سیاسی ڈیڈ لاک کا خاتمہ عدلیہ کے ذریعے

سیاسی ڈیڈ لاک کا خاتمہ عدلیہ کے ذریعے

پاکستان کی سیاست میں افتاد پہ افتاد ٹوٹ رہی ہے۔ ہر طرف انتشاراور بگاڑہی بگاڑ ہے۔سیاست کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی۔یہ سب کچھ جمہوری دورمیں ہورہا ہے۔ہمارے سیاسی اکابرین کا فلسفہ ہے کہ بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے۔ آج کی رائج جمہوریت کو اسی فلسفے کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو آج ہم بدترین جمہوریت کے چنگل میں پھنسے دکھائی دیتے ہیں۔کوئی ہمیں یہ بھی بتا دے کہ یہ جمہوریت کس آمریت سے اچھی ہے؟ جمہوریت جمہور کی حکمرانی کا نام ہے۔کیا آج پاکستان میں واقعی جمہور یعنی عوام کی حکمرانی ہے؟عوام کی حکمرانی تو دور کی بات عوام تو سلطانی جمہور میں اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انکا عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہاہے۔ایک طرف غریب کی جھونپڑی میں چراغ مشکل سے جلتا ہے تو دوسری طرف انہی غریبوں کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسوں کی صورت میں اشرافیہ کے محل بقعہ نور بنے نظر آتے ہیں۔انکے دولت کے پیمانے چھلکتے ہیں۔ مشرف دور میں پورے نو سال ڈالر 62روپے کا رہا۔ تیل کی قیمت کبھی عالمی منڈی میں اتار چڑھائو کے مطابق54 روپے لیٹر سے اوپر نہیںگئی۔بجلی کے نرخوں پر کنٹرول رہا۔ سسٹم آمریت سے نیم جمہوریت کے سانچے میں ڈھلا تو جمہوریت کے ’’ ثمرات‘‘ آٹے اور چینی کی قلت کی صورت میں سامنے آنے لگے تاہم مشرف نے حالات کومکمل طور سیاستدانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا تھا۔اگلا دور خالصتاًجمہوری تھا۔ جس میں پیپلز پارٹی نے ملکی وسائل کاحشر نشر کردیا۔مشرف نے آئی ایم ایف سے ملک وقوم کی جان چھڑادی تھی جس میں حسب توفیق پھر سے پہلے پیپلز پارٹی کے پھنسایا اور رہی سہی کثر مسلم لیگ ن پوری کررہی ہے۔پیپلزپارٹی نے قرضوں کا ریکارڈقائم کیاتو مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک سال میں توڑڈالا۔ان ریکارڈ ساز قرضوں سے عام آدمی کو کیا ملا؟بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب، مہنگائی کا طوفان ۔خود کشیوں کی جنم لینے والی نئی داستانیںاور ہر طرف لاقانونیت ہی لاقانونیت۔روز افزوں مہنگائی پر دلبرداشتہ ایک مزدور کہہ رہا تھا کہ پہلے وہ تین روٹیاں کھاتا تھا اب دو خریدنے کی سکت رہ گئی ہے ۔جس جمہوریت نے مزدور سے اس کا رزق چھین لیا پھر بھی یہ بہترین آمریت سے اچھی ہے!ہماری جمہوری اشرافیہ آج جواپنے قول و فعل سے جو معیارات قائم کررہی ہے یہ نئی نسل کی اخلاقیات کو برباد کر کے رکھ دینگے ۔دھرنے والے پارلیمنٹیرین کے بارے میں جو کہتے رہے اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیا گیا۔بعض معاملات میںحیا اور اخلاقیات کا جنازہ نکلتا نظر آیا۔دونوں طرف سے زبان درازی کے مظاہر دیکھنے میں آئے۔ایک دوسرے کو اوئے اوئے کہا جاتا رہا۔وزرائے کرام خصوصی طور پر آپے سے باہر دکھائی دیتے تھے۔ وہ طاہرالقادری اور عمران خان کے اربوںکی کرپشن کے الزامات پر ان کا کوئی مدلل جواب دینے یا الزام لگانیوالوں کو کورٹ میں لیجانے کے بجائے انکی کردار کُشی کرتے رہے اور یہ سلسلہ عمران خان کی حد تک اب بھی جاری ہے البتہ طاہرالقادری کے دھرنا ختم کرنے سے حکومت کو ریلیف ملا ہے تو ان کیخلاف توپیں خاموش ہیں۔کہا جاتا ہے ڈاکٹر طاہرالقادی نے دھرنا حکومت سے ڈیل کر کے ختم کیا ہے۔ طاہرالقادی اسکی تردید کرتے ہیں۔انہوں نے جس سسٹم کو باطل کہا اب اسی کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ اس سسٹم میں رہ کراسکی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اب بیرونِ ممالک کے دوروں کا اعلان کیا ہے۔