دونوں طرف کھچڑی پک رہی ہے

دونوں طرف کھچڑی پک رہی ہے

پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ اپنے معاملات میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دیں گے اسی قسم کا ایک بیان انہوں نے چند روز پہلے بھی دیا تھا جس کا لب لباب شاید یہ تھا کہ فوج اپنے ادارے کا دفاع کرے گی۔ جنرل راحیل شریف کے مذکورہ بیانات نہ صرف غیر ملکی طاقتوں کیلئے ہیں بلکہ ان پاکستانیوں کیلئے بھی ہیں جو اٹھتے بیٹھتے پاک فوج کو لتاڑنے کا عزم کئے ہوئے ہیں اور ظاہر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو بین الاقوامی ایجنڈے کی کٹھ پتلیاں ہیں کیونکہ یہ بات تو کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ پاک فوج کی ساکھ کو مجروح کرنا عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے کیونکہ پاکستان دشمن عالمی فورسز یہ جان چکی ہیں کہ جب تک پاکستان کی عسکری طاقت کو کمزور اور بدنام نہیں کیا جاتا پاکستان کی سالمیت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا اور یہ سچ بھی ہے کہ پاک فوج کے یہ سپوت صحیح معنوں میں پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں یہ انہی محافظوں کا رعب و دبدبہ ہے کہ پاکستان دشمن فورسز ابھی تک پاکستان کو تہس نہس نہیں کر سکیں گے جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان کو تباہ کرنا عالمی ایجنڈا ہے پاک افواج نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں بلکہ وہ ایٹم بم جو دشمنوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح چبتا ہے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پاک فوج نے ہی اٹھائی ہوئی ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ کیا وجوہات پیدا ہوئیں کہ پاک فوج کا چیف دشمنان پاکستان کو ’’ہم جاگ رہے ہیں‘‘ کا پیغام دینے پر مجبور ہوا اس ضمن میں بے شمار وجوہات گنوائی جا سکتی ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں میمو سکینڈل سے شروع کریں اور حامد میر ایشو تک آئیں ہمیں وہ کچھ پڑھنے اور سننے کو ملے گا جو واقعی قابل افسوس و قابل مذمت ہے۔ دونوں واقعات میں پاک فوج کو نشانہ ستم بنایا گیا میمو سکینڈل شاید مختلف وجوہات کے باعث دبا دیا گیا اسے دوسرے معنوں میں جنرل کیانی کی شرافت اور جمہوریت پسندی بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ جنرل کیانی شاید سول حکومت کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اس بار پاک فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز نظر آتا ہے۔ سول و جمہوری حکومت کے وزراء پاک فوج کے سپوتوں کو سرعام للکارنا شروع کر دیں‘ فوجیوں کو ان کی اوقات یاد دلانے لگیں تو جنرل راحیل شریف کا یہ کہہ دینا ہر کسی کے دماغ کی شریانیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ پاک فوج اپنے معاملات میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دے گی۔اس حقیقت میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ آرمی چیف موجودہ حکومت خاص کر نواز شریف کے ہی چنے ہوئے ہیں اور نواز شریف نے ہی کافی غور و فکر کرنے کے بعد انہیں آرمی چیف بنایا تھا مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ راحیل شریف نواز شریف یا ان کی حکومت‘ ان کے وزراء کے بیانات و سرگرمیوں سے لاتعلق ہو جائیں۔ انہیں پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنے عسکری اداروں کا دفاع بھی کرنا ہے۔میں تو اس حامد میر کو جانتا ہوں جو میرے استاد وارث میر کا بیٹا ہے۔ کچھ عرصہ حامد میر کو حکومت بنگلہ دیش نے ان کے مرحوم والد کی صحافتی خدمات کے صلے میں ایک اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا تھا یقیناً آپ سمجھ گئے ہونگے کہ وہ کیا خدمات تھیں ۔ پاکستان ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے چھوٹے سے چھوٹا سانحہ بھی وطن عزیز کی چولیں ہلا سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت ضرورت ہے محب وطنوں کی جو دونوں اطراف میں پکنے والی کھچڑیوں کو ضائع کر دیں ورنہ‘ …؎
ہماری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں
پاکستان زندہ باد پاکستان کھپے