یوم تکبیر

کالم نگار  |  حاجی عرفان الحسن بھٹی
یوم تکبیر

پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جودوقومی نظریہ کی بنیاد پرمعرض وجود میں آیا۔ اس کی بنیادوں میں لاکھوں گمنام شہیدوں کا لہو شامل ہے۔پاکستان کی نظریاتی اور اہم جغرافیائی حیثیت کی بدولت جہاں دنیا میں اس کے بہت سے مخلص دوست ہیں وہاں مکار دشمنوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ بھارت شروع دن سے پاکستان کی سا لمیت کابدترین دشمن ہے اور پاکستان کو نقصان پہچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ سانحہ مشرقی پاکستان میں جہاں ہمارے اپنے بعض کوتاہ اندیش جرنیلوں اورسیاستدانوں کی "نادانی" تھی وہاں بھارت کی "شیطانی" بھی کارفرما تھی۔ 16دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، کشمیر پر جارحانہ قبضے کے بعد بھارت نے پاکستان کے وجود پر ایک اورکاری ضرب لگائی تھی۔ دشمن کا لگایا یہ زخم ہم قیامت تک نہیں بھول سکتے۔ بھارت جغرافیائی ،آبادی،معاشی اوردفاعی اعتبار سے پاکستان سے کئی گنا بڑا ہے۔ وہ کئی برسوں سے جنوبی ایشیاء میں بالادستی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے زور پرپاکستان پر غالب آنا چاہتا تھا لیکن 28مئی 1998ء کو پاکستان کے نجات دہندہ اور قومی ہیرو میاں نوازشریف اورعوام نے متحدہوکر چاغی کی آغوش میں ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کی برتری کاخواب چکنا چور اور غرور ملیامیٹ کر دیا۔ پاکستان میں نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسے اپنے خون سے سینچا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور نامزد وزیراعظم میاں نواز شریف نے جان اور اقتدار کی بازی لگا کراس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کوسولی پر چڑھا دیا گیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جرم بیگناہی کی پاداش میں رسوا کیا  گیا اور میاں نواز شریف کو خاندان سمیت ملک بدرکردیا گیا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھنے اور اسے بنانے والی شخصیات کی کمٹمنٹ اور خدمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ اگر میاں نوازشریف بھی پرویز مشرف کی طرح وائٹ ہائوس کی ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتے تو ذوالفقارعلی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا۔ بجا طور پر  پاکستان کا ایٹمی پروگرام ملک و قوم پر میاں نوازشریف کا احسان ہے۔آج اگر پاکستان میں داخلی عدم استحکام اور سیاسی بحرانوں کے باوجودکسی بیرونی طاقت کو مجال نہیں کہ وہ ارض پاک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے تو یہ میاں نوازشریف کا قومی مفادات پر سمجھوتہ نہ کرنے اور اپنے فیصلوں پرڈٹ جانے کا نتیجہ ہے۔ آج بھار ت مذاکرات کی بات کرتا ہے  واجپائی دوستی بس میں بیٹھ کر لاہور آنے اور منٹو پارک میں مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکر پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ پرامن مقاصد کا حامل پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ہمارا قومی اثاثہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے پرویز مشرف کے دور حکومت میں مسلسل آٹھ سال جبکہ صدر زرداری کی صدارت کے پانچ برسوں میں ایک بار بھی یوم تکبیر نہیں منایا گیا، الٹا مسلم لیگ (ن) سمیت محب وطن طبقات کو بھی یوم تکبیر منانے اور قومی ہیرو میاں نوازشریف کو خراج تحسین پیش کرنے سے روکا جاتا رہا۔ حسد کی یہ آگ ٹھنڈی کرنے کیلئے ارباب اقتدار نے خطیر قومی سرمائے سے تعمیرکردہ چاغی پہاڑ، شاہین اورغوری میزائل کے ماڈل مسمار کر دیے۔ فوجی حکمرانوں کے ادوار میںسیاست اور عداوت کو مکس کر دیا گیا۔کیا اس طرح کسی ہیروکے کارناموں اور یادوں کومٹایا جاسکتا ہے۔ کیا پرویز مشرف منتخب حکومت برطرف اور میاں نوازشریف، میاں شہبازشریف کو ملک بدرکرکے عوام کے دل و دماغ سے ان کی یادیں مٹانے میں کامیاب ہوئے، ہرگز نہیں کیونکہ قوم نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ دے دیا۔ روشن خیال حکمرانوں نے اپنے دور میں مخلوط میراتھن ریس اور بسنت جیسے تہواروں کو فروغ دیا جبکہ یوم تکبیرجیسے قومی دن کو اپنے تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا۔ دنیا کی ہر زندہ قوم اپنے قومی تہواروں اور اہم دنوں کو جوش و جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔ اجتماعی سطح پر یادیں تازہ کی جاتی ہیں خواہ وہ یادیں تلخ ہی کیوں نہ ہوں۔ جاپان میں ہر سال ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی یاد منائی جاتی ہے، امریکہ میں بھی نائن الیون کے سانحہ پر کچھ دیر کیلئے خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو ہم یوم تکبیر کو یوم تفاخرکے طور پر کیوں نہیں منا سکتے، اپنے قومی ہیروز کے کارہائے نمایاں کو اجاگر کیوں نہیں کر سکتے۔کیا پاکستان کا ایٹمی بم صرف میاں نواز شریف کا اثاثہ ہے،کیا یوم تکبیر منانا صرف مسلم لیگ (ن) کا فرض ہے، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پاکستان کا نیوکلیئر  پروگرام پوری قوم کا اثاثہ ہے، یوم تکبیر منانا ہر پاکستانی کا فرض اور اس پرقرض ہے۔ یوم تکبیر یہ وہ تاریخی دن ہے جب پاکستان دفاعی اعتبار سے ناقابل تسخیر بنا، یوم تکبیر بابائے قوم کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔ ایک اسلامی جمہوری اور ناقابل تسخیر پاکستان بابائے قوم  کے ناتواں جسم میںدھڑکتے دل کا ارمان تھا۔آئیے آج یوم تکبیر پر مادر وطن کے دفاع کا تجدید عہد کریں۔ اپنی دعائیں اور وفائیں اپنے پیارے وطن پاکستا ن اور قومی ہیروز کے نام کردیں۔