”NO MORE “

کالم نگار  |  سید روح الامین
”NO MORE “

ٹرمپ کی پاکستان کے بارے حالیہ دھمکی کوئی حیران کن نہیں ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں ٹرمپ اپنی الیکشن مُہم کے دوران بھی اپنے ان مذموم عزائم کا اظہار کرتے رہے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ تو اللہ کریم نے قرآن مجید میں واضح کردیا ہے کہ کافر مُسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے یہ الگ بات ہے کہ مُسلمان حکمران آج بھی غیرمُسلم حُکمرانوں سے ذاتی دوستیاں نِبھا رہے ہیں۔ بلاشبہ دہشت گردی جو کئی سالوں سے دنیا میں ہورہی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان وطنِ عزیز پاکستان نے اٹھایا ہے۔ کم و بیش 80 ہزار معصوم پاکستانی شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ امریکہ نے تو شاید11/ 9 کا ڈرامہ رچایا تھا نقصان تو سب سے زیادہ مسلمانوں کا ہوا اور ہورہا ہے۔ دُنیا نے دیکھا کہ ہماری بہادر فوج کس قدر جرا¿ت مندی سے دہشت گردوں کا صفایا کررہی ہے۔ ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد اب ”ردالفساد“ جاری و ساری ہے۔ کافی حد تک ہماری فوج دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھیڑنے میں کامیاب ہوچکی ہے‘ کئی فوجی جوان اس مہم میں شہادت کے درجے پر بھی فائز ہوئے اب امریکہ کا پاکستان سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ کرنا حیران کُن کے علاوہ مضحکہ خیزبھی ہے۔ آگ تو ہمارے گھر میں لگی ہوئی ہے کیا ہمیں اس کی فِکر نہیں ہے؟ کیا ہم سکُون میں ہیں؟ دہشت گردی تو محض ایک بہانہ ہے اصل جنگ تو اسلام اور کُفر کے درمیان ہے۔ افغانیوں کو ہم نے پناہ دی ہوئی ہے حالانکہ انڈیا اور افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کرائی جاتی ہے‘ کلبھوشن ایک واضح ثبوت ہے۔ امریکہ اور انڈیا تو خود بڑے دہشت گرد ہیں۔ بھارت 70 سال سے کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر جو مظالم ڈھا رہا ہے کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ امریکہ سمیت اقوام متحدہ نے جان بُوجھ کر کشمیر کے بارے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ بہرحال پریشان ہونے کی بالکل ضرورت ہی نہیں۔ مُسلمان کو حُکم ہے کہ وہ ہر وقت اپنے گھوڑے تیار رکھے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ نہ ہمیں امریکی امداد چاہئے نہ سامان بس امریکہ ہم پر اعتماد کرے؟ یہ بیان کئی سال قبل آنا چاہئے تھا۔ بہرحال دیر آید درست آید ۔ چین نے بھی امریکہ کی دھمکی پر نہایت حوصلہ افزاءبیان دیا ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ”ہمیں ویتنام ‘ کمبوڈیا نہ سمجھا جائے امریکہ نے غلطی کی تو پاکستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بن جائے گا۔“باعث افسوس ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو شاہد خاقان عباسی کا بیان سب سے پہلے آنا چاہئے تھا مگر ....؟ آج 24 اگست کو قومی سلامتی کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔ حدیث پاک میں ہے جو شخص خود کسی عہدے کی خواہش کرے اسے وہ عہدہ نہ دیا جائے مگر ہمارے ہاں اہلیت کی بناءپر عہدے نہیں دیئے جاتے ”وفاداری“ کے باعث نوازا جاتا ہے۔ خواجہ آصف چار سال میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ لوڈشیڈنگ تو ختم کر نہیں سکے اب موصوف کو وزیر خارجہ بنا دیا گیا ہے۔ پہلے چار سال وزیر خارجہ کی ضرورت ہی کیوںمحسوس نہیں کی گئی؟ وزیر خارجہ تو حب الوطنی کے علاوہ انگریزی پر عبور رکھتا ہو اس شخص کو ہونا چاہئے جو دنیا میں جاکر اپنا نُقطہ نظر کُھل کر واضح انداز میں بیان کرسکے۔ حکومت ابھی تک پانامہ کے فیصلے کا ”سوگ“ منانے میں مصروف ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف صاحب بھی اگر ٹرمپ کی حالیہ دھمکی پر اپنا مو¿قف واضح کرتے اور خود بھی امریکہ کو جواب دیتے یقینا انہیں پذیرائی ملتی۔ حکومتی ارکان بجائے یہ کہ اپنے فرائض ادا کریں وہ سب سابق وزیراعظم صاحب کی ”دلجوئی“ میں مگن رہتے ہیں۔ عدالتی فیصلے کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ مودی یا ٹرمپ کو کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے ہم مسلمان قوم ہیں‘ شہادت ہماری منزل ہے۔ ٹرمپ کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے بغیر اسلحہ کے ہمارے 313 نے ٹرمپ کے اسلاف جو کہ ہزاروں میں تھے ان کا مقابلہ کرکے فتح حاصل کی تھی‘ اب تو ماشا اللہ ہم ایٹمی قوت بھی ہیں۔ اندرونی حالات ہمارے جیسے بھی ہوں دُشمن کیلئے پاکستانی قوم ایک ہوتی ہے۔ 65ءاور 71ءکے علاوہ حالیہ دہشت گردی میں بھی پاکستانی فوج اور قوم ایک ہی پلیٹ فارم پر ہونے کا عملی مظاہر کرچکے ہیں۔ کافر تو موت سے ڈرتا ہے مگر ایک مُسلمان جو شہید ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ اے میرے مالک مُجھے پھر دنیا میں بھیج تاکہ میں تیری راہ میں جان کا نذرانہ پیش کروں۔ اگر ہمارے حُکمرانوں نے بانی پاکستان قائداعظم کے ارشادات پر عمل کیا ہوتا اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کی طرف توجہ کی ہوتی بخدا آج ہم ایک بااصول‘ باغیرت اور خُوددار قوم ہوتے۔ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں وطن عزیز کو اسلام کے نام پر اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے تمام دُشمن اندرونی ہوں یا بیرونی خود ہی نیست و نابود ہوتے رہیں گے۔ ہماری سکیورٹی فورسز اب تو گلی محلوں سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو چُن چُن کر پکڑ رہی ہیں پھر بھی یہ کہنا کہ پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور وہ ان کیخلاف کُچھ نہیں کر رہا۔ ہماری 80 ہزار پاکستانی شہادتوں کا اعتراف نہ کرنے اور ان کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف امریکی سابق سی آئی اے کے افسران خود ہی ٹرمپ کو ذہنی مریض قرار دے چکے ہیں اور امریکی میڈیا نے بھی ٹرمپ کی حالیہ افغان پالیسی کے بارے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے پوری پاکستانی قوم مُتحد ہو اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو‘ دشمن ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ ہمارے اندر جو میر جعفر اور میر صادق ہیں ان پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ بانی پاکستان نے بھی فرمایا تھا کہ ”مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے“ ٹرمپ جی ہم اپنے دفاع کیلئے تو اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘ اگر آپ ہماری قربانیوں کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتے تو معذرت کے ساتھ ”NO MORE “