بجلی و گیس چوروں کے خلاف نواز شریف کے انقلابی اقدامات

محمد عارف سندھیلہ

”چوری“ اتنا ہی مکروہ اور گھناﺅنا جرم ہے جتنا کہ قتل۔ اسلامی تعزیرات میں قتل کی سزا قتل ٹھہری۔ چوری کرنے والے کا پہلی بار دایاں ہاتھ کاٹا جائے دوسری بار اگر وہ پھر اسی جرم کا مرتکب قرار پائے تو اسکا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا جائے اگر پھر بھی اپنی خصلت سے باز نہ آئے تو اسکی ایسی ترتیب سے ٹانگیں کاٹی جائیں۔ اسلامی معاشرے نے جرائم کی بیخ کنی کیلئے ساڑھے چودہ سو سال قبل ان دونوں افعال کی سزائیں مقرر کر دیں تاکہ معاشرہ میں بگاڑ پیدا نہ ہو سکے جوں جوں اسلامی تہذیب تمدن پروان چڑھتا گیا۔ ان سزاﺅں پر سختی سے عملدرآمد ہوتا رہا مگر افسوس وطن عزیز میں ہر آمر کے عہد حکومت میں ان سزاﺅں سے نظریں چرائی جاتی رہیں خاص کر پرویز مشرف کے عہد میں جب قومی اداروں کے تشخص کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ ارض پاک میں بسنے والے ہر چھوٹے بڑے چور نے مشرف کی چھتر چھایا تلے پناہ لیتے ہوئے قومی خزانے کو شیر مادر کی طرح لوٹا جس میں بعض بڑی بڑی فیکٹریوں اور سی این جی اسٹیشنوں کے مالکان نے گیس اور بجلی کی وسیع و عریض پیمانے پر چوری کر کے خود کو اربوں کھربوں روپے کے اثاثوں کا مالک بنا لیا مگر ملک اور اسکے اداروں کو زبوں حالی کے باعث خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ آج انہی عاقبت نااندیش افراد کی پشت پناہی کرنے والے بعض سرکاری ملازمین کے باعث وطن عزیز انرجی کے بحران سے نبردآزما ہے۔ موجودہ انرجی بحران ایک دو سال کی چوری کے باعث پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ تقریباً گذشتہ چودہ سالوں کی غلط پلاننگ، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری اور بااثر افراد کی غلطیوں کا شاخسانہ ہے۔ جسکی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ مذکورہ بالا افراد کی ہوس و لالچ کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ بیروزگاری میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ خودکشیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے انرجی کرائسز سے نبٹنے کیلئے جہاں دوسرے ممالک اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے متعدد نئے معاہدے کئے جا رہے ہیں۔ وہیں پر بجلی چوروں کی سزاﺅں کیلئے بھی قانون سازی کی جا رہی ہے۔ بطور پارلیمنٹیرین مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی و گیس کے ستائے عوام کی اشک شوئی کے لئے قومی خزانے کو لوٹنے، نقصان پہنچانے اور عوامی حقوق پر ڈاکہ زنی کرنے والوں کی کم سے کم سزا ”سزائے موت “ رکھی جائے۔ میری دانست میں گیس اور بجلی چور اتنے ہی ملزم ہیں جتنا کہ قاتل اور آئین توڑنے والا آمر ہے آمر کسی بھی ملک کے آئین مقدس کو پامال کر کے اقتدار پر قابض ہوتا ہے جس سے مذکورہ ملک غربت و افلاس اور بے روزگاری کی پست ترین حدوں تک چلا جاتا ہے اسی طرح قاتل مقتول کے پورے گھرانے کو فاقوں مرنے اور ساری زندگی کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور کر دیتا ہے بالکل اسی طرح قومی خزانہ لوٹنے والا اور ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والا خود تو اربوں کھربوں کے اثاثوں کا مالک بن جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ عوام کا فاقوں مرنا مقدر ٹھہرتا ہے بجلی و گیس کی چوری کرانے والے سرکاری ملازمین بھی اتنی سزا کے مستحق ہیں جتنا چوری کرنے والا قرآن پاک کے فیصلے کی رو سے رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں ہی جہنمی ہیں۔ ملکی حالات کی رو سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران سینکڑوں انسانی ہلاکتوں کے ذمہ دار بھی وہی افراد ہیں جنہوں نے یہ بحران پیدا کیا ہے۔ انرجی کرائسز سے جہاں ملکی معیشت تباہ ہوئی ہے وہاں ملکی وقار بھی داﺅ پر لگ چکا ہے مثال کے طور پر ایکسپورٹرز حضرات کے متعدد غیر ملکی سودے اس لئے منسوخ ہو گئے کہ یہاں سے برآمد کیا جانے والا مال ہی بروقت تیار نہ ہو سکا غیر ملکی خریداروں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے متبادل انتظامات کر لئے اور دوسرے ممالک سے اپنا مال منگوا لیا۔ ایک طرف ہمارے خریدار ہمیشہ کیلئے ہاتھ سے نکل گیا تو دوسری طرف ملک میں آنے والا زرمبادلہ بھی نہ مل سکا جس سے ملکی ترقی کا پہیہ رک گیا۔ غیر ملکی ادائیگیاں بروقت نہ ہونے کے باعث ملکی ناموس و وقار داﺅ پر لگ جاتا ہے۔ راقم صدخراج تحسین پیش کرتا ہے میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کو جنہوں نے اقتدار کے روز اول سے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے انرجی کرائسز سے نبٹنے کا تہیہ کر رکھا ہے اس ضمن میں دونوں بھائی اپنے سابق حکمرانوں پر روایتی دشنام طرازی کے بجائے عملی اقدامات کر رہے ہیںعنان مملکت سنبھالتے ہی میاں صاحبان نے بجلی و گیس چوروں کا قلع قمع کرنے کیلئے ڈور ٹو ڈور قومی خزانے کے چوروں کے خلاف بلا امتیاز مہم تیز کر رکھی ہے جس کے خوش کن ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،سینکڑوں بجلی و گیس چوروں کی گرفتاری سے جہاں قومی خزانے میںریونیو آرہا ہے وہاں بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ پر بھی قابو پانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تقریباً ختم ہوچکا ہے البتہ اعلانیہ لوڈشیڈنگ ضرور ہورہی ہے حکومت نے 2017 تک ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا عندیہ دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ میں فخرسے کہ سکتا ہوں کہ 2018ءتک وطن عزیز میں بجلی سرپلس ہوجائے گی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی بجلی و گیس چوروں کی نشاندہی کرے تاکہ ان چوروں کا بے رحم احتساب کرکے قوم کی زندگیوں میں در آنے والی مشکلات و تکالیف میں کمی لائی جاسکے خدا تعالیٰ نے اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلی جسکو اپنی حالت بدلنے کی فکر نہ ہو اب جبکہ قومی تقدیر سنوارنے کیلئے میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف میدان عمل میں آچکے ہیں من حیث القوم ہمارا یہ اولین فرض ہے کہ ہم بلا خوف و خطر بجلی و گیس چوروں کی نشاندہی کریں خواہ وہ موجودہ بجلی و گیس چور ہوں یا انہوں نے موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے قبل بجلی و گیس کی چوری کی ہو بعض نام نہاد قومی لیڈر بھی اس گھناﺅنے فعل کے مرتکب رہ چکے ہیں ان کے اثاثوں کی چھان بین کرنا بھی عین انصاف ہوگا۔