قوم کو یوم تکبیر مبارک ہو!

کالم نگار  |  حسنین ملک
قوم کو یوم تکبیر مبارک ہو!

 ہر قوم کی زندگی میں کچھ دِن ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ ساز ہوتے ہیں ،وہ پور ی قوم کے لیے اہم ہوتے ہیں،ہر ایک کی خوشی اِس میں شامل ہوتی ہے۔پاکستان کی تاریخ میںبھی 28مئی 1998ء کا دِن قومی تاریخ میں سب سے اہم سنگ میل کا درجہ رکھتاہے جب کلمہ کی بنیاد پر بننے والی ریاست مملکت پاکستان دُنیا کی ساتویں اور اِسلامی دُنیا کی پہلی ایٹمی پاور بنی۔ اُس سال چند دِن پہلے بھارت کے پوکھران میںہونے والے ایٹمی دھماکوںکے بعد بھارت کے چھٹے ایٹمی پاور بننے کے بعد  پاکستانی عوام شدید بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میںتھی کہ ہم کو بھی فوری طور پر اپنے ایٹمی طاقت بننے کے لیے دھماکہ کرکے اعلان کرنا چاہیے۔وزیراعظم نواز شریف کو محترم مرحوم  مجید نظامی صاحب نے اُس وقت کہا’’میاں صاحب آپ دھماکہ کردیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کردے گی‘‘
امریکہ کے صدر کلنٹن نے کئی بار وزیر اعظم پاکستان کو کال کرکے اِس کے بدلے میں اُن کے ذاتی اکائونٹ میں بلین ڈالرز ڈالنے کی بھی پیشکش کی اور پاکستان کے لیے امداد کا بھی اشارہ دیا مگر بہادر و دلیر وزیر اعظم نے سب کچھ ٹھکرا کر ایٹمی  دھماکہ کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر 28 مئی 1998ء دِن تین بجکر 16منٹ پر جب چاغی (بلوچستان)کی پہاڑی پر ایک  پاکستانی نوجوان سائنسدان نے مشین کا بٹن دبا کر پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی تصدیق کردی۔تو زیر زمین میلوں لمبی سُرنگ میں زبردست ارتعاش پیدا ہونا شروع ہوااور پہاڑوںکا رنگ تبدیل ہونا شروع ہوگیا ۔اس کے بعد پہاڑوں پر جمی مٹی دُھول بن کر اُڑنے لگی۔ چاغی کے اردگرد دُور دُور تک آبادی کے آثار نہیں۔ پہاڑ کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہوگیا  ایک دم سفید ہوگیا اور دُھویں میں لیپٹ گیا اور فضاء وہاں ڈاکٹر قدیرخان اور اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور دیگر سائنسدانوں و انجینئرز کی ٹیم کے ساتھ اللہ اکبر کی آواز سے گونج اُٹھی۔پوری قوم سجدہ شُکر سے سرسجود ہوگئی ۔اللہ اکبر !۔ہر ایک کے چہرے پر خوشی و شکر کے تاثرات تھے ،لوگ ایک دُوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔ہم پہلی اِسلامی ایٹمی طاقت بن گئے تھے اوردُنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بھی۔  شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جو خواب 1972 ء کو دیکھاتھاجس کی تعبیر کے لیے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ہالینڈ کی پُرتعیش و شاندار مستقبل والی زندگی کو ایک لمحہ میں مادرِوطن کا قرض چُکانے کے لیے خیربارکہہ دیا تھا آج اُن کی برسوںکی شب وروز کی محنت کی کامیابی رِب نے عطا کی تھی۔آج پاکستان ایٹمی طاقت کی طرف کوئی میلی آنکھ بھی اُٹھا کر نہیںدیکھ سکتا،آج ایک نہیں ہزاروں قدیراِس کی حفاظت و ترقی کے لیے اِس نظام سے منسلک ہیں۔یوم تکبیر ایک دِن کا سفر نہیں ہے یہ چھبیس برسوں کی ایک طویل جدوجہد کا اِنعام ہے ،اِس کے رُوح رواں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان ہیں اور اِس کے خالق ذوالفقار علی بھٹو شہید ہیں۔اُن سے سیاسی اختلاف بے شک جماعتوں اور لوگوں کو ہوں گے مگر اُن کے اِس بڑے کام کی وجہ سے وہ پوری قوم کے مُحسن بھی ہیں۔ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے شعبہ نیوکلیئر میں اپنے حصے کا جو کام کئی سال کی مسلسل جدوجہد و محنت کے ساتھ ایٹمی طاقت بننے کے لیے کیا ،قوم اُسکو بھی سلام کرتی ہے۔ڈاکٹرمنیر احمد خان سے لے کر ریاض الدین مرحوم تک جو بڑے نا م شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی میں آتے ہیںجن کی محنت سے یہ بڑا کام مکمل ہوا اُن ناموں میں ڈاکٹر اشفاق احمد ،ڈاکٹر سلطان بشیر الدین محمود ،پروفیسر سلام ،ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی ،پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام ،ڈاکٹر عشرت عثمانی ،ڈاکٹر رضی الدین صدیقی  اور بے شمار اور بھی بڑے نام ہیںجن سے مجھے آپ کو آگاہی نہ ہو مگریہ سب لوگ بھی ہمارے محسن ہیں۔اِن کے نام پر حکومت کو سرکاری ایوارڈ بھی دینے چاہیں اور نوجوان نسل کو سکینڈری سے گریجویشن تک ایک سبق یو م تکبیر پر بھی ہونا چاہیے تاکہ ہمارے بچوں،جوانوں کو معلوم ہو کہ ایٹمی طاقت بننے کی کہانی میں کن کن لوگوں کی زندگیوںکی قربانیاں ہیں۔اِس مشن میںہزاروں ورکرز جنھوںنے پاکستان اٹامک کمیشن کا حصہ بن کر اپنے اپنے حصے کا کام کیا۔پاک فوج کے نوجوانوں،آفیسران انجینئرنگ ،سکیورٹی مینجمنٹ کا بھی اِس پراجیکٹ میںبہت بڑا اہم کردار ہے جنھوں نے بہت خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ جنرل(ر) زاہد علی اکبر،بریگیڈیر سجاول کی قومی سطح پر اِس پراجیکٹ کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔سیاسی نقشہ میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد جنرل ضیاء الحق نے گیارہ سال تک اِس پراجیکٹ کے لیے اپنی طرف سے مکمل تعاون ،سہولیات فراہم کیں،محمد خان جونیجو مرحوم ،محترمہ بے نظیر بھٹو شہیداور پھر موجودہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف ہر ایک نے اِس منصوبے پر غیرمُلکی طاقتوں سے کبھی کوئی مفاہمت کا نہ سوچ کر اپنا حق ادا کیا ،سابق صد ر غلام اِسحا ق خان مرحوم کو آج ہم بھول جائیں تو یہ نا انصافی ہوگی ،وہ بہت بڑا کردار تھے جنھوں نے شروع سے ہی حکومتی سطح پر اِس پراجیکٹ میں اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے سنبھالا اور پھر تکمیل تک وہ اِس کے ساتھ منسلک رہے،اُن کی ہر دور میں اس پراجیکٹ سے دوری ایک لمحہ بھی نہ رہی اور وہ خصوصی دلچسپی،مشاورت ،تعاون اورمسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی سیٹ کے ساتھ بہت بڑا کام خاموشی سے کرتے رہے اور آج جب محسن پاکستان سے پوچھا جائے کہ کوئی ایسی ہستی جس نے اِن پراجیکٹ میںآپ کی نظر میں بہت عمدہ رول ادا کیا ہو اور زبردست کام کیا ہو تو وہ مرحوم صدر غلام اِسحاق خان کے کردار کو سراہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُن کے کام کی مثال نہیں ملتی۔
 اِس عظیم کامیابی کے کرداروں میںمحسن پاکستان سے لے کر 28 مئی 1998 ء تک شامل افراد سے اِس جدوجہد کی مکمل تفصیل جاننے کے بعد ایک قومی ڈاکومنٹر ی اورایک قومی فلم وکتاب شائع ہونی چاہیے جس میںمحسن پاکستان سے لے کر 28مئی 1998ء تک لمحہ بہ لمحہ جدوجہد ،مسائل ، قربانیو ں کی تفصیل ہو اور نمایاں ہیروز کی تفصیل ہو تاکہ قوم بھی جان سکے اورآنے والی نسلوں کے لیے بھی یہ ایک قیمتی قومی اثاثہ ہو کیونکہ جو قومیں اپنے محسنوںکو بھول جائیںوہ کامیابی کے زینے نہیںطے کرسکتی ہیں۔قوم کو یوم تکبیر مبارک ہو!