مودی کی بڑھکیں، رینجرز اور بی ایس ایف

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور
مودی کی بڑھکیں، رینجرز اور بی ایس ایف

بھارتی بی ایس ایف (BSF) کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ اقدام عالمی برادری کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے جو امن، دوستی، مذاکرات کے دھوکے میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر سول آبادیوں کو ایک ماہ سے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کا جواب بلکہ تیز رفتار اور منہ توڑ ’’جواب‘‘ شدید جوابی فائرنگ اور گولہ باری سے پاکستان کے قابل فخر رینجرز سپاہی، نائیک، صوبیدار اور کیپٹن سے لیفٹیننٹ کرنل تک کے شاہین صفت سپوت دے رہے ہیں۔ اس دلیرانہ و جارحانہ جوابی جنگی حملوں نے کم از کم 25 مرتبہ بھارتی سکیورٹی فورسز کو پسپائی اور اپنی گنیں روکنے، شیلنگ بند کرنے پر مجبور کر دیا اس طرح بھارتی بی ایس ایف اب دنوں کا وقفہ ڈال کر پھر دھوکہ دینے کے انداز میں کسی اور سب سیکٹر پر بزدلانہ جارحیت کرتے ہیں جس کا اینٹ کا جواب ’’پتھروں‘‘ سے پاکستان رینجرز دے رہے ہیں۔ اب بھارتی فورسز کو اندازہ ہو گیا ہے کہ پاکستانی رینجرز اور فوج بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں پہلے ان کا غلط اندازہ تھا کہ ’’طاقت کے توازن‘‘ میں بی ایس ایف کو برتری حاصل ہے یہ جھوٹا زعم ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز خان طاہر جاوید سیکٹر کمانڈر چناب رینجرز سیالکوٹ، بریگیڈئر وسیم جیسے دھرتی ماں کے شیر کمانڈروں نے خاک میں ملا دیا ہے۔ بھارتی بی ایس ایف کا بجوات، چپڑاڑ، پھوکلیاں، سچیت گڑھ، چونڈہ، پسرور، شکر گڑھ کے آبیال ڈوگرا، بیکا چک، چک امرو، ڈنڈر سیکٹرز کے سامنے قائم پختہ بنکرز، مورچوں، ٹاور، لائٹ ٹاورز، تاروں، مورچہ نما زیر زمین خندقوں، اسلحہ کے ذخیرہ گوداموں، مواصلات، جاسوسی کے دفاعی نظاموں کو چناب رینجرز نے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ کچھ بھارتی جان نقصان اور بڑی تعداد میں زخمیوں کی اطلاعات کا بدلہ تو خوب چکایا گیا ہے حالانکہ اربوں روپے کے بے پناہ وسائل، افرادی قوت، دفاعی و حملہ آوری کے جدید آلات و ذخائر بی ایس ایف کے پاس ہیں اور نسبتاً پاکستان رینجرز ان وسائل سے محروم لیکن ایمانی جذبے، اسلامی مملکت کے لئے جان قربان کرنے کے جذبے، بہادری، فرنٹ آپریشن کمانڈ کرنے کی لگن اور پیشہ وارانہ قابلیت نے ڈی جی رینجرز خان طاہر اور بریگیڈئر وسم کو نصرت عطا کی اور فتح کے قریب کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی بی ایس ایف کے مارٹرز کے علاوہ بھاری گولے بھی استعمال کر رہی ہے لیکن پاکستان رینجرز نے بدلہ لینے اور سبق سکھانے میں بھارتی سول آبادیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ نہیں کیا۔ اس طرح بڑے حوصلہ اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے۔
ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل خان طاہر نے فیلڈ ونگ کمانڈرز کے ساتھ فوجی مبصرین (اقوام متحدہ) کے وفد کو بھارتی جارحیت اور گولہ باری کے نقصانات کا معائنہ کروا کر بی ایس ایف، بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ، وزیر دفاع ارون جیٹلی اور بھارتی وزیراعظم مودی کے تمام جھوٹے دعوئوں کی قلعی کھرل دی کہ پاکستان غیر ذمہ دار اور امن کا دشمن ہے اقوام متحدہ کے عالمی مبصرین یقیناً بھارتی جارحیت کو آنکھوں سے دیکھ کر اور سول آبادی کے نقصانات کی رپورٹ دیں گے جب کہ بھارت نے اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ پر مقبوضہ کشمیر کے گرم محاذوں پر تعیناتی اور رسائی میں روڑے اٹکا کر انہیں کام نہیں کرنے دیا جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ جارحیت اور امن کا دشمن بھارت ہے اور ان کے مرکزی وزراء اقوام عالم کو بریفنگ میں جھوٹے پروپیگنڈے سے گمراہ کر رہے ہیں۔ بھارت ملٹری آبزرور گروپ کو ایل او سی پر آزادانہ اور پیشہ ورانہ امور میں کیوں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ بھارت اپنے کالے کرتوت چھپانا چاہتا ہے۔ چناب رینجرز کے ہیڈمرالہ، معراج کے، سیالکوٹ، شکر گڑھ کے ونگ کمانڈرز آپریشن بھی قوم کی دعائوں اور شکوے کے حق دار ہیں جنہوں نے مادر وطن کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھیں پھوڑ دی ہیں۔ دن رات اپنا آرام، نیند، سکون، بیوی بچے، اور والدین بھلا کر اسلامی مملکت کے دفاع کا حق ادا کر دیا ایسے تمام جنگی کمان دار اور فورس کے بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک دشمن پر ٹوٹنے کی امنگ سے سرشار ہیں اور ہر حال میں اسلام اور پاکستان کے دفاع کو اپنے ’’ایمان‘‘ کا درجہ دیتا ہے۔ ساری قوم کی مائیں، بیٹیاں، والدین ان کے لئے دعاگو کہ خدا انہیں ہمیشہ فتح یاب کرے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ، وزیر دفاع ارون جیٹلی کے ایک ماہ کے دھمکی نما بیانات کا محاذ جنگ، منی وار کے محاذوں پر پاک فوج نے بھرپور طریقے سے دے دیا ہے۔ مودی کو اب معلوم ہو چکا ہو گا کہ بات چیت کی جگہ گولی کا فیصلہ مودی کو کتنے میں پڑتا ہے! پاک فوج نے ایل او سی پر بھرپور جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ مودی نے بعض ریاستوں میں انتخابات میں ووٹ لینے کے لئے 170 کلومیٹر پر منی وار شروع کی تھی تاکہ ہندوئوں کو گمراہ کرکے ووٹ لئے جا سکیں۔ بھارتی وزیراعظم کی انسانیت وامن دشمن گھٹیا پالیسی کا اقوام متحدہ کو خصوصی نوٹس لینا چاہئے اور مودی کے بڑی طاقت کے زعم میں ایٹمی طاقت سے پنگا بازی سے روکنا چاہئے ورنہ یہ وسیع ہوتی جنگ بھارت کی اقتصادی و معاشی ترقی کو تو روند ڈالے گی ساتھ ایٹمی میزائلوں کے استعمال کا خدشہ خارج از امکان نہیں، پاک افواج اور چناب رینجر کے افسران اور جوان بھارتی فورسز کو یہ پیغام دیتے ہیں! … ؎
ایہناں دشمناں کولوں کی ڈرنا
اے موت کولوں وی ڈر دے نیں!
اے پاک وطن دی عزت توں
جان اپنی دیندے وار کُڑے!