ملک پہلے!

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور
ملک پہلے!

حامد میر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی جانی چاہئے یہ اصولی بات ہے دلیل یا گرما گرم دلیل یا دلائل کا انبار لگانا اور تجزیہ پیش کرنا اینکرز کا کام ہے جن پر بھی الزامات کی بوچھاڑ ہو جواب دلائل ہی سے آنا چاہئیے دلیل کے مقابلے میں گولی تک کی نوبت تک پہنچنا فریق مخالف کی عملی و منطقی شکست ہوتی ہے حامد میر پر گولیاں برسانے والے دہشت گرد جو بھی ہوں گے ان کے پس پردہ اصل طاقتیں پاکستان کو سیاسی، قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق سے محروم کرنے کے مشن پر ہو سکتی ہیں بڑے خفیہ آپریشن کرنے والے ملک دشمن خفیہ ادارے اپنا ٹارگٹ بہت چن کر اور نفع و نقصان کے درست اندازے کرنے کے بعد ہٹ کرتے ہیں نتیجہ بڑے بحران یا بحرانوں میں متعلقہ ملک کو دھکیل دینا ہوتا ہے بڑے عالمی خفیہ ادارے یہ کام یا تخریبی فتنہ انگزیزی بڑے نیٹ ورک تشکیل منصوبہ سازی، ممکنہ اثرات، قوم، صوبوں، فرقوں، نسلی گروپوں، قومی اداروں، افواج آئی ایس آئی نما ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں وغیرہ میں باہم دست و گریباں اور مار دو یا مر جائو جیسے سنگین منفی جذبات کے فروغ اور عملی صورت گری کے لئے اپنے جاسوس اور ایجنٹوں سے مشن مکمل کرواتے ہیں نتیجہ ملکوں، قوموں، نسلوں، سیاسی گروپوں، فوج یا جہادی گروپوں، لسانی گروپوں میں وسیع تخریب نکلتا ہے۔ مقصد صرف اور صرف اپنے عالمی، علاقائی، سیکورٹی، معاشی معاملات کے لئے متعلقہ ملک یا خطے کو زیر کرنا تبدیلی لانا خون کے سمندر میں تبدیل کرنا ملک کی بنیادیں ہلانا یا معاشی طور پر غلام بنانا ہوتا ہے کچھ اسی طرح کے عالمی خفیہ اداروں کے مشن اربوں روپے کے فنڈز کے ساتھ کم از کم دس سال سے پہلے پاکستان کے اندر بھی چلائے جا رہے ہیں ان تمام قومی سلامتی کے چیلنجوں سے صرف اور صرف آئی ایس آئی نمٹ رہی ہے پاکستان کی سلامتی، تحفظ، سالمیت اور بقاء کے لئے آئی ایس آئی واحد ادارہ ہے اور جو دوسرے نمبر پر مسلح افواج!
حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد بڑے چینل نے انتہائی قابل اعتراض مہم کم از کم 8 گھنٹے مسلسل چلائی کر آئی ایس آئی ’’جرائم پیشہ ملزم‘‘ بنا دیا دعوی اور الزامات کا تسلسل تو صرف اور صرف ’’ملزم یا مجرم‘‘ آئی ایس آئی کے چیف اور افسران کا تھا طوفان ایسا اٹھایا گیا کہ حکمران، جرنیل، محب وطن صحافی سناٹے میں آگئے!! المیہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کو حامد میر کا بڑا ملزم قرار دینے کا ٹی وی چینل کا عملا اقدام ملک کو کسی بحران میں دھکیلنے کا سبب بن سکتا ہے پاکستان کے جرنیل یا وردی والے چھوٹے آفیسران یا فورس (فوج یا آئی ایس آئی) کبھی بھی ادارے، اجتماعی بے وقاری، پیشہ ورانہ افتخار، غیر ملکی خفیہ اداروں کے ایجنٹوں پر ٹھنڈے پیشوں غافل نہیں ہو گی میاں محمد نواز شریف نے پہلے بڑی خاص کوششوں سے فوجی کمانڈ اور کور کمانڈرز کو خواجہ (ز) کی تلخ کلامی کے بیانات کے بعد تھوڑا ٹھنڈا کیا تھا کہ اب آئی ایس آئی کو بطور ادارہ چار دن رسوا کروانے کے بعد، وزیر داخلہ و وزیر دفاع کے بیانات سے موم کرنے کا عمل کیا یہ سب تاخیر وردی والوں اور خفیہ والوں دونوں کے جذبات بھڑکا گئی آخر یہ سب کچھ حکومت اور حکمران درست وقت اور بروقت کرنے سے کیوں قاصر رہے؟ وہ بھی تب جب فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اکھٹے ہو گئے؟؟ فوج کو دیوار سے لگانے والے آگ سے نہ کھیلیں صبر کی کوئی حد ہوتی ہے سارے ادارے کو نشانے پر رکھ کر جمہوریت لپیٹنے کا سامان خودکشی ہے۔