یوم تکبیر۔۔۔قیادت اور قوم کی تقدیر

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر میاں محمد نواز شریف تک ہر حکمران کا کردار قابل ستائش ہے ۔ ستر کی دہائی سے 98ءتک کسی بھی حکومت نے کمزوری دکھائی ہوتی تو ہمارا ایٹمی پروگرام کھٹائی میں پڑتا اور پاکستان کا ایٹم بم بنانا ادھورہ خواب بن کے رہ جاتا۔پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر قومی خزانے کے جو دروازے کھولے تھے وہ تمام حکمرانوں نے کھلے رکھے تا آنکہ پاکستان نے ایٹم بم اپنے بل بوتے پر کسی بھی عالمی ادارے کی مدد کے بغیر بنا لیا۔بلاشبہ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کا کریڈٹ تمام حکمرانوں کو جا تا ہے لیکن اس حوالے سے بھٹو اور نواز شریف کا کردار ناقابل فراموش اور دیگر کے مقابلے میں کہیں بڑھ کرہے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے اس پروگرام کی ابتدا کی اور ڈاکٹر اے کیو خان کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے معاملات ان کی صوابدید پر چھوڑ دیئے ۔وہ بھی اعتماد پر پورا اترے۔بھٹو صاحب اس کام کے آغاز کے بعد کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔انہیں اس پروگرام سے باز رکھنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دی لیکن بھٹو کے پائے استقلال میں کبھی ہلکی سی بھی لرزش نہیں آئی ۔حتیٰ کہ بھٹو صاحب کو واقعی عبرت کا نشان بنا دیا گیالیکن جس کے ہاتھوں بھٹو تختہ دار پر پہنچے اس نے بھی ایٹمی پروگرام پر کمپرومائز کرنے سے انکار کردیا۔پھر جنرل ضیاءالحق بھی ایک حادثے کا شکار ہوگئے۔ مرنے والوں میں امریکی سفیر اور ایک امریکی جنرل بھی شامل تھا اس کے باوجود بھی حادثے کی تحقیقات کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ گویا اس ایٹم بم کی تعمیر میں ہمارے دو حکمرانوں کا خون بھی شامل ہے ۔ان دونوں کے لئے عوام کے دل میں احترام کے جذبات موجودہیں۔بھٹو نے ایٹم بم بنانے کی ابتدا کی اور اپنی جان بھی دی۔میاں نواز شریف نے شدید دباﺅ ،دھمکیوں اور پانچ ارب ڈالرکو ٹھکرا کر28 مئی 1998ءکو پانچ دھماکے کر کے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی اور واحد ایٹمی طاقت بنا دیا۔یو ں ذوالفقار علی بھٹو اور میان نواز شریف کا نام پاکستان اور عالم اسلام کی تاریخ میں رقم ہوگیا جو تادیر روشن رہے گا۔ صرف قومی خزانے کے در کھولنے سے ہی پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بن گیا ، ایسا ہوتا تو پاکستان کے مقابلے کہیں زیادہ امیر اور شاہ خرچ عرب ممالک میں سے ہر کوئی ایٹم بم بنا چکا ہوتا۔ اس کے لئے ایک کمٹمنٹ ،جرات اور مہارت کی ضرورت ہے ۔مہارت ڈاکٹر قدیر کی صورت میں ملی جبکہ جرات اور کمٹمنٹ کااظہار قیادت اور قوم نے یکساں طور پر کیا ۔ذوالفقار علی بھٹو نے ایک موقع پر کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے ۔ اس پر پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔جو قوم محدود وسائل عالمی قوتوں کی دھونس اور دھمکیوں کے باوجود ایٹم بم بنا سکتی ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتی ہے ۔ناممکن کو ممکن بنا دینا اس کے بائیں ہاتھ کاکام ہے ۔ اس کے لئے پہلی اور آخری ضرورت ایک جرات مند ، کمٹڈاور دیانت دار قیادت کی ہے۔آج ہم بہت سے مسائل کی گھمن گھیری میں چکرا رہے ہیں۔بحرانو ں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔انرجی کرائسز عفریت بن معیشت کو چاٹ رہا ہے ۔بیروز گاری نے اس کی کوکھ سے جنم لیا۔صنعتوں کا پہیہ جام ،گھریلو زندگی عذاب بن گئی۔طلباءسڈی کی طرف توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ہسپتالوں میں اپریشن نہ ہونے سے اموات میں اضافہ ہوگیا۔کونسا ایسا عذاب ہے جو عوام پر انرجی کرائسز کی وجہ سے مسلط نہیں۔جن لوگوں ملک و قوم کو اس حال تک پہنچایا ان سے اس کا حساب تو یقینا لینا ہوگا لیکن آج ضرورت اس بحران اور مصیبتوں کے طوفان سے نجات حاصل کرنے کی ہے۔ایٹمی پاکستان کے لئے یہ ناممکن تو کیا مشکل بھی نہیں ہے۔ آ ج کا دن پاکستان کی تاریخ ایک نہایت ہی اہم دن ہے ۔آج قوم یوم تکبیر منا رہی ہے ۔۱۱ مئی ۲۰۱۳ کے انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کی تشکیل ہورہی ہے۔ یوں اس دن کی حیثیت دوچند ہو جاتی ہے ۔ حسنِ اتفاق ہے کہ پندرہ سال قبل میاں نواز شریف نے بھارت کