انرجی کرائسز اور ہنگامی بریفنگ

کالم نگار  |  عتیق انور راجا

نئی حکومت کے قیام کے بعد امید تھی کہ مسائل کے انبار کے حوالے سے روز روز لمبی چوڑی بریفنگ کا سلسلہ شروع ہو گا۔ عوام و خواص کو اصل صورتحال اور صبر کی تلقین کے ساتھ ساتھ شاید کوئی خوش خبری بھی سننے کو ملتی رہے گی کیوں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے الیکشن مہم کے دوران انرجی اور دیگر مسائل کے حوالے سے بہت سے دعوے کئے تھے اور پھر عوام کو یقین بھی تھا کہ مسلم لیگ (ن) جو کہ ایک محب وطن پارٹی ہے وہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے میں کوئی اہم قدم ضرور اٹھائے گی لیکن سوا مہینہ گزر گیا کوئی خیر خبر موصول نہ ہوئی ۔ بہرحال بڑے دنوں بعد محی الدین احمد وانی اور ڈاکٹر نذیر سعید جیسے فعال افسروں کی کاوشوں سے وہ میڈیا اور سینئر صحافیوں کے سامنے ایک ہنگامی بریفنگ میں جلوہ گر ہوئے۔ مقررہ وقت پر بریفنگ شروع ہوئی جو کہ بڑی سنجیدگی سے تیار کی گئی تھی۔ میاں نواز شریف صاحب اس بار سیاست دان سے زیادہ ایک محب وطن اور درد مند پاکستانی کے طور پر نظر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم سب بجلی کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام محکموں کا حال بجلی اور معیشت جیسا ہی ہے خصوصاً پی آئی اے، سٹیل مل، پاکستان ریلوے سمیت دیگر محکموں کی مجموعی حالت بھی بہت ابتر ہے اور اس پر طرہ یہ کہ گیس اور بجلی کی چوری زوروں پر ہے ۔ ساﺅتھ ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ اِن ایفی شینٹ ملک سمجھا جاتا ہے جب کہ ساﺅتھ ایشیا میں پاکستان کا نمبر پہلے نمبر پر ہے جہاں ایک سو پینتیس ارب کی سالانہ چوری ہوتی ہے۔ میاں صاحب نے بتایا کہ ہم نے بڑے وسعت ِ دل سے سب کا مینڈیٹ قبول کیا ہے ۔ اب صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے مرکز سے نہ صرف تعاون کرے بلکہ اپنی شبانہ روز کاوشوں سے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کا سفر شروع کرے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بجلی کی کمی تو ایک طرف ٹرانسفارمرز کی حالت یہ ہے کہ وہ مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ فی الحال حکومت نے سابقہ چار سو اسی ارب کی ادائیگی کے ذریعے پیداوار میں کچھ اضافہ کیا ہے۔ پچھلے سال کی پیداوار بارہ ہزار آٹھ سو میگا واٹ تھی جب کہ اس سال سے یہ پیداوار چودہ ہزار سات سو میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کھپت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس لئے تبدیلی نمایاں طور پر نظر نہیں آتی۔ ترقی کے لئے توانائی کے حصول پر توجہ کی ضرورت ہے کیوں کہ آج کے دور میں تمام شعبوں کی ترقی میں توانائی کا خاص عمل دخل ہے۔ اس حوالے سے حکومت بہت سے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کرنے والی ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی دعوت دی جا رہی ہے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ موجودہ پیداوار کا استعمال بہتر بنایا جا رہا ہے جس کے لئے کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام بازاروں کو رات آٹھ بجے تک بند کر دیا جائے اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں میں ذمہ داری کا کلچر متعارف کرایا جائے کہ وہ اس مسئلے کو اپنا ترجیحی مسئلہ بنا کر اس کے حل میں حکومت کی مدد کریں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں جن میں برطانیہ شامل ہے شام سات بجے تمام بازار بند ہو جاتے ہیں، سمجھ نہیں آتی کہ جس ملک کی فیکٹریاں اور کارخانے بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند ہوں وہاں کے بازار رات بارہ بجے تک کیوں کھلے رہتے ہیں۔ سولر انرجی بھلے مہنگی ہونے کے باعث ہماری پہنچ سے دور ہے مگر ہم دن کی روشنی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے شام کو کاروباری مراکز جلدی بند کر کے ایک ذمہ دار قوم کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی چوری کے حوالے سے خصوصی اقدامات کئے جانے چاہئیں اور اس کا دائرہ کار پنجاب سے بڑھا کر پورے پاکستان تک پھیلانا چاہئے۔ فی الحال گورنمنٹ نے معاملات کو شفاف بنانے کےلئے میرٹ کےساتھ ساتھ ایک ویب سائٹ کا بھی اعلان کیا ہے جہاں کسی بھی محکمے یا فرد کی بجلی کی کھپت کے حوالے سے معلومات حاصل کی جا سکیں گی لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے تمام مثبت منصوبوں میں پوری طرح شامل ہونا پڑےگا۔