”اخپل بادشاہی“

کالم نگار  |  مسرت قیوم

”اخپل بادشاہی“ ےہ اےک پشتو محاورہ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہم سارے بادشاہ ہےں۔ اےک عام سا محاورہ‘ جو کتابوں مےں پڑھا اور بھول گئے۔ کچھ محاوروں کو سمجھنے کےلئے برس ہا برس بےت جاتے ہےں۔ اور کچھ محاورے اس طرح ازبر ہو جاتے ہےں کہ بس گرد و بےش کا تمام منظرنامہ اُسی محاورے کی تعبےر و تشرےح کرتا دکھائی دےنے لگتا ہے۔ متذکرہ بالا ”محاورہ“ بھی اُسی قبےل کا ہے۔ اس کی معنوےت‘ اہمےت آپ کو چند سطری خبرےں پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہو گی۔
”وزارت مواصلات“ کے مطابق پچھلے دور مےں سارا پےسہ صدر اور وزرائے اعظم اور ان کے رشتہ داروں کی زمےنوں تک سڑکےں بنانے پر خرچ ہو گےا۔ استحقاق تو کسی کا بھی نہےں مگر صدر اور وزراءاعظم کو خصوصی بونس دےکر بات رشتہ داروں کی ہو تو ”محاورہ“ کا مطلب زےادہ واضح ہو گےا۔
”وزےراعظم“ کے ”مشےر ہوا بازی“ نے خود ائےر لائن لائسنس کی درخواست دےدی۔ منظوری اُس وزارت نے دےنی ہے جس کا وہ خود سربراہ ہے۔ ”اےن آئی اےچ“ کا سانپ کے کاٹنے کی ناقص دوا فراہم کرنے کا اعتراف۔ دُنےا بھر مےں اس مرتبہ ”پاکستانوں کا حج“ سب سے مہنگا ہو گا۔ ”نےپرا“ نے بجلی صارفےن پر 5 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالدےا۔ ”وزےراعظم“ نے فرماےا کہ بجلی چور اور سرکاری لوگ ملے ہوئے ہےں۔ بحران کے ذمہ دار واپڈا اور متعلقہ محکمے ہےں۔ بجا فرماےا مگر سوال اُٹھتا ہے کہ سرکاری اہلکار ہو ےا محکمہ ہےں تو ”رےاست“ کے تنخواہ دار۔ اُن کو تفوےض کردہ فرائض کی جوابدہی کا اختےار کِس کے پاس ہے؟ اےک سال مےں ”220 ارب“ کی بجلی ضائع اور ”90 ارب“ کی چوری ہو گئی۔ کےا ان سب کا علاج صرف گرفتاری ےا بھاری جرمانے ہےں۔ ےقےناً اےسے اقدامات کچھ تلافی کر ہی سکتے ہےں مگر پائےدار حل مسائل کا جامع‘ متفقہ اور بااختےار فےصلہ سازی ہے نہ کہ ”اخپل بادشاہی“ ”گولےن گول“ پروجےک©ٹ کی تعمےر مےں 10 سال کی تا خےر کا باعث بننے والے ذمہ داروں کا ابھی تک تعےن نہےں ہو سکا۔ ”رےاست کے اندر رےاست“۔ اوپن مارکےٹ مےں گندم 1370 روپے من۔ ٹماٹر 200 روپے کلو ”ہسپتالوں“ مےں جعلی ادوےات کی فراہمی عروج پر۔ محکمہ خوراک سندھ کی نااہلی‘ سرکاری گوداموں مےں کروڑوں روپے کی گندم خراب ہو گئی۔ گندم چار برس سے کھلے آسمان تلے پڑی تھی۔ دوسری طرف مارکےٹ‘ ےوٹےلٹی سٹورز پر آٹے کی مصنوعی قلت بدستور جاری‘ پانچ برس مےں ”اےف بی آر“ نے ”500 ارب“ کی ٹےکس چھوٹ دی۔
ےہ خبر ”محاورہ“ کا مطلب چودہ طبق کی طرح وحشت کر دےگی۔ ”اےف بی آر“ کی ناقص کارکردگی‘ رےونےو خسارہ ”578 ارب“ تک پہنچ گےا۔ کہاں اتنی فےاضی کہاں اتنا جھٹکا ”اخپل بادشاہی“ سانگلہ ہل مےں ”نان سٹاپ“ ٹرےن کا ڈرائےور سونے کی وجہ سے سٹےشن پر ٹرےن کھڑی کرنا بُھول گےا۔ کےا ےہ قصور آپ کےلئے زےادہ بہتر نہےں ہو گا کہ ہم سب اےک زمےن ہی ”نان سٹاپ“ ٹرےن پر سوار ہےں جس کا کوئی ڈرائےور ہی نہےں۔
