فوج کی تضحیک ۔۔۔ جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

فوج کی تضحیک ۔۔۔ جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

آج پاکستان میں سیاسی استحکام کی ماضی کے کسی دور سے زیادہ ضرورت ہے۔ اسکی ذمہ داری مکمل طور پر حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت نہ جانے کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے کہ وہ سنجیدہ اور نازک معاملات پر بھی نہ صرف بے نیازی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ بعض معاملات کو وہ بگاڑنے میں بھی پیش پیش ہے۔ ایران میں کچھ عرب ممالک کی مداخلت کی خواہش ہمارے حکمران تحفوں کی وصولی کے بعد پوری کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ شام میں باغیوں کیخلاف استعمال کے اسلحہ کی فراہمی سے حکمران لاکھ انکار کریں، یہ وعدہ ایفا کئے بغیر ڈیڑھ ارب ڈالر ہضم نہیں ہو سکتے۔ سعودی عرب کی خواہش پر شام میں مداخلت کیلئے اسلحہ اور فوجی و نیم فوجی دستے فراہم کئے گئے تو ملک میں فرقہ ورایت کا بوتل میں بند نہ ہونے والا جن پہلے سے جاری تباہی میں کئی گنا اضافہ کر دیگا۔ اس کا احساس تو سیاسی قیادت کو ہونا چاہیے لیکن اسکی آنکھوں پر ڈالروں اور ریالوں کی پٹی بندھی ہے جس سے قومی مفاد بھی اوجھل رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فوج اس معاملے میں سیاسی حکومت کے ساتھ متفق نہیںہے۔ اس پر حکومت کا فوج سے نالاں ہونا فطری امر ہے اور بھی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر حکومت اپنے ہی ماتحت ادارے کو سبق سکھانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے فوج کا حکومت سے الگ نقطہ نظر ہے۔ حکومت فوجیوں کا سر قلم کرنیوالے شدت پسندوں کو بھی رہا کرنا چاہتی ہے۔ ان میں کئی چھوڑ بھی دئیے گئے ہیں۔ فوج مزید کو رہا کرنے کے حق میں نہیں۔ شدت پسند قیدیوں میں کئی ایسے ہیں جن کو رہائی یا جیل توڑ کر بھاگنے کے بعد پھر فوج کے ساتھ لڑتے یا دہشتگردی کی کارروائیاں کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ کیا فوج ان کو ایک مرتبہ پھر عوام اور فوج کو خا ک و خون میں لت پت کرنے کیلئے چھوڑ دے؟ قیدیوں کا تبادلہ جنگوں کے بعد مذاکرات کی کامیابی پر کیا جاتا ہے۔ مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے قیدیوں کی رہائی پر زور مطالبہ کرنے والوں کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قائداعظم کے جانشینی کے دعویدار حکمران بھارت کے ساتھ دوستی، تجارت اور تعلقات کو فروغ دینے کیلئے سرگرم ہیں۔ اسکے باوجود کہ دشمنی کا بنیادی عنصر مسئلہ کشمیر موجود ہے۔ فوج اس معاملے میں بھی سیاسی قیادت کی حامی نہیں ہے۔ کچھ سیاسی اور مذہبی قائدین نے شدت پسندوں کے ساتھ برسر پیکار فوج کی قربانیوں کی تضحیک کی تو حکومت نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ شاید اس سے سیاستدانوں کی انا کو تسکین مل رہی تھی۔ آخرکار فوج کو خود اس کا تیسرے روز جواب دینا پڑا۔ مشرف کی آڑ میں متعدد وزرا فوج پر برس رہے تھے تو انہیں وزیراعظم صاحب نے منع نہیں کیا۔ اس پر آرمی چیف کو فوج کے وقار کا ہر صورت تحفظ کرنے کا بیان دینا پڑا۔ اب ایک میڈیا گروپ نے فوج پر الزامات کو بوچھاڑ کر رکھی ہے۔ اسکی تذلیل بھی کی جا رہی ہے دوسری طرف عسکری حلقے بالکل خاموش ہیں۔ حامد میر ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کی ہر کسی نے مذمت کی اور حامد میر سے وسیع سطح پر اظہار ہمدردی کیا گیا۔ وزیراعظم اس وقت عیادت کیلئے تشریف لے گئے جب اس میڈیا گروپ کے چینل فوج پر طنزو تضحیک کا سلسلہ جاری تھا۔ وزیر اطلاعات واضح طور پر اس گروپ کے حق میں بیان پر بیان داغ رہے ہیں۔ وزیراعظم حامد میرکی تیمارداری کیلئے چلے گئے۔ آئی ایس آئی کے خلاف تضحیک آمیز مہم کا اب تک نوٹس نہیں لیا۔ وزیراعظم نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمشن قائم کر دیا اس کے باوجود اس گروپ کا چینل اور اخبار زبان درازی سے کام لے رہا ہے۔ فوج کے مقابلے میں حکومت اس گروپ کے ساتھ کھڑی ہے ورنہ ایک معمولی گروپ کی کیا حیثیت کہ وہ فوج کو یکطرفہ طور پرجو چاہے کہتا رہے۔ فوج ایک باوقار ادارہ ہے۔ آئی ایس آئی کی جس نوعیت کی جاب ہے اس سے کئی حلقوں کو تحفظات ہو سکتے ہیں، اس سے غلطیاں بھی سرزد ہو سکتی ہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ فوج کے اندر بھی باقاعدہ احتساب کا نظام موجود ہے۔ اس سب کے باوجود بھی فوج کو للکارنے کا مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ کسی خاص ایجنڈے کے تحت فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کا عوامی اور قومی سطح پر شدید ردعمل ہو رہا ہے۔ عمران خان نے آئی ایس آئی پر بے جا الزامات عائد کئے جانے پر جیو نیوز سے قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ماضی میں جیو نیوز ولی خان بابر کے سفاکانہ قتل میں ملوث بدنام زمانہ قاتل جن کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے تھا کو نامزد کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ فوج پر مذکورہ گروپ کے الزامات اور اسے بدنام کرنے کے معاملے میں فوج اور سیاسی قیادت کے مابین اختلاف کوئی راز نہیں رہا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایک چینل کے ذریعے فوج کو سبق سکھانا اور اسی کے بل بوتے پر حکمرانی کرنا چاہتی ہے۔ یہ سراسر قومی مفادات کے خلاف اور فوج کو کمزور کرنے کی سازش ہے جو بالآخر سازش کرنے والوں کو لے ڈوبے گی۔ حکومت اپنی انا کے خول سے باہر آئے، ملک دشمنی پر کمربستہ گروہوں کی پشت پناہی کرنے کی بجائے ان کو قانون کے شکنجے میں لائے، اسی میں حکومت اور جمہوریت کی بقا ہے۔