ بلا مقصد ایسی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے کہ چھری اور خربوزے والا حال ہے چھری کو کیا نقصان ہوتا ہے کٹنا تو خربوزے نے ہوتا ہے۔پرویز رشید صاحب کا فرمان ہے کہ عمران خان ہسپتالوں اور سکولوں کیلئے امریکی ڈالر بھی وصول کر رہے ہیں اور ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی روک کر احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم نہیں ہیں جو امریکہ سے امداد لیتے رہے ہیں ہماری تمام حکومتیں امریکہ سے قرضے اور ڈالر لیتی رہی ہیں کیا عوام تک ان قرضوں کے اثرات پہنچے ہیں۔ ہلیری کلنٹن نے ایک دفعہ پاکستانی غریب عوام کی حالتِ زار کے حوالے سے کہا تھا کہ ہم تو عوام کی خوشحالی کے لئے قرضے دیتے ہیں پاکستان میں تو عوام کا بُرا حال ہے۔ ہماری امداد کدھر جاتی ہے؟ علامہ اقبالؒ نے تو فرمایا تھا ....
 پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی وہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
 ابھی تو غیروں کے آگے جھکنے والی ہماری کمر سیدھی نہیں ہوئی یعنی ہم نے آئی ایم ایف سے پچھلے دنوں قرضہ لیا ہے ہر آفت نے ہمارا دروازہ دیکھ لیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ خدا خیر کرے کہ اس نے اس خطے کیلئے کون سی چال چلی ہے امریکہ کا ماضی تو یہی بتاتا ہے کہ ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