یوم تکبیر ۔ میاں نواز شریف کی کامیابی اور توقعات

کالم نگار  |  محمد صادق جرال

پاکستان کے انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ اور میاں نواز شریف نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ کامیابی پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس سے پاکستانی عوام کے ساتھ کشمیری عوام میں خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ آل پارٹی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق ، یٰسین ملک اور دیگر نے بھی میاں نواز شریف کو مبارک باد دی ہے۔ اور توقع کی ہے کہ میاں نواز شریف کو حکومت استحکام پاکستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بھی اہمیت دے گی اور اس کے حل کیلئے اپنا رول ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مستحکم حکومت بننے جا رہی ہے ۔ امید ہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت حال اور اقتصادی مسائل کا خاتمہ ہو گا ۔ چند ماہ قبل حریت راہنماﺅں کا دورہ پاکستان کے دوران میاں نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کشمیری راہنماﺅں کو یقین دلایا تھا۔ ہماری حکومت اقتدار میں آتے ہی مسئلہ کشمیر کے حل پر خصوصی توجہ دے گی اب جبکہ میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے جا رہے ہیں تو مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے عوام انکو نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ توقع کرتے ہیں کہ وہ ترجیح بنیادوں پر مسئلہ کشمیر حل کرائیں گے اور کشمیری قیادت جو کہ بنیادی فریق سے اسکو بھی مذاکرات میں شامل کریں گے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لائے جائیں گے۔ حکومت پاکستان کو بھارت سے مذاکرات اور دیگر معاملات میں کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔ کیونکہ میاں نواز شریف نے اپنے سابقہ دور میں بھی حالیہ بیانات میں بھی اپنے ہمسائیوں اور بالخصوص بھارت کے حق میں مثبت بیان دیئے ہیں۔ اور آگے بڑھ کر نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ بطور وزیر اعظم بھارتی وزیراعظم واجپائی کو بہت محبت دی۔ اور پاکستان میں خوب آﺅ بھگت کی تھی ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ چکنے کی نوید بھی دی لیکن ہماری بد قسمتی کہ واجپائی نے واپس جاتے ہی کشمیر میں پاکستانی مداخلت کا الزام لگایا۔ اور کارگل ایشو سے بھی نقصان ہوا۔ اور اس وقت اور اب بھی واجپائی بھارت کو کشمیر کا اٹوٹ انگ کہتے ہیں۔ اور آزاد کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہیں۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ شدید مخالف ممالک نے بھی مذاکرات سے اپنے مسائل حل کیے۔ کیونکہ ہمسائیوں کے ساتھ دشمنی ایک عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ لیکن یکطرفہ دوستی کی بات کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جب تک دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر رکاوٹ ہے۔ جو بھارت نے خود پیدا کیا ہے۔ اور خود ہی اقوام متحدہ میں لے کر گیا۔ اور حل کرانے کا وعدہ کیا ۔ یہی وعدہ اس نے پوری دنیا ، پاکستان اور کشمیری عوام سے بھی کیا۔ اور یقین دلاتا رہا کہ کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل کیا جائے گا۔ اعتماد سازی ، مذاکرات ، خیر سگالی کی ملاقاتیں ، بیانات صرف پاکستان کی طرف سے ہیں۔ بھارت کی طرف سے خیر سگالی یہ ہے کہ ہم کشمیر کو بھول جائیں ، پاکستان فوجی امداد کیا، اخلاقی مدد بھی نہ کرے۔ پانی، سرکریک، سیاچین سب معاملات پر بھارت کا مﺅقف تسلیم کیا جائے۔ آزاد کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا جائے۔ بھارت کو سپر پاور تسلیم کیا جائے۔ دوستی کے چکر میں اپنے اصول فراموش نہیں کرنے چاہیں۔ ہماری ملکی پالیسیاں بالخصوص خارجہ پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح کے سنہرے اصولوں کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ کیونکہ بھارت منافق اور جھوٹا ہے۔ آپ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں گاندھی، نہرو ، پٹیل اور دیگر کانگریسی راہنماﺅں کا مقابلہ سچ ، اصول اور نظریے سے کیا ہے۔ تب ہی پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہمیں دو قومی نظریہ ، ملکی سلامتی ، کشمیر اور دیگر معاملات پر بہت کچھ درست کرنا ہو گا۔ ورنہ بھارت منافقت اور دوستی کے چکر میں ہمیں کھا جائے گا۔ اصول پر قائم رہنے سے ہی ہماری کامیابی ہے۔ آج قوم یوم تکبیر منا رہی ہے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں میاں نواز شریف کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے بھارتی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا۔ وہ آج عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کا وزیراعظم بننے جا رہے ہیں۔ وہ بھارت کے خلاف مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کے دام الفت میں آئیں نہ کسی کمزوری کا اظہار کریں۔ ایٹمی پاکستان کے حکمران ہیں اور کسی بھی ایٹمی ملک کے سربراہ سے اس کے عوام جو جرات مندانہ کردار کی توقعات رکھتے ہیں ان پر پورا اتریں۔