صدارتی الیکشن کابائیکاٹ اور پیپلزپارٹی

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

آئین کے مطابق صدارتی الیکشن صدر مملکت کے عہدے کی میعاد پوری ہونے سے کم ازکم ایک ماہ پہلے منعقد ہونا لازمی تھے اور صدر آصف علی زرداری نے چونکہ پانچ سال پہلے 9ستمبر کو اپنے عہدے کاحلف اٹھایاتھا لہٰذا ان کی صدارتی مدت 8ستمبر کو ختم ہوتی ہے اور اس سے ایک ماہ پہلے ‘ الیکشن زیادہ سے زیادہ ‘ صدارتی الیکشن 7اگست کو کراسکتاتھا ۔الیکشن کمیشن نے 6اگست کو صدارتی الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کردیا اور جب حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے الیکشن کمیشن کی توجہ اسی امر کی طرف سے دلائی گئی کہ 6اگست 27ویں رمضان المبارک کا دن ہے اور یہ دن او ررات مسلمانوں کیلئے دنیا کے کام کاج چھوڑ کر مکمل انہماک سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے مخصوص ہیں تو الیکشن کمیشن کو اپنی غلطی کا یقینا احساس ہوگیا ہوگا لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے خود تو صدارتی الیکشن کی تاویل نہیں کی البتہ اپنے فیصلے میں یہ ضرور لکھ دیا کہ اگر سپریم کورٹ حکم دے تو الیکشن 6اگست کے بجائے کسی دوسری تاریخ کو اکرائے جاسکتے ہیں ۔ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی کہ چونکہ 6اگست کو 27ویں رمضان المبارک کی وجہ سے ارکان پارلیمنٹ کی دینی مصروفیات زیادہ ہوتی ہیں اور کچھ دوسرے رمضان المبارک کے آخری ایام میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب جاسکتے ہیں لہٰذا ‘ صدارتی الیکشن رمضان المبارک کاآخری عشرہ شروع ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ 30جولائی تک منعقد کرائے دئیے جائیں تو رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے جانے والے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اعتکاف پر بیٹھنے والوں کو اپنی دینی مصروفیات ترک یاتبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہےں آئے گی۔ صدارتی الیکشن کی تاریخ تبدیل کرنے کیلئے یہ انتہائی معقول جواز تھا۔ پاکستان کے سیاست دانوں کی ایک لابی کومملکت خدادادپاکستان کاآئین‘ قرآن وسنت سے بھی عزیز ہے اور وہ ذہنی طورپر ہمیشہ دینی شعائر کی نفی کرنے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ 27ویں رمضان کی اہمیت پاکستانیوں کیلئے اس لحاظ سے یقینا بہت زیادہ ہوجاتی ہے کہ یہ رات محض نزول قرآن کی رات ہی نہیں ہے بلکہ یہ وہ رات ہے جب پاکستان کاقیام وجود میں آیاتھا۔ پاکستان 14اگست 1947ءکو معرض وجود میں آیاتھا ۔ یہ 27ویںرمضان المبارک 1367ءکی مبارک رات تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانان ہند کو برصغیر کے نقشے میں ایک الگ اسلامی ریاست عطا کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مملکت خداداد کا قیام 27ویں رمضان المبارک کی اس مبارک رات کو کیاتھا جسے شب قدر بھی کہتے ہیں ۔اس ایک رات کی عبادت ہزاروں سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ جو اس برگزیدہ رات کو تمام شب جاگتا نہیں تو تھوڑی بہت دعا اس سلسلہ میں ضرور کرتاہے کہ اے اللہ!اس کے گناہوں کو بخش دے۔ پاکستان کے جو حالات ہیں ‘ پوری قوم کو اس سال رمضان المبارک کی 27ویں رات کوشب بیداری کرکے اللہ سے اپنی اپنی بخشش کے علاوہ اس ملک کی سلامتی‘ بقاءاور خوشحالی کی طلب کرنی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے ملک کاصدارتی انتخاب 27ویں رمضان المبارک بلکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے سے پہلے یعنی 30 جولائی کو منعقد کرنے کاحکم بالکل دینی شعائر اور اسلامی روایات کے مطابق دے کر قوم کے جذبات کے مطابق فیصلہ کیاہے لیکن ملک کی سابق حکمران پارٹی نے صدارتی الیکشن میں اپنے امیدوار کی شکست کونوشتہ دیوار دیکھ کر اس کا بائیکاٹ کرکے صدارتی انتخابات کے نتائج کو ڈس کریڈٹ کرنے کی جو کوشش کی ہے ۔ اس کوشش کوتحریک انصاف نے صدارتی الیکشن کابائیکاٹ نہ کرنے کااعلان کرکے‘ ناکام بنادیاہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے امیدوار کو صدارتی مقابلے سے واپس لے کر سپریم کورٹ کے صدارتی الیکشن ‘ 6ستمبر کے بجائے30جولائی کو منعقد کرانے کے فیصلے کومتنازعہ بنانے کی کوشش ‘ مستقبل قریب میں پیپلزپارٹی کے لیڈروں کے متعلق ہونے والے فیصلوں پر اپنے تحفظات کااظہار کے طورپر کی ہے۔ پارٹی کے سینئر بیرسٹر اعترازاحسن کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے سابق وزرائے اعظم سمیت متعددلیڈروں پر بنائے گئے مقدمات کے باعث ‘ وہ سب سپریم کورٹ میں بلائے جارہے ہیں۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے وکلاءتحریک میں عدلیہ کی آزادی اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کیلئے جو کردار اداکیاتھا اس پر انہوںنے پر پوری قوم کے دل جیت لئے تھے اور بعدازاں صدر زرداری نے عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے ان کی پسندیدگی کو بھانپتے ہوئے بینظیر بھٹو مرحومہ کی چوتھی برسی کی تقریبات میں اپنی تقریر کے بعد انہیں تقریر کرنے کاموقع دے کر سیاسی طورپر ایسا دھوبی ٹپرا مارا تھا کہ اس کے بعد سے وہ مسلسل پٹری سے اتر چکے ہیں او رسپریم کورٹ کی طرف سے صدارتی الیکشن کی تاریخ تبدیل ہونے پر اب کتنی دور کی کوڑی لائے ہیں۔ قائداعظم نے 27ویں رمضان المبارک کے باعث لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو یہ نہیں کہاتھا کہ پاکستان قائم نہ کرو‘ بیرسٹر اعتزاز احسن کو شاید یہ بات ابھی بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ پاکستان لارڈ موﺅنٹ بیٹن نے نہیں اللہ کے حکم سے قائم ہوا تھا۔ اسے نہ زرداری توڑ سکتا ہے اور نہ اعترازا حسن ۔صدارتی الیکشن سے27ویں رمضان المبارک کو”آلودہ“ نہ کرنے سے سپریم کورٹ اور حکمران پارٹی دونوں کے وقار میں اضافہ ہوا ہے اور نقصان صرف پیپلزپارٹی کا ہوا ہے یا بیرسٹر اعتزازاحسن کا جنہوں نے 27رمضان المبارک کے روزے اور شب قدر کی رات کی جانے ولای عبادت کو نفلی عبادت کہہ کر اپنی شخصیت میں چھپے ہوئے لادین سیاسی مہم جو کو خود ہی پوری قوم کے سامنے بے نقاب کردیاہے۔ ملک کاآئندہ صدر سید ممنون حسین ہو یا جسٹس (ر) وجیہ الدین ۔۔صدارتی الیکشن زندہ باد ‘ پاکستان زندہ باد!