یاد اُن کو میری بھی آتی تو ہو گی

یاد اُن کو میری بھی آتی تو ہو گی

کہتے ہیں کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے اور ’’سازش‘‘ ہمیشہ ابتدا میں کامیابیاں اور بالآخر بدترین شکست سے ہمکنار کرتی ہے۔ معاصر میڈیا گروپ اس وقت اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ اپنے وطن کی قیمت پر کوئی بھی کامیابی، زندگی کی سب سے بُری ناکامی ہے۔ دنیا کی ہر قوم اپنے وطن کی محبت میں سرشار ہوتی ہے۔ دنیاوی کامیابیوں کیلئے اپنی فوج کو ملوث کرنا گناہ کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے عمران خان کا مؤقف سب سے واضح، مدلّل اور دلیرانہ رہا ہے۔ دوسرے سیاستدان بھی دیکھا دیکھی بیانات دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ گھنائونی مہم شروع کی گئی، اس وقت یہ لوگ، ان کی فہم و فراست، انکی حب الوطنی کہاں تھی؟ یہ کافی خوشی کی بات ہے کہ پہلی مرتبہ ہمارے صدر کا ایک دبنگ بیان سامنے آ گیا ہے۔ صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ دوسروں نے شروع کی اور مصیبتیں ہم برداشت کر رہے ہیں۔ صدر ممنون نے پھر فوراً ہی رٹی رٹائی باتیں شروع کر دیں کہ جی ماضی میں ہمارے لوگوں سے غلطیاں ہوئیں، گورننس اچھی نہیں رہی، کرپشن کی وجہ سے حالات میں بگاڑ آیا، سابقہ حکومتوں نے وعدے پورے نہیں کئے وغیرہ وغیرہ۔ صدر ممنون حسین اور اُن کی ٹیم کی پرانی عادت ہے کہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالے جاتے ہیں، ماضی کو رونے اور دوسروں کو الزام دینے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ نہیں بتاتے کہ خود کیا غلطیاں دُہرا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کو ایک سال ہونے کو آیا مگر حکومت کی کارکردگی ناقص چلی آ رہی ہے، ہر شخص نالاں ہے، ہر فرد اپنے مستقبل سے خائف ہے کسی بھی حوالے سے کوئی مثبت کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ سفارتی تعلقات کا کھچائو کم ہُوا نہ مہنگائی ختم ہوئی، بیروزگاری کا خاتمہ ہُوا نہ امن قائم ہُوا، نہ ملک کے معاشی، معاشرتی، تعلیمی و سیاسی حالات بہتر ہوئے۔ پھر صدر ممنون مصیبتیں برداشت کرنے کا واویلا کس بنیاد پر مچا رہے ہیں؟ حکمرانوں کو مصیبتوں کا کیا پتہ؟ ایک مقروض ملک کے صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، ارکان اسمبلی، بادشاہوں اور شہزادوں جیسی زندگی گزار ر ہے ہیں، مصیبتیں تو بیچارے عوام کو اٹھانا پڑ رہی ہیں۔ ہمارے حکمران کب تک اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور نااہلیوں کو لفاظی سے چھپاتے رہیں گے؟
