سیاست کا نیل !

نازیہ مصطفی
ستمبر چھ سو اکتالیس میں مسلمانوں کے ہاتھوں مصر پہلی مرتبہ فتح ہوا۔ فتح کے دس ماہ بعد زراعت کے پیشہ سے وابستہ قدیم قبطیوں کا ایک وفد مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاصؓ کے پاس آیا۔ یہ جون کا مہینہ تھا، جسے قبطی زبان میں ”بو¿نہ“ کا مہینہ کہا جاتا تھا۔ قبطی وفد نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو بتایا ”جناب امیر! یہاں دریائے نیل کو ایک عادت ایسی پڑگئی ہے کہ جسے پورا نہ کیا جائے تو وہ اس مہینے میں چلنا بند کر دیتا ہے۔“ حضرت عمرو بن عاصؓ نے وہ ”عادت“ پوچھی تو قبطی بولے ”حضرت! نیل کی عادت یہ ہے کہ ”بو¿نہ“ کے مہینہ کی بارہ راتیں پوری ہو جاتی ہیں تو ہم کسی حُسین دوشیزہ کو شاندار کپڑے پہنا کر اور قیمتی زیورات سے لاد کر دریائے نیل کے حوالے کر دیتے ہیں، یہ بھینٹ ملنے پر نیل رواں ہو جاتا ہے اور پھر ہمیں کاشتکاری میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔“ حضرت عمرو بن عاصؓ نے فرمایا ”اسلام گزشتہ تمام جاہلانہ رسموں کے خاتمے کیلئے آیا، لہٰذا اِس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔“ وفد یہ سُن کر مایوس لوٹ گیا اور تھوڑے دنوں کے بعد وہی ہوا جس کا خدشہ قبطی وفد نے ظاہر کیا تھا۔ یہاں تک کہ لوگ خشک سالی کے سبب دوسرے مقامات کی طرف ہجرت کا ارادہ کرنے لگے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے یہ صورتحال دیکھی تو حضرت عمرؓ کو خط لکھ کر مشورہ طلب کیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا ”میں تمہارے پاس ایک خط بھیج رہا ہوں، اسے دریائے نیل میں ڈال دینا۔“ حضرت عمرو بن عاصؓ نے وہ خط کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا تھا ”اللہ کے بندے امیرالمومنین عمر بن خطابؓ کی طرف سے مصر کے دریا نیل کے نام! اے نیل! اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو جیسے تیری مرضی اور اگر خدائے واحد قہار ہے جو تجھے چلاتا ہے، تو ہم اسی خدائے واحد قہار سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔“ حضرت عمرو بن عاصؓ نے یہ خط عید میلاد المسیح (مسیحیوں کی عید صلیب) سے ایک دن پہلے نیل میں ڈال دیا۔ خدا کی قدرت کہ قبطیوں نے عیدِ صلیب کی صبح جا کر دیکھا تو دریائے نیل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بہنا شروع کر چکا تھا۔اب ہمارا کوچہ¿ سیاست کیا کسی ”نیل“ سے کم ہے؟ جب بھی پاکستان میں حکومت تبدیل ہونے کا وقت آتا ہے، سیاست کایہ ” نیل“ بھی بھینٹ مانگتا ہے اور بھینٹ لیے بغیر نہیںٹلتا۔ زیادہ دور نہیں جاتے، گزشتہ بیس پچیس برسوں کا جائزہ ہی لے لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1993ءکے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو پہلی مرتبہ ایک جماعت کے طور پر کامیابی تو ملی لیکن پیپلز پارٹی سے نشستیں کم ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ ن مرکز میں حکومت بنا پائی نہ ہی پنجاب میں اس کی دال گلی، حالانکہ پنجاب میں اس کی اچھی خاصی نشستیں تھیں۔ اُدھر پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ جونیجو کے ساتھ مل کر مرکز کے ساتھ ساتھ لاہور کا تخت بھی حاصل کر لیا۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو مسلم لیگ ن نے ”ہارنے“ کیلئے چوہدری پرویز الٰہی کو امیدوار نامزد کر دیا، لیکن یہ بھینٹ چوہدری پرویز الٰہی کے کام نہ آئی۔ 1997ءکے انتخابات میں ہیوی مینڈیٹ لینے کے بعد جب صاف ظاہر تھا کہ وزیر اعلیٰ مسلم لیگ ن کا ہی ہوگا تو تب یہ قرعہ چوہدری پرویز الٰہی کی بجائے میاں شہباز شریف کے نام نکال لیا گیا۔ دوسری جانب 1997ءمیں ہی پیپلز پارٹی نے نواز شریف کے مقابلے میں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار شاہ محمود قریشی کو نامزد کر دیا۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی 17 سیٹوں کے ساتھ شاہ محمود قریشی بیچارے تب ہارنے کے سوا کر بھی کیا سکتے تھے؟ لیکن یہ بھینٹ آنے والے وقت میں ملتان کے اس مخدوم کے کام نہ آئی۔ یہی وجہ ہے کہ 2008ءمیں وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر پیپلز پارٹی میں کسی غیر بھٹو کیلئے گنجائش بنی بھی تو یہ قرعہ ملتان کے دوسرے مخدوم یوسف رضا گیلانی کے نام نکل آیا، کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر زرداری صاحب کی گریجوایشن مکمل ہوتی تو شاید گیلانی کی بھینٹ بھی رائیگاں جاتی! اسی طرح محترمہ بینظیر بھٹو کی جلاوطنی میں 2002ءکے انتخابات کے بعد میر ظفراللہ جمالی کے مقابلے میں مخدوم امین فہیم کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بناکر بھینٹ لی گئی، لیکن وقت آنے پر ان کا دامن بھی خالی رہا۔اس سیاسی بھینٹ کی دو واضح مثالیں تو ابھی حال ہی میں سامنے آئیں ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں کہ اگر 2013ءکے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی ہوتی اور انیس بیس کے فرق کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو مرکز میں حکومت بنانے کی تھوڑی سی امید بھی ہوتی تو میاں نواز شریف کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بھلا کون ہوتا؟ کیا اُس وقت عمران خان کے علاوہ کسی دوسرے کا چانس بن سکتا تھا؟ کیا اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں بھی جاوید ہاشمی سے اِس طرح کی بھینٹ طلب کی جا سکتی تھی؟ اور دوسری جانب اگر اب بھی جوڑ تور کی صورت میں پیپلز پارٹی کو اپنا صدر منتخب کرانے کی موہوم سی امید بھی ہوتی تو بھلا کس کی مجال تھی کہ ِاس عہدہ جلیلہ کیلئے آصف علی زرداری کے سوا کسی دوسرے کا نام بھی اپنے ہونٹوں پر لاتا؟ کیا اُس وقت بھی پیپلز پارٹی رضا ربانی کوہی اپنا امیدوار بناتی؟ جنہیں گزشتہ پانچ برسوں میںکسی قابلِ ذکر عہدے کے لائق سمجھا گیا نہ ہی کسی اور معاملے میں گھاس ڈالی گئی؟پاکستان کے سیاسی نیل کے پیاسے تو کہیں اور ہجرت بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے پاس تو ایک ہی چوائس ہوتا ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے آقا کی خوشنودی کیلئے بھینٹ دینے کیلئے قبطی دوشیزہ کی طرح تیار رہیں۔