سینیٹ کی قرارداد

کالم نگار  |  رفیق غوری
سینیٹ کی قرارداد

بارش کا پہلا قطرہ پاکستان کا قیام بجائے خود ایک معجزہ ہے۔ اس لیے معجزوں کے انکاری حضرات کے سینوں پر آج بھی سانپ بن کر لوٹتا ہے۔ اسلامیان ہند نے اقبال اور قائد کے نظریات فلسفہ اور اسلامی فلاحی ریاست کی منزل سے اتفاق کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک جیتا جاگتا ملک وجود میں آگیا۔
 اس پاک دھرتی کو آج بھی بری نظر سے دیکھنے والے بلکہ ایک آنکھ نہ بھانے والے کبھی مصنوعی لکیر کے نام پر اکھنڈ بھارتی فلسفے کا راگ الاپتے ہیں اور کبھی غیروں کی آشاوں کے حاشیہ بردار بہ انداز دگر حق نمک ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ جس انداز سے پاکستان کے قائدین بہادر چند استثنیات کے ساتھ وطن عزیز کی '' خدمت '' کر رہے ہیں وہ خود ایک عدیم المثال چیز ہے کہ اس کے باوجود وطن عزیز آج بھی دشمنوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ کہ قوم کے دفاع کا حلف اٹھانے والے اپنے دفاع کے اسیر ہوکر رہ جانے میں ذرہ بھر برائی محسوس نہیں کرتے، جمہوریت کے پرستار اسی کے پر کترنے کی کوشش میں نظر آتے ہیں، اسلام کے شیدائی ہونے کے دعویدار اسکے سوداگر بننے میں کوئی عار نہیں سمجھتے، تعلیم کے میدان کے خدمتگار تعلیم کے بیوپاری بن کر نام کما رہے ہیں۔
 اساتذہ اور طلبہ باپ بیٹوں کی طرح شفقت و محبت کے پیرایوں کے باغی بن کر کھلی دشمنی کے ایجنڈے کے آلہ کاروں کا روپ دھار رہے ہیں، سائنسدان، سیاستدان، سیاست دان پکے نادان۔ قوم پرستی کے دعویدار غیراقوام کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھا کر چنداں پریشان یا پشیمان نہیں بلکہ صبح و شام دھاڑتے اور پھنکارتے ہیں۔
پوری قوم ماسوا چند ایمان اور وطن دوستی کے سچے اسیران کے پاک وطن کو کھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ گویا پاک وطن کو معاذاللہ یاجوج ماجوج کی قوم کا سامنا ہے جو صبح سے شام تک اسی کو چاٹ چاٹ کر چٹ کرنے میں مگن ہے لیکن اللہ کا شکر ہے شہیدوں کے لہواور غازیوں کی ہڈیوں سے تعمیر ہونیوالا یہ وطن قائم و دائم ہے۔
ایسے میں ایک قرارداد پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں منظور ہوئی ہے جس کے ایک عظیم رکن ایسے بھی ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے کرپشن کیس میں نیب سے نہ صرف سزایافتہ ہونے کے باوجود پوری سینہ زوری کے ساتھ سینٹ اور الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس کی نشست حاصل کی بلکہ سردو گرم چشیدہ نیب کو دھوکہ دینے کی کھلی بازی گری بھی کر گئے۔ جی ہاں یہ اعظم ہوتی ہیں۔ جنہیں اسکے باوجود عدالتوں میں اپنے خلاف کچھ نہ ہونے کا پورا یقین ہے کہ وہ کبھی کسی مقدمے میں سوائے اسیری کے دنوں کے کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان پر اپنی اہلیہ کا حق مہر کھا جانے ہی نہیں یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ہی ایک اہلیہ کے خلاف ایک شوہر کھڑا کر دیا ہے لیکن وہ آج بھی عزت دار ہی نہیں ملک کے سب سے اہم اداراے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن ہیں۔
 سنا ہے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسی پارلیمنٹ کے عزت و وقار کے دفاع کے حق میں ایک جاندار تقریر کی ہے شاید وقار کے کسی محافظ کے علم میں اعظم ہوتی کی یہ مبینہ واردات ابھی تک نہیں آئی۔ خیر بات قرارداد کی ہے کہ سینٹ میں حکومت کی تمام تر مخالفت، زوربیان اور وزیر اعظم کی مصروفیات کے شور کے باوجو متحدہ قومی موومنٹ کی ایک قرار داد منظور کر لی گئی ہے۔ اس قرار داد میں مصروف اور محبوب وزیر اعظم کو پابند بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ اب سینٹ میں ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک دن ضرور تشریف لایا کریں گے۔
گویا قرار داد کے ذریعے ''جبری طور پر'' وزیر اعظم کی ایک اہم جمہوری ایوان میں شرکت یقینی بنا لی گئی ہے۔ اس سے پہلے جمہوریت اور جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم کو اور تو بہت کچھ سہنا اور دیکھنا پڑا تھا لیکن کم از کم ایسے دن نہیں دیکھنا پڑے تھے۔
یہ کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو نہ ہو ایک ایسے وزیر اعظم کے ساتھ بہرطور نامناسب انداز ہے جو وزیر اعظم بننے کے بعد اپنی گوناں گو مصروفیات کے باعث اپنی پارٹی سمیت ہر پرانی وابستگی اور محبت کو فراموش کر کے صرف اور صرف ملکی استحکام ، ترقی اور وقار کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے وقار کے تحفظ میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔
 اس عظیم مقصد کیلئے جہاں ان کے ساتھ راجہ ظفرالحق جیسے شرفاء موجود ہیں وہیں انہوں نے اپنے خواجگان کی ایک پوری فوج ہمراہ رکھی ہے جو بولنے بالنے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے ساتھی اچھے کام کیلئے کام آسکتے ہیں یا نہیں برے کام کیلئے ہر گز برے نہیں ہوتے۔ بہرحال اس قرارداد کے بعد اخلاقی دباو بڑھے گا وزیراعظم کو سینٹ کیلئے وقت نکالنا پڑے گا‘ اس ایوان بالا کیلئے جو حقیقی معنوں چاروں صوبوں کی زنجیر اور تمام صوبوں کے یکساں اعتماد کا مظہر ہے لیکن اس کے ضمنی اثرات بہرحال ہوں گے۔
 ایک تو یہ کہ قومی اسمبلی بھی وزیراعظم زیادہ وقت کا مطالبہ کرنے لگے گی۔ کل کلاں مسلم لیگ میں یہ آواز ابھرے کی کہ پارٹی اجلاسوں کیلئے باقاعدہ وقت نکالا جائے۔ یہ بھی مطالبات سر اٹھا سکتے ہیں کہ پارٹی کے ان لوگوں کو بھی اپنا ہونے کا احساس دیا جائے جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اپنے ہوا کرتے تھے، لیکن پھر اقتدار اپنا ہو گیا اور انہیں بیگانہ کر دیا گیا۔ ممکن ہے یہ ضمنی اثرات میاں نواز شریف اور ان کی موجودہ ٹیم قبول کر لے۔