پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کا دن

کالم نگار  |  اے جے چودھری
پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کا دن

28 مئی یوم تکبیر ہماری عظمت، شان، وقار قومی تاریخ اور 14؍اگست 1947ء کے بعد دوسرا قومی دن ہے۔ اس تاریخ ساز دن کے بانی اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف ہیں جنہوں نے عالمی دبائو کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا اور نیوکلیئر کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا۔ نواز شریف نے دلیرانہ قدم اٹھا کر وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنانے اور مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ آج کا دن پاکستانی قوم کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے جس کا کریڈٹ وزیر اعظم نواز شریف اور قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کے علاوہ پوری قوم اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔
ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے اس وقت وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف پر شدید عالمی دبائو تھا ان کو خریدنے کی کوشش کی گئیں۔ مگر ان کے لئے پاکستان کے مفادات سب سے افضل تھے۔ اس کا اعتراف ہمارے قومی ہیرو اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے 19 اگست 1998ء کو محمد نواز شریف کے نام خط میں کیا تھا۔  
امریکی حکومت نے پاکستان کے ایٹمی دھماکے روکنے کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد بھیجا جس کی قیادت جنرل زینی کر رہے تھے لیکن وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے اس وفد کو پاکستان کی سرزمین پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکیوں کے بار بار رابطے کے باوجود پاکستان کی طرف سے انکار جاری تھا۔ آخر کار جنرل زینی نے امریکی وزیر دفاع کوھن سے کہا آپ اجازت دیں تو میں جنرل کرامت سے بات کروں۔ جنرل جہانگیر کرامت سے بات کی تو انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا لیکن کوئی بھی محمد نواز شریف کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے پر قائل نہ کر سکا۔ آخر کار 28مئی کو ایٹمی دھماکے کرکے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان کا ہی نہیں مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کر دیا اور پوری دنیا پر آشکار کر دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اپنی بقا اور سالمیت کیلئے کسی کے آگے سرخم کرنے کی بجائے سر اٹھا کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس وقت جناب محترم ڈاکٹر مجید نظامی کا ذکر نہ کرنا بھی بے جا ہو گا جب ایٹمی دھماکے کرنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف پر شدید عالمی دبائو تھا تو محترم مجید نظامی صاحب نے محترم نواز شریف کو عالمی دبائو سے بالا تر ہو کر ایٹمی دھماکے کرنے کا مشورہ دیا۔ 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کرنے کے فوراً بعد سب سے پہلے نواز شریف نے جناب مجید نظامی صاحب سے فون پر بات کرکے مبارک باد دی۔ ڈاکٹر مجید نظامی پاکستان کا سرمایہ تھے لیکن وہ آج ہم میں نہیں ہیں۔ ان کی پاکستان سے بے پناہ محبت اور ان کی پاکستان کیلئے کاوشوں کو پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی خداوند تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ انہوں نے نوائے وقت کو گروپ کی شکل میں پاکستان کی ترجمانی کیلئے وقف کر دیا ہے جو ہمیشہ یہ ترجمانی کا حق ادا کرتا رہے گا۔ محترم جناب مجید نظامی صاحب کی کمی تو پوری نہیں ہو سکے گی۔ لیکن ان کا ادارہ نوائے وقت گروپ پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہے گا۔آج یوم تکبیر کا تقاضا ہے کہ ہم سب تمام اندرونی و بیرونی سازشوں کے سامنے یکجا ہو جائیں آپس کی لڑائیاں اور رنجشیں بھلا کر اپنی آزادی کی حفاظت کیلئے یکجا ہو جائیں۔ ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں ہمارا ہمسایہ ملک چین جو سرمایہ کاری کر رہا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ہم سب اپنا اپنا رول ادا کریں۔ پاکستانی قوم کی خوش قسمتی ہے کہ آج بھی پاکستان میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت ہے۔ جس طرح عالمی دبائوں کے باوجود انہوں نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا اسی طرح وہ پاکستانی معیشت کو ناقابل تسخیر بنانے میں اپنا رول ادا کریں گے۔ پاکستانی قوم اور ہماری بہادر مسلح افواج ہر پل ان کے ساتھ کھڑی ہے آج کا دن پاکستان کی بقاء سالمیت کو ناقابل تسخیر بنانے اور تجدید عہد کا دن ہے خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