کوریائی وزیر اعظم مستعفی۔۔۔ اور ہماری اُلٹی گنگا

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ
کوریائی وزیر اعظم مستعفی۔۔۔ اور ہماری اُلٹی گنگا

جنوبی کوریا کا ماضی اور حال میں کئی مشترکات ہیں۔اسے بہت سے سیاسی و فوجی بحرانوں سے گزرنا پڑا۔پاکستان اور جنوبی کوریا میں بہت بڑا فرق یہ ہے کہ اس کی لیڈر شپ نے اپنی غلطیوں سے سیکھا جس کے باعث آج وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے جبکہ ہم غلطی پہ غلطی دہرائے جارہے ہیں۔ایک قدم ترقی کی طرف بڑھاتے ہیں تو دو قدم پستی کے طرف چلے جاتے ہیں۔وہ اصول پرستی کے قائل ہیں جبکہ ہماری لیڈر شپ کا کوئی اصول نہیں۔ہم جو کچھ ہیں وہ ہمیں پتہ ہے ۔ایک سرسری سی نظر سائوتھ کوریا پر ڈال لیتے ہیں جس سے کم از ہمارے اور ان کے مشترکات کا اندازہ ہو سکے ۔مئی 1948 ء میں جنوبی کوریا کو جمہوریہ قرار دیا گیا اور سینگمن ری کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ سیول اس مملکت کا دارالحکومت قرار پایا۔ جنوبی کوریا کا رقبہ 38ہزا مربع میل ہے اور اس کی آبادی 47ملین ہے۔ 1950 میں شمالی کوریا کی فوجوں نے جنوبی کوریا پر چڑھائی کر ڈالی۔ اس طرح جنگ کوریا کا آغاز ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے فوجی دستے امریکہ کی زیر قیادت جنوبی کوریا کی امداد کو پہنچے۔ یہ جنگ تین سال جاری رہی۔ کوریا کی جنگ امریکہ کی پہلی محدود جنگ تھی، پہلی غیر اعلانیہ جنگ تھی، اور امریکہ کی پہلی جنگ تھی جسے وہ جیت نہ سکا۔جنگ کوریا دنیا کی پہلی جنگ تھی جسے دنیا کی دو سپر طاقتیں امریکہ اور روس بالواسطہ جنگ (Proxy War) کے طور پر لڑتی رہیں۔ اس تین سالہ جنگ میں 30 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے جس میں 36940 امریکی شامل تھے۔ (جبکہ ویتنام کی 16 سال جنگ میں امریکہ کے 58218 شہری مارے گئے تھے۔) 1953 ء میں جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے ساتھ ہی دونوں کوریائی ریاستیں 38 عرض بلد پر مستقل تقسیم ہو کر رہ گئیں۔بعد میں دونوں ریاستوں کو اقوام متحدہ کا ممبر بنا لیا گیا۔جنوبی کوریا میں سنگمن ری کی حکومت رفتہ رفتہ غیر مقبول ہوتی چلی گئی۔ طلبا نے اس کے خلاف زبردست تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں 26 اپریل 1960ء کو سنگمن ری کو مستعفی ہونا پڑا۔16 مئی 1961 ء کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے’’ جنرل پارک چنگ ھی‘‘ حکمران ٹولے کا چیئرمین بن گیا۔ 1963ء میں اسے صدر منتخب کر لیا گیا۔ 1972 ء کے ایک ریفرنڈم میں جنرل پارک چنگ ھی کو غیر محدود مدت کے لیے ملک کا صدر بننے کا اختیار دے دیا گیا۔ 26 اکتوبر 1979ء کو کوریا کی سی آئی اے کے چیف نے جنرل پارک چنگ ھی کو قتل کر دیا۔ مئی 1980ء میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل جن دوھواںنے ملک میں مکمل مارشل لاء نافذ کر دیا اور جمہوریت کے حق میں مظاہرے کرنے والے عوام کو ’’کوانگ جو‘‘ میں طاقت کے ذریعے کچل کر رکھ دیا۔
