سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارہ

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارہ

آنکھوں کے کٹہروں پہ‘ پلکوں پہ ایستادہ آنسو‘ ضبط کی زنجیروں کو توڑنے پر مُصر ہیں مگر ’’مصلحت‘‘ پائوں کی بیڑی بن جاتی ہے۔ دل میں بہنے والا لہو تو پہلے ہی ناقص خوراکوں اور ٹینشن‘ ڈیپریشن کے قومی مرض کی وجہ سے شریانوں کی تنگ گلیوں میں گُھٹ گُھٹ کر چلتا ہے۔ اس پر اعصاب شکن خبریں اور بھیانک مستقبل کے ہیولے‘ خون میں خوف کی گانٹھیں باندھ دیتے ہیں۔ یہ ہمارا پاکستان ہے کہ جہاں ہسپتالوں میں انسانوں کے غول ہیں اور کھیلوں کے میدان ویران ہیں۔ انواع و اقسام کی ذہنی و جسمانی عوارض نے پاکستانیوں کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے۔ اس ملک کی سب سے غلیظ‘ گھنائونی اور مکروہ بیماری کرپشن ہے۔ اس مرض کے بارے میں دن بدن یقین پختہ ہو رہا ہے کہ یہ بیماری لاعلاج ہے۔ اخلاقی اور مذہبی حوالے سے بھی ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ پاکستان میں صرف ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور وہ دوڑ امیر بننے کی ہے۔ امیر بننے کیلئے جو بھی ناجائز منفی اور خطرناک طریقہ اختیار کرنا پڑے … ہماری قوم اسے اپنانے سے گریز نہیں کرتی۔ دولت کے لالچ میں پاکستان کے قومی راز اور مفادات بھی کئی بار گروی رکھے گئے ہیں اور چند مطلوب پاکستانیوں کے عوض ڈالروں‘ پائونڈوں میں بھی سودا ہوا ہے۔ دولت کی ہوس نے ایمان‘ اخلاق اور نیت پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسی جگہ بنا دی گئی ہے جہاں رہنے پر لوگ کینیڈا‘ برطانیہ کو ترجیح دیتے ہیں چاہے وہاں برتن مانجھنے پڑیں یا کتے نہلانے پڑیں یا جھاڑو پونچا کرنا پڑے یا جوتے صاف کرنے پڑیں۔ چاہے ٹُھڈے کھانے پڑیں یا گندی گالیاں‘ مگر اسکے بدلے ڈالرز یا پونڈزمل جائیں۔ کینیڈا یا امریکہ‘ برطانیہ کی شہرت مل جائے۔ یہ ہے اکثر پاکستانیوں کا مطمعٔ نظر اور نصب العین!! جہلم میں دو پاکستانی نژاد کینیڈین بھائیوں نے باہر جانے کے چکر میں اپنی حقیقی بہنوں کے ساتھ شادی کا جھوٹا سرٹیفکیٹ اور تصویریں بنوائیں۔ ایک بھائی اپنی سگی بہن کو ’’بیوی‘‘ بنا کر کینیڈا لے جانے میں کامیاب ہوگیا جبکہ دوسرا پکڑا گیا جبکہ ہر ماہ کروڑوں روپے کی تنخواہیں ڈکارنے والا ایف آئی اے کا عملہ پڑا سوتا رہا۔ اس سے زیادہ شرمناک مثال کیا ہوگی کہ سگے بھائیوں نے رشتوں کو پلید ہی کر ڈالا۔ وہ بھی دولت کے لالچ میں۔ دوسری جانب گزشتہ ایک ہفتہ میں نصف درجن عورتیں اپنے بچوں سمیت خودکشی کرکے زندگی کا خاتمہ کر چکی ہیں۔ غربت سے تنگ آکر عورتوں نے جہنم سے بدتر زندگی پر موت کو ترجیح دی۔ خودکشی کا فیصلہ ایک انتہائی اور خوفناک فیصلہ ہے۔ اپنے ساتھ اپنی جان سے پیاری اولاد کو بھی موت کے حوالے کرنا آسان نہیں‘ لیکن جب کوئی راستہ نہ بچے تو موت ہی آخری حل بن جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر تیسرے گھر میں لڑائی جھگڑے اور فساد کی وجہ یہی غربت اور مہنگائی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی بے حسی اور بے شرمی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خود پر اربوں روپے خرچ کرنیوالے حکمران عوام کو چند روپوں کیلئے قتل یا خودکشی پر مجبور کر دیتے ہیں مگر انکی عیاشیوں میں کمی نہیں آتی۔ آج پورا پاکستان جہاں لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کی وجہ سے موت کا کنواں بنا ہوا ہے‘ وہاں ہر دوسرے تیسرے گھر میں لڑائی معمول بن کر رہ گئی ہے۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ بدتر زندگی کاٹ رہے ہیں۔ پاکستان میں خودکشی کی بڑی وجہ محبت یا عشق میں ناکامی نہیں بلکہ بدترین غربت اور افلاس ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کی اکثریت نے کرپشن میں نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ انکے دماغ زنگ آلود لوہے کے اور دل پتھر کے ہوتے ہیں۔ آخرت اور قیامت پر ان کا ایمان نہیں ہوتا۔ جزا اور سزا پر انہیں یقین نہیں ہوتا۔ قہر خداوندی کو یہ لوگ کتابی اور افسانوی باتیں سمجھتے ہیں۔ انکے دل ہر قسم کی قیامت سے آزاد ہوتے ہیں۔ ویسے یہ بہت ڈرپوک واقع ہوتے ہیں۔ اپنی سکیوری کیلئے ہر وقت مصلح گارڈز رکھتے ہیں۔ پورے طمطراق سے سکواڈ کیساتھ باہر نکلتے ہیں۔ اپنے محلات کے آگے اور محلات کے اندر بھی سکیورٹی گارڈز ساتھ رکھتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو باتھ روم میں بھی سکیورٹی گارڈ کو ساتھ لے جائیں۔ پاکستان میں کبھی کسی حکمران کو دن پورے کرنے کی مہلت نہیں ملی سوائے آصف زرداری کے۔ آصف زرداری کو ہر طرح سے ہر کام اور ہر رشتہ میں استثنیٰ حاصل ہے۔ موجودہ حکومت کے بھی دن گنے جا چکے ہیں۔ یہ حکومت اب اپنی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ ایسی حکومت مزید کتنے دن کھینچے گی جس کا خمیر ہی دھاندلی‘ کرپشن‘ مہنگائی‘ ناانصافی سے اُٹھا ہے۔ جس نے قومی خزانے پر نقب لگانے کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ جس ملک میں عبدالستار ایدھی کو دن دہاڑے لوٹ لیا جائے اور حکومت کو سانپ سونگھا رہے‘ آفرین ہے ملک ریاض پر جنہوں نے پانچ کروڑ روپیہ اپنی جیب سے دیا ہے۔ حکومت نے تو پانچ روپے بھی دینے گوارہ نہیں کئے۔ صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی اور بم دھماکوں کیساتھ پاکستانی قوم ہر وقت کرپشن سے نبردآزما ہے۔ مہنگائی‘ بیروزگاری تو پاکستان کی مستقل اور لاعلاج بیماریاں ہیں۔ لوڈشیڈنگ بھی ہمارے نصیب میں لکھ دی گئی ہے۔ گندا پانی تو ویسے ہی پاکستانیوں کا مقدر ہے اور جو پانی پاکستانی دکانوں پر جا کر نقد رقوم کے عوض خریدتے ہیں وہ بھی غیرمعیاری اور ناموزوں ہے۔ اسی لئے انواع و اقسام کی بیماریوں نے پاکستان میں قدم جما لئے ہیں۔ اقوام متحدہ جو پولیو کے قطرے بھجواتی ہے‘ اس میں بھی خوردبرد سے جعلی ویکسین اور جعلی ادویات مارکیٹ میں سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ پولیو کی وجہ سے پاکستان کی جی بھر کر جگ ہنسائی ہو گئی ہے۔ پاکستان میں صرف دن منانے کی روایت پڑ گئی ہے۔ ایسے دن منانے کا کیا فائدہ جس میں مرض اپنی شدت سے موجود ہو۔ ہسپتالوں میں اس قدر رش ہو کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے۔ پاکستان میں نہ جمہوریت پنپنی ہے اور نہ ایمانداری زندہ رہی ہے۔ پاکستان کو صرف آمریت سُوٹ کرتی ہے۔ حکمرانوں کا کردار ناقابل بیان ہے۔ اپوزیشن بھی کبھی آئیڈیل نہیں رہی۔ مفادات نے سب کو سرنگوں اور مقروض بنا ڈالا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری ہوں یا مولانا فضل الرحمن‘ آصف زرداری ہوں یا نووازشریف‘ عمران خان ہوں یا الطاف حسین‘ چودھری نثار ہوں یا چودھری شجاعت حسین‘ پرویز رشید ہوں یا شیخ رشید‘ سبھی میں ایک وصف مشترک ہے کہ سب زر اور اقتدار کے دیوانے ہیں۔ انہیں آپ جو مرضی کہہ دیں‘ انہیں ذرا سے بھی اثر نہیں ہوتا۔