شہباز شریف کا ہیلی کاپٹر کہاں ہے؟

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

میرا اعجاز چودھری صدر پنجاب تحریک انصاف کے بارے میں ایک کالم لکھنے کا ارادہ تھا‘ لیکن کیا قسمت دار آدمی ہیں کہ میرا یہ ارادہ بیچ ہی میں رہ گیا۔ جماعتی کارکنوں نے ان پر الیکشن میں پارٹی ٹکٹ فروخت کرنے کے الزامات لگائے۔ سلونی بخاری پر سکتہ طاری ہو گیا۔ یہ تحریک انصاف کی بنیادی اراکین میں سے ہیں۔ سلونی بخاری پارٹی کی صوبائی خواتین ونگ کی صدر ہیں‘ بیچاری تحریک انصاف کے کوٹے سے پنجاب اسمبلی کیلئے منتخب ہونے والی خواتین کو جانتی پہچانتی تک نہیں۔ سلونی بخاری کو فہرست میں وہاں رکھا گیا جہاں سے ان کی اسمبلی تک رسائی ناممکن ہو۔ پنجاب اسمبلی پہنچ کر حلف اٹھانے والی خواتین کا حدود اربعہ کیا ہے؟ ان کی کوالیفکیشن کیا ہے؟ ان کی پارٹی خدمات؟ یہ سب کچھ اعجاز چودھری جانتے ہیں‘ صرف وہی تو جانتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن میں اعجاز چودھری کو عرفی شیرازی کا فارسی شعر یاد آگیا۔ وہ اسے بڑے مزے لے لے کر سنانے لگے....
عرفی تو منیدش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کنند رزق گدارا
ترجمہ: عرفی رقیبوں کے شورو غوغا کی پرواہ نہ کر۔ کتوں کے بھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہوا کرتا۔
یا الٰہی یہ کیا ہو رہا ہے۔ اپنی پارٹی میں اختلاف رائے رکھنے والوں کو ایسی تشبیہوں سے.... ہماری پارٹی میں یہ کیا روایت شروع کی جا رہی ہے۔ جو شخص کوئی فارسی شعر لہک لہک کر پڑھتا ہے‘ وہ یقینا اس کا مطلب بھی جانتا ہے۔ کیا رزق سے مراد ٹکٹوں کے عوض سمیٹا ہوا مال متال تو نہیں؟ کیا اس منظوم اقبالی بیان“ کے بعد اسے تحریک انصاف پنجاب کی صدارتی کرسی پر بیٹھنے کا حق رہ جاتا ہے؟ اسی ورکرز کنونشن میں چیئرمین جناب عمران خان تقریر کیلئے اٹھتے ہیں‘ وہ برملا اعتراف کر رہے ہیں۔ ہاں! کچھ ٹکٹوں کے معاملات میں بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہاں! خواتین کی مخصوص نشستوں میں بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہاں! انٹرا پارٹی الیکشن میں بھی کچھ غلط لوگ اوپر آگئے ہیں۔ اس پر حاضرین پر زور تالیاں بجاتے ہیں اور دیر تک بجاتے چلے جاتے ہیں۔
عمران خان نے حاضرین کے دل کی بات کی تھی۔ اس ورکرز کنونشن میں پنجاب خواتین تحریک انصاف کی صدر سلونی بخاری اور پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمود الرشید کو نہیں بلایا گیا تھا۔ اعجاز چودھری کہنے لگے ہاں! ہمیں ان کو نہ بلانے میں کچھ دفتری غلطیاں ہوئی ہیں۔ غلطیاں‘ غلطیاں‘ غلطیاں لیکن کیا قسمت دار آدمی ہیں کہ پھر بھی پوری پارٹی میں سے کوئی ایک آواز بھی نہیں آرہی کہ اعجاز چودھری کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ کیا قسمت دار آدمی ہیں کہ ان کی بریت کیلئے ایک کمشن بھی بنایا گیا ہے جو ٹکٹوں کے معاملہ میں کرپشن کی تحقیقات کرے گا۔ تین بڑے بڑے نامور‘ پگ‘ دستار‘ علم‘ فضل اور رتبے والے آدمی اس کمشن کے ممبر بنائے گئے ہیں۔ اب پاکستان میں کون نہیں جانتا کہ کمشن کسی معاملے کو ”کھوہ کھاتے“ ڈالنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ میں اس قسمت دار آدمی کیلئے ایک تفصیلی کالم لکھنا چاہتا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ نہیں لکھ پا¶ں گا۔ درمیان میں اک اور مسئلہ آن پڑا ہے۔ میں کل اپنے شہر گوجرانوالہ میں ایک ہوٹل میں افطار پارٹی پر چلا گیا۔ ان دنوں افطار پارٹیوں کا اک طوفان برپا ہے۔ واہ! مجید لاہوری‘ پچاس برس بعد بھی وہی حالات ہیں....