10 جون 1987 ء کو مزدوروں، کارکنوں، دکانداروں اور دیگر متوسط طبقے کے لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں میں طلبا کا ساتھ دیا اور جمہوریت کی بحالی کامطالبہ کیا۔ یکم جولائی 1987ء کو ’’چن‘‘ نے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔ دسمبر 1987ء میں ’’اوہ تائی وو‘‘ صدر منتخب ہو گیا۔ 1990ء میں تین بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک ہی جماعت میں ضم ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک لاکھ طلباء نے اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دے کر اس کے خلاف مظاہرے کئے۔
1993 ء میں ’’کم یونگ سام‘‘ نے 1961 ء کے بعد پہلی مرتبہ سول صدر کا منصب سنبھالا۔ 26 اگست 1996 ء کو سیول کی ایک عدالت نے جنرل چنگ کو بغاوت اور کرپشن کے الزام میں سزائے موت اور اوہ تائی وو کو اڑھائی سال قید کی سزا سنائی۔ 18 دسمبر 1997 ء کو کم وائے جنگ نے صدارتی انتخاب جیت لیا۔ 22 دسمبر 1997ء کو چنگ اور اوہ کو معافی دیکر کر رہا کر دیا گیا۔جنوبی کوریا میں بہت کچھ ایسا ہوا جو پاکستان میں بھی ہوتا رہا آج جس طرح ملک میں آئی ایس آئی کی ایک میڈیا گروپ حکومت کی شہہ پر کردار کشی کررہا ہے اس تناظر میں مزید بھی وہ کچھ ہو سکتا ہے جو کوریا میں ہوچکا ہے ۔کسی کافوج کو فتح کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔میاں نواز شریف نوے کی دہائی میں کئی بار ایسی کوشش کر چکے ہیں۔اب وہ ایک میڈیا گروپ کے بل بوتے پر اپنی 1999ء والی غلطی دہرا رہے ہیں۔’’ کشتی ڈوبنے کے معاملے پر ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیراعظم مستعفی ہو گئے ہیں۔ کشتی پر 476 افراد سوار تھے 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا جبکہ 187 افراد کی نعشیں نکالی جا چکی ہیں۔ جنوبی کوریا کے وزیراعظم نے کشتی ڈوبنے کے حادثے سے نمٹنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیراعظم چنگ ہونگ ون نے اپنے بیان میں کہا کہ بحری جہاز حادثے کو روکنے اور حادثے سے نمٹنے میں ناکامی پر معافی مانگتا ہوں۔ بطور وزیراعظم اپنے آپ کو حادثے کا ذمے دار سمجھتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی استعفیٰ دینا چاہتے تھے تاہم جانے سے پہلے امدادی کارروائی کو ترجیح دی۔‘‘ چنگ ہانگ ون کے استعفے سے میری نظر میں ان کی قدرو منزلت کئی گنا بڑھ گئی۔وہ مستقبل میںاپنی قوم کا ہیروہوگا۔ ہمارے ہاں اُٹی گنگا بہتی ہے ۔ کبھی ملک کو ڈبونے والوں نے استعفیٰ دیا نہ معیشت کا بیڑہ گرق کرنے والوں نے۔یہاں تو ملکی سالمیت کا سودے کرنdوالوں سے کسی نہیں پوچھا۔ پاکستانیوں کے خون پسینے کی کمائی سے سوئس بنک بھرنے ، انگلینڈ ، مغربی اور عرب ممالک میں کھربوں ڈالر کی جائیدادیں بنانے اور سرمایہ کاری کرنے والے معزز ہیں۔ادارے بیچنے والے قابل احترام ہیں۔اگر ہم نے اپنے رویوں پر نظر ثانی نہ کی تو ملکی ترقی اور وقومی خوشحالی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
ملک میں ان دنوں چلنے والی سیاسی،عسکری اور صحافتی کشمکش اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہماری لیڈرشپ نے67سالوں میں بھی کچھ نہیں سیکھا اور عوام بھی ٹھنڈی چاٹی کی’’لسّی ‘‘ پی کر سوئے ہوئے ہیں ۔ وگرنہ ملک جل رہا ہوتو عوام اس سے لاتعلق کیسے رہ سکتے ہیں؟