یہ تو ضرور کہا کہ وہ اب مستقل پاکستان میں قیام کرینگے ۔ اس بیان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ ’’ہم میں سے جو انقلاب کے بغیر واپس آئے اسے دوسرا شہید کردے۔‘‘عمران خان دھرنا ختم کرنے پر تیار نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وہ نواز شرف کے استعفے تک دھرنا دینگے۔دھرنوں سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے، حکومتی رٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔چین کے صدر کا دورہ دھرنے کے دوران ممکن نہیں۔نواز شریف استعفے پر تیار نہیں، عمران خان استعفے کے بغیر ٹلنے والے نہیں۔نواز شریف نے فوج کو ثالث مانا اور پھر مکر گئے۔اب فوج اس معاملے میں آنے کو تیار نہیں۔فوج کا سب کو احترام ہے۔ اسکی ثالثی میں معاملات سلجھ سکتے تھے۔ حکومت نے یہ آپشن کھو دیا۔ آج کا پھر یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ آخر ہوگا کیا؟ عمران خان کو وسیع سطح پر دھاندلی کا یقین ہے۔ طاہرالقادی ان انتخابات کو اس لئے مسترد کرتے ہیں کہ ان میں آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔اب انتخابات مین دھاندلی اورآرٹیکل 62،63 کی تشریح دونوں معاملات کورٹ میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی تشریح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کیخلاف گوہر نواز سندھو ایڈوکیٹ، مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور تحریک انصاف کے رہنما اسحق خاکوانی نے دائرکردہ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ جھوٹا شخص عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتا۔ نتائج کچھ بھی ہوں عدالت صادق اور امین کی تشریح کریگی۔ مقدمے کے فیصلے سے پیدا ہونیوالے نتائج کی پرواہ نہیں چاہے ایک ممبر اسمبلی فارغ ہو یا آدھی اسمبلی ہی فارغ ہوجائے۔ سچ کیا ہے اس کا معیار مقرر کرنا پڑیگا اور عوامی نمائندوں کو اس معیار پر پورا اُترنا پڑیگا۔ سابق وزیر داخلہ زاہد سرفراز اور سابق جسٹس سپریم کورٹ محمود اختر شاہد صدیقی نے انتخابات 2013ء کے سلسلے میں الگ الگ درخواستیں دائر کررکھی ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدلیہ سے استدعا کی ہے کہ 2013ء کے انتخابات کو دھاندلی کی وجہ سے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے اور الیکشن کمیشن کے اراکین اور ان ریٹرننگ و پریذائیڈنگ افسروں کیخلاف قانونی چارہ جوئی کے احکامات جاری کیے جائیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے 29 اکتوبر سے انتخابات 2013ء کیخلاف اپیلوں کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بنچ میں چیف جسٹس ناصر الملک، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری شامل ہیں۔
آج قوم کو سیاسی ڈیڈ لاک نظر آرہا ہے اس نکلنے کا اب راستہ سپریم کورٹ ہی تلاش کر سکتی ہے ۔ ایک ہی نوعیت کے دو کیس اسکے پاس ہیں ان دو کو یک جا کر لیا جائے تو بہتر ہو گا۔قومی اہمیت کے ان کیسوں کیلئے جسٹس جواد کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ اور ناصرالمک کی قیادت میں تین رکنی بنچ کے بجائے فل کورٹ ان کیسز کو سنے اور آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کی تشریح کے ساتھ ساتھ 2013ء کے انتخابات کی ساکھ کا بھی فیصلہ کردے۔ عدلیہ ماضی کی طرح مصلحتوں کا شکار نہ ہوئی توملک میں وہی جمہوریت رائج ہو سکے گی جو واقعی عوام کے ذریعے ،عوام کیلئے ہوگی۔جرائم پیشہ افراد کو سیاست سے کنارہ کشی کرنا پڑے گی،عوام کو صحیح نمائندے چننے کا موقع مل سکے گا ۔مجھے یقین ہے کہ عدلیہ جس طرح آج فعال ہے وہ مصلحتوں سے بالاتر ہوکر فیصلے دیگی۔