دن کو جاری لنچ بھی سگریٹ بھی لیکن شام کو
دعوت افطار میں جانے کا موسم آگیا
روزہ افطار کرنے میں ابھی دیر تھی۔ ایک بیرا میرے پاس آیا۔ کچھ ڈرتے ہوئے اور کچھ جھجکتے ہوئے پوچھنے لگا۔ ”کیا آپ کا نام فاروق عالم انصاری ہے“؟ میرے اثبات میں جواب پر وہ پھر بولا ”آپ وہی انصاری صاحب ہیں جو اخبار نوائے وقت میں کالم لکھتے ہیں“۔ میں نے جواب دینے کی بجائے الٹا اس سے سوال کر ڈالا ”آپ کا اس سے کیا مطلب ہے اور کیوں پوچھ رہے ہو؟“ وہ بیچارہ پھٹ پڑا۔ ”میرا نام یامین ولد عبدالحمید ہے۔ میں سرگودھا کا رہنے والا ہوں۔ یہاں نوکری کے سلسلہ میں مقیم ہوں۔ اس ہوٹل میں بیرا گیری کا کام کرتا ہوں۔ ہم پورا کنبہ جلیل ٹا¶ن میں ایک کمرہ کرایہ پر لیکر رہتے ہیں۔ اسی سال 16 فروری کو جلیل ٹا¶ن کے رہائشی فرمان اور نعمان میری پندرہ سالہ نابالغ بہن کو اغوا کرکے لے گئے ہیں۔ اس روز سے تھانہ کچہری کے چکر لگا رہا ہوں۔ مجھ پردیسی کی کوئی بھی تو نہیں سنتا۔ اب کہیں 16 جولائی کو تھانہ صدر گوجرانوالہ میں میرا مقدمہ درج ہوا ہے لیکن پولیس میرے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر رہی۔ پولیس نے میری بہن کیا برآمد کروانی ہے۔ انہوں نے تو ملزموں کو پکڑا تک نہیں۔ ملزمان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کچی ضمانتیں کروا لیں۔ 31 جولائی کو پکی ضمانتیں بھی ہو جائیں گی۔ پھر وہ ہماری گلی میں دندناتے پھریں گے۔ میں اور کچھ نہیں چاہتا۔ میں ملزموں کو سزا دلوانا نہیں چاہتا۔ ہم صرف اپنی ننھی منی بہن کی واپسی چاہتے ہیں۔ ہم غریب پردیسی لوگ ہیں‘ کہیں اور چلے جائیں گے۔“ نابالغ مغویہ پانچ ماہ سے ملزمان کے چنگل میں ہے۔ میں سوچنے لگا کہ اب یہ بیچاری اپنے ماں باپ‘ بہن بھائیوں کو پہچانے گی یا اپنی کوکھ پر اک نظر ڈالے گی۔ پھر وہ یامین نامی بیرا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میرا خیال تھا کہ شاید میرے ذہن میں سرسراتے ہوئے خدشات‘ اس کے ذہن میں بھی گھس آئے ہیں۔ لیکن معاملہ کچھ ہوا تھا۔ آنسو¶ں کا سیلاب رکنے پر اس نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے بتایا کہ چند روز پہلے ہی اس کا باپ اسی صدمہ میں اللہ کو پیارا ہو چکا ہے۔ اب وہ چپ ہو گیا۔ وہ نہیں بتا رہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ مجھے کیوں بتا رہا ہے۔ پھر جیسے اسے اچانک یاد آگیا ہو۔ اب وہ کہنے لگا ”اگر یہ سب کچھ آپ کی اخبار میں چھپ جائے تو شاید میرا کام بن جائے۔“ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تک پہنچانا چاہتا ہے؟ اس پر وہ خاموش رہا۔ شاید وہ غریب آدمی حوالدار‘ تھانیدار تک ہی داد رسی چاہتا تھا۔ شاید اسے امید نہیں تھی کہ کوئی بڑا آدمی چھوٹے لوگوں کے کام بھی آسکتا ہے۔میں سوچنے لگا کہ اس مقدمہ کے ملزمان کتنے قسمت دار ہیں کہ انہیں اتنا کمزور‘ بزدل اور مسکین مدعی ملا ہے۔