زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

ایک وقت تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے ہزار سال جنگ کا نعرہ لگایا تو پاکستانی دیوانہ وار مسلم لیگ کو چھوڑ کر بھٹو پارٹی میں شامل ہوتے چلے گئے ۔ بھارت دشمنی کے سبب بھٹو عوامی لیڈر کے مقام تک پہنچ سکے ۔آج بھی بے شمار دلوں میں محبت کا مقام رکھتے ہیں جس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ وہ نسل تھی۔قیام پاکستان دوران ہونے والے مظالم سہے بھٹو کے بعد جنرل ضیاءالحق کے غیر جماعتی انتخابات میں قوم وملک کو بری طرح تقسیم در تقسیم کر دیا ۔ سیاسی جماعتوں میں رہی سہی قومی فکر اور جمہوری شعور جاتا رہا ملک میں ایم کیوایم اور اے این پی جیسی لسانی ، علاقائی اور فرقہ ورانہ جماعتوں نے قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا ۔گو جنرل ضیاءالحق نے 14اگست کو ایک قومی جشن کی شکل میں تبدیل کر دیا تھا مگر سیاسی جماعتوں کی غیر فطرتی توڑ پھوڑ نے جہاں جمہوری اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہاں سیاست میں برادری ازم اور فرقہ ورایت کو پیوست کر دیا ۔ غیر جماعتی انتخابات سے جنم لینے والی قیادتوں کی جمہوری تربیت و اقدار سے نا آشناہونے کے باعث نظریاتی اور اصول پرست سیاسی کارکن بے وقعت ہوگیا ۔ اس کی جگہ مفاد پرست ، ابن الوقت اور خوشامدی آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئے ۔وہ طبقہ جو سیاست دان اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا تھا وہ نہ رہا اور سیاسی جماعتیں لمیٹڈ کمپنیوں کی شکل اختیار کر گئیں ۔مختلف گھرانے مناسب سرمایہ اور مخصوص مفادات کے ساتھ پارٹی میں شامل ہوتے ہیں ۔ قومی تہوار پر چند بینر اخبارات میں خوشامدی اشتہارات کے بعد پرتکلف کھانوں کا اہتمام کرکے کوچہ سیاست میں رونق افروز و برجمان ہوجاتے ہیں ۔ حسب ضرورت سرکاری ٹھیکے آﺅٹ آف ٹرن بچوں کی ترقی کچھ پر مٹ چند یورپین ویزے بٹورتے ہیں پھر دوسری برسراقتدار آنے والی پارٹی کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اسی کلچرنے ملک کو بحرانوں سے دوچارکیا ۔کرپشن کی دلدل میں دھنسی ریاست کا یہ حال ہے کہ کسی ادارے کوکرپشن سے صاف کرنے کےلئے ایسے لوگ دستیاب نہیں جن پر اعتماد کیا جاسکے کی ۔ ہمارے ملک میں بےشمار ادارے ہیں مگر کبھی کسی مجرم کو سزا ہوتے نہیں سناگیا ۔ حد تو یہ ہے کہ اتنی بڑی بڑی دہشت گردیاں ہوئیں آج تک کسی کو پھانسی چڑھتے نہیں دیکھا ۔ پی آئی اے ، ریلوے ، سٹیل ملز، اوجی ڈی سی جیسے منافع بخش ادارے کنگال ہوگئے ۔ نت نئے افسانے سامنے آتے ہیں ۔
نظریاتی اور جمہوری انحطاط کی کیفیات میں جنم لینے والی قیادتیں ملی جذبوں اورجراتوں سے عاری ہیں ۔سردار عبدالرب نشتر فرماتے تھے کہ زر پرست قوم پرست نہیں ہو سکتا۔ محلات بنانے والے قوم نہیں بنا سکتے ۔جاگیر دار اور سوداگر کارخانے لگاتے اور بنگلے بنانے منافع کمانے کے ماہر ہوتے ہیں ۔ رموز جہانگیری ان کے بس کی بات نہیں جو اپنے ملک میں چور پر ہاتھ نہ ڈال سکیں سزا دینے کے قابل نہیں وہ ہمسایہ ممالک کی آنکھ میں آنکھ کیسے ڈال سکتے ہیں ؟
1947ءسے آج تک بھارت نے کسی دن پاکستان پر خیر کی نظر ڈالی نہ اس جانب سے کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ۔ قیام پاکستان کے موقع پر قتل و غارت گردی صوبہ سرحد کو علیحدہ ملک پختونستان بنانے کی کوشش ، قلات و مکران اور بہاولپور کو بھارت میں شامل کرنے کی سازشیں ہوئیں ۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فوجیں داخل کی گئیں ۔ حیدر آباد ، جونا گڑاور مانا ودر پر قبضہ کیا ۔ سابقہ 67سال سے کشمیر میں اتنگ واد مچا رکھا ہے ۔موجودہ دور میں افغانستان جا کر تخریب کاری کے اڈے قائم کئے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی جاری ہے ۔بلوچ باغی سرعام کہتے ہیں کہ بھارتی فوج ہمارے ساتھ ہے ۔ عجب طرفہ تماشہ جگہ جگہ بھارتی جارحیت بے نقاب ہو رہی ہے ۔ ہمارے دریاﺅں کا پانی سے بجلی بنے ہم اس کو خریدنے کے لئے بیتاب ہیں ۔ بھارت میں ہونے والے واقعات کا الزام پاکستان کے سر لگا کر دنیا میں بدنام کیا گیا ۔ عشرت جہاں قتل کیس میں بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر کا بیان دکھایا گیا جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی دہشت گرد حملے خود بھارتی سرکار کی کاروائی تھی تاکہ دہشت گردی ایکٹ کو مزید سخت کیا جاسکے ۔ اندرون بھارت مسیحیوں اور مسلمانوں کے ساتھ توہین آمیز اور نفرت انگیزسلوک کے بیشمار واقعات منظر عام پر آچکے ہیں ۔
ہمارے ہاںعاقبت نا اندیش ننگے دین ننگے وطن طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر حزیمت ہر پستی کو قبول کرتے ہوئے بھارت دوستی اور محبت میں مر ا جارہا ہے ۔ ہمارے چار صوبے ہیں ہم ایک کالا باغ ڈیم بنانے پر اتفاق رائے سے محروم ہیں ۔ یہ کون لوگ ہیں جو مخالفت کر رہے ہیں ان کا حدود اربعہ دیکھا جائے ان کے ماضی حال کا جائزہ لیا جائے ان کی آمدنی اخراجات پر نظر رکھیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت آخر کیوں کرتے ہیں ؟پاکستان بنانے والے جذبہ ایمانی سے سرشار تھے آج کیسی قومی قیادت ہے ۔ قومی امور پر بات کرتے گھبراتے ہیں کیوں کالا باغ ڈیم پر منہ بند ہیں ؟ کشمیر جنت نظیر میں کفار کی بربریت پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے ؟ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ کے لئے حاصل کیا گیا تھا یہ چوروں منافع خوروں اورجعل سازوں کی پناہ گاہ بن کر رہ گیا ۔ ہائے زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن۔ پاکستان کے اندر ایک نظریاتی انقلاب برپا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہمیں جمہوری اداروں کو قوی کرنے کے ساتھ اپنے تدریسی عمل میں بھی انقلابی تبدیلیاں رونما کرنی ہونگی ۔ پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام جو قومی امنگوں اور جذبوں پر مبنی ایسانظام جس سے نکلنے والے ہر بچے کی سوچ و فکر کا مرکز ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا عملی قیام ہو سکے جس کے رگ و پے میں پاکستانیت رچ بس جائے ۔