مٹی کا قرض!

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ
مٹی کا قرض!

طالب علمی میں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن جوائن کی مگر عملی زندگی میں پی پی پی میں سرگرم اس وقت ہوا جب زرداری صاحب کی کرپشن اور بدنامی کی وجہ سے محترمہ شہید کی حکومت کو دوسری مرتبہ تخت و تاراج کیا جانے والا تھا اور پیپلز پارٹی کا اقتدار آخری ہچکیاں لے رہا تھا۔ حکومت ختم ہو جانے کے بعد جب پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت بُری طرح پھنس چکی تھی تو شہید محترمہ کے حکم پر پہلے سینیٹر جہانگیر بدر اور پھر سینیٹر سجاد بخاری بی بی کا پیغام لے کر میرے پاس آئے دیگر واقعات نوائے وقت کے صفحات پر متعدد بار تحریر ہو چکے ہیں۔
عالمی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مَیں شہید محترمہ کو یورپین یونین پارلیمنٹ، امریکن پینٹاگون، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے پاس لے کر گیا۔ بی بی کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے 1999ء سے لے کر 27 دسمبر2007ء کے دن تک خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران نہ صرف آصف علی زرداری کے ساتھ کیسوں میں جیلیں کاٹیں بلکہ آصف زرداری نے مجھے متعدد بار اپنے لیے رہائی کا ’’فرشتہ‘‘ قرار دیا۔
سابق گورنر مرحوم سلمان تاثیر، مبشر لقمان، طاہر سرور میر، افتخار احمد (جوابدہ) ڈاکٹر اجمل نیازی اور منو بھائی کی موجودگی میں اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری کے یہ الفاظ کھانے کی میز پر سب نے سُنے کہ ’’آج اس کرسی پر میں مطلوب وڑائچ کی وجہ سے بیٹھا ہوا ہوں۔‘‘
قارئین! بہت سے دوست اور احباب کے ساتھ کروڑوں لوگوں کیلئے یہ بات باعث حیرت ہو گی کہ پیپلز پارٹی کے گذشتہ 5 سالہ دور حکومت کے دوران مَیں کسی وزیر، سینیٹر، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے آفس میں نہیں گیا اور میرا دعویٰ ہے کہ نہ ہی کوئی میرا سفارشی لیٹر ثبوت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ البتہ ایک دفعہ میرے ایک عزیز ایم این اے نے خود ہی کلاشنکوف کا لائسنس بنوا کر مجھے بھیج دیا مگر اس پر بھی مَیں نے کوئی اسلحہ نہیں خریدا، صرف چند دفعہ فیڈریل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم ہائوس جانا پڑا۔ اس سے پہلے شہید محترمہ کی مجھ پر اعتماد کی انتہا تھی کہ انہوں نے اپنے اور آصف زرداری کے خلاف تمام سوئس کیسز کی مجھے ذمہ داری سونپ دی اور میں نے تن، من، دھن سے اس ذمہ داری کو آج تک نبھایا ہے۔
پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور میں میرے بچوں کے سکولز کو دھمکیاں دی گئیں اور میری فیملی کی زندگی اجیرن کر دی گئی اور تب کے واقعات کی ایف آئی آرز لاہور کے چار مختلف تھانوں میں موجود ہیں۔ دو دفعہ میری گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور ناچار مجھے اپنی فیملی اور بچوں کو نارتھ امریکہ بھجوانا پڑا، پھر اس دوران مجھے برین سٹروک ہوا اور میں گھر کرائے پر دے کر علاج کے لیے یورپ چلا گیا اور وہ گھر جس میں بڑی تحریکیں اور سیاسی اجلاس ہوتے رہے، بحالی جمہوریت کی پوری تحریک اس گھر سے کمان ہوتی تھی۔ راجہ پرویز اشرف، امین فہیم اور سینیٹر قیوم سومرو لاہور میں اسی ہی گھر میں قیام و طعام کرتے تھے اور آج یہ گھر کرائے داروں کے جبری تسلط میں ہے۔ مگر اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد نئے جیالوں اور آج کی یوتھ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آج بھی دوران علاج مجھے وطن کی مٹی سے اتنا ہی پیار ہے جتنا کہ کسی بھی محبت وطن پاکستانی کو ہو سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بیرون ملک ہزاروں آسائشوں کے باوجود ڈاکٹر طاہر القادری کے دل میں بھی وہی امنگیں جوش مار رہی ہیں۔ وگرنہ پاکستان سمیت نوے ممالک میں منہاج القرآن سینٹرز پر مشتمل ایک بڑا سیٹ اپ ہونے کے باوجود وہ کونسی وجہ ہو سکتی ہے جو ڈاکٹر طاہر القادری کو پاکستان آنے پر مجبور کرتی ہے؟
تین ماہ تک ایک چھوٹے سے کنٹینر میں اٹھنا، بیٹھنا، سونا اور ریاستی مظالم برداشت کرنا اپنے سامنے ساتھیوں کی لاشیں گِرتے دیکھنا زخمیوں کے بلبلاتے ہوئے روح فرسا مناظر دیکھنا یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ پاک فوج اور مغربی طاقتوں کی حمایت نہ حاصل ہونے کے باوجود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کی اپنے سے سینکڑوں گنا بڑے وسائل رکھنے والے خاندانوں، جاگیر داروں، سرمایہ داروں، چوروں اور لٹیروں سے ٹکرانا کوئی عام سی بات نہیں ہے۔
میں نے گذشتہ کالم میں لکھا تھاکہ راقم اور دیگر ساتھیوں کی مشاورت سے اسلام آباد دھرنے کو عوام کی دہلیز پر پہنچانے کی حکمت عملی ترتیب دی گئی جس کے خلاف اقتدار زدہ طبقہ اور مفاد پرست اتحادیوں کو ایک شاک سا لگا اور انہوں نے واویلا کرنا شروع کر دیا۔ قارئین! پرائمری کلاس کا بھی ایک سٹوڈنٹ حساب لگائے کہ ستر دنوں کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے ساتھی دھرنے میں جتنی دیر موجود رہے اگر عمران خان موجود ہ روش کے مطابق آئندہ نو ماہ اور بھی دھرنا دیں تو ڈاکٹر طاہر القادری کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ میرا یہ کامل یقین ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں کو ملک کے طول و عرض میں جلسے اور علامتی دھرنے دے کر جو کامیابی آئندہ چند ہفتوں میں مل سکتی ہے وہ اسلام آباد جیسے قصباتی شہر میں بیٹھ کر حاصل نہیں ہو سکتی۔
 عمران خان اور طاہر القادری دونوں کی منزل ایک ہے مگر راستے اپنے اپنے طریقے سے چُننے کا اختیار ہونا چاہیے اور نوزائیدہ سیاسی قوت عوامی تحریک کو قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے ابھی وسیع پیمانے پر تنظیمی اور انتظامی معاملات ترتیب دینے ہوں گے، جس کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانیوں کو بھی اعتماد میں لے کر سیاسی سرکل میں شامل کرنا ہو گا حکمران اور ناقدین خاطر جمع رکھیں یہ انقلاب اب ٹلنے والا نہیں۔ بقول حکیم الامت حضرت علامہ اقبال :
پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
قارئین! مجھے اور ڈاکٹر طاہر القادری سمیت ہر دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کو وطن کی مٹی کا قرض ادا کرنا ہے جس سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا۔