”اخپل بادشاہی“ کے محاورے کو آپ اس خبر کے ساتھ مکس کرکے پڑھےں گے تو کہےں زےادہ مفےد طور پر ”پشتو محاورے“ کو اپنی زندگی کا سب سے بہتر آئےنہ سمجھےں گے۔۔ ”واپڈا اور بجلی کی تقسےم کار کمپنےوں کی عدم توجہ کے باعث بجلی کا نظام 1970ءکے دور کی مشینری پر چل رہا ہے۔ ہر روز 16% سے لےکر 20% بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔ اس مشےنری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افسران گرڈ سٹےشن کی بجلی فےکٹرےوں کو فروخت کر دےتے ہےں۔ قارئےن ”منڈی سے مارکےٹ“ کا تو سنتے آئے تھے اب ”گرڈ سٹےشن سے فےکٹری تک“ محاورہ بھی آج سے اپنی ڈائرےوں پر ضرور نوٹ کر لےں۔ کوئی پوچھنے والا نہےں۔ اتنے لمبے چوڑے بجٹ،،بھاری بھرکم سٹاف وزےر۔ ڈپنی وزےر کے باوجود ؟؟؟ ”اخپل بادشاہی“ کےا تمام خبرےں پڑھنے کے بعد آپ کو لگتا ہے کہ ہم اےک منضبط‘ متوازن معاشرہ کے باسی ہےں۔ ہم ےہ کہنے مےں صحےح نہےں کہ ےہ وہ معاشرہ ہے جس مےں قانون صرف ”زمےن“ پر چلنے والوں پر (عام آدمی) لوگو ہوتا ہے اور اشرافےہ صرف عام آدمی پر چلنے والا ”ڈرون طےارہ“ بن چکی ہے۔ ہر ادارے کی اپنی حکومت ہے۔ اختےارات کی بھرمار ہے۔ مراعات کی کوئی حد مقرر نہےں۔ تعےشات کا کوئی شمار نہےں مگر فرائض کی ادائےگی مےں معاملہ صفر سے بھی نےچے جا چکا ہے۔ کےا ےہ بدقسمتی نہےں کہ ہمارے شہر ترقی‘ خوشحالی کی طرف بڑھنے کی بجائے سماجی‘ سےاسی‘ اخلاق زوال کی طرف جاتے دکھائی دےتے ہےں۔ شخصےات اداروں کا براہ راست متصادم دکھائی دےنا۔ برسوں سے کہےں بھی تو حکومتی نظم‘ اتھارٹی نظر نہےں آرہی ہے۔ بے معنی عصیبتوں کا شکار معاشرہ‘ پچھلے کئی سالوں سے قوم اےک تکلےف دہ عہد سے گزر رہی ہے۔ پچھلے عہد سے ہم اےک باقاعدہ‘ باضابطہ رےاستی سٹرکچر سے محروم ہو چکے ہےں۔ ےہ ہماری حرماں نصےبی ہے کہ قےادت نے ہی باہمی سر پھٹول مےں اےسی قےامت برپا کی ہے۔ ہمارے باہم بے مروت روےے‘ حساس قومی معاملات مےں ناروا تاخےر‘ دُشمنان قوم و ملک کی بابت مُجرمانہ گرےز پائی۔ تمام معاملات مےں دوست نما دشمن کی طرف ”Tilt“ ان سب عوامل کا نتیجہ رےاستی ڈھانچے کی کمزوری اور حکومتی رِٹ کی بربادی کی صورت مےں نظر آرہا ہے۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہےں۔ سب ہی بادشاہ ہےں۔ ”جمہورےت کے بدترےن انتقام“ کے بعد ہم بجا طور پرامےد رکھتے ہےں کہ ”موجودہ قےادت“۔ ”اخپل بادشاہی“ کے مطلب کو مکمل طور پر بدل دے گی اور ہمےں ےقےن واثق ہے کہ اس سلسلہ مےں صرف ”عزم“ درکار ہے۔ اداروں کو افراد کو قانون کے دائرے مےں لانے اور منضبط زندگی بسر کرنے کے آداب سکھانے کی ضرورت نہےں بلکہ صرف ارادہ‘ مضبوط‘ ٹھوس قوت فےصلہ درکار ہے۔ ”محاورے“ کے مطلب کو بدلنا ہے تو ہر اےک کو خود کی ذات سے آغاز کرنا پڑے گا۔
پاکستان زندہ باد