ادھر میاں شہباز شریف نے فرمایا ہے کہ عوام سے کئے وعدے ہر قیمت پر پورے کریں گے۔ کاش وہ یہ بھی بتا دیتے کہ یہ وعدے وہ آخر کب پورے کریں گے۔ وزارتِ اعلیٰ میں وہ ہیٹ ٹرک کر چکے ہیں، وزراتِ اعلیٰ کا عرصہ حیات تقریباً 12 سال پر مشتمل ہے۔ اقتدار میں تو دو دن ہی بہت اہم ہوتے ہیں۔ ایک بار ایک بادشاہ نے مرنے والے مجرم سے پوچھا کہ مرنے سے پہلے کوئی خواہش بتائو جسے پورا کر دیا جائے۔ مجرم نے کہا کہ مجھے صرف ایک دن کی بادشاہت درکار ہے آپ مجھے ایک دن کیلئے بادشاہ بنا دیں۔ بادشاہ نے ایک دن کیلئے بادشاہت اسے سونپ دی۔ مجرم نے بادشاہ بن کر اعلان جاری کیا کہ ملک سے غربت کا خاتمہ کیا جائے، اس کیلئے شاہی خزانے سے مدد لی جائے۔ ہر بیروزگار کو نوکری اور وسائل دئیے جائیں، ہر مجرم کو صفائی کا موقع دیا جائے، سرقلم کی روایت ختم کی جائے، تمام عقوبت خانے، قیدخانے، جیلیں بند کر دی جائیں۔ مجرموں کو سزائیں دینے کی بجائے ان کی اصلاح کی جائے اور بادشاہت کا خاتمہ کر کے ملک کا سربراہ کسی ذمہ دار کو بنایا جائے۔ ان احکامات کی تعمیل کی گئی، بادشاہ کو تخت سے ہٹا دیا گیا، مجرم کی سزا کالعدم قرار دیدی گئی اور کثرت رائے سے اُسے ملک کا سربراہ بنا دیا گیا۔ راوی بتاتا ہے کہ صدیوں پہلے یہ ملک انتہائی خوشحال ہو گیا۔ کیا وزیراعظم، صدر، وزیر اعلیٰ میں یہ اخلاقی جرأت ہے؟ مسلم لیگ (ن) ملک میں ستائیس سال برسر اقتدار رہی ہے مختلف مواقعوں پر صدر، وزیراعظم، گورنر، وزرائے اعلیٰ سب مسلم لیگ (ن) کے رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) 27 سال میں بھی ملک سے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ نہیں کر سکی حتیٰ کہ مہنگائی پر بھی قابو نہیں پا سکی۔ مسلم لیگ (ن) اب کیا اپنی اگلی جنریشن میں وعدے پورے کرے گی؟ پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ کسی فریق نے مذاکرات سے نکلنے کا اعلان نہیں کیا۔ حکومت طالبان مذاکرات محض وقت کا ضیاع ہے۔ ابھی تک کے نتائج صفر ہیں اور آئندہ بھی یہی نتائج رہیں گے۔
ملکی حالات اتنے خوفناک ہو گئے ہیں کہ کہیں سے کوئی خیر کی خبر نہیں آتی۔ ابھی گرمی جوبن پر نہیں آئی مگر لوڈشیڈنگ آ گئی۔ ہمارا تو ڈاکوئوں اور ناکوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے، جس سڑک گلی موڑ پر چلے جائو ہر جگہ ناکے لگا رکھے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر روز لاہور میں سوا کروڑ سے زائد کے ڈاکے پڑ رہے ہیں، ہر طرف انارکی ہے۔ پاکپتن میں بھٹہ خشت مالک نے مزدوری مانگنے پر بیوہ کا بیٹا آگ میں پھینک دیا جبکہ کنسٹرکشن کمپنی کے سپروائزر نے مزدور کو گولی مار کر قتل کر دیا، گھریلو جھگڑے پر شوہر نے بیوی کی ٹانگیں توڑ ڈالیں۔ یہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر ہے جس کے رنگ خون آلود ہیں اور جہاں نہ روایات زندہ ہیں نہ قانون کی پاسداری --- میرا کام تو ارباب اختیار کو ان کی ذمہ داریوں کا بار بار احساس دلانا ہے۔ مجھے حکمرانوں کی خوشنودی نہیں، اپنے وطن کی سالمیت، عزت اور خوشحالی چاہئے۔ میں تو یونہی سدا دیتی رہوں گی اور اسی طرح آپ کو احساس دلاتی رہوں گی۔ شاید آپ کو اثر ہو جائے۔
رنگ دل کی دھڑکن بھی لاتی تو ہو گی
یاد اُن کو میری بھی آتی تو ہو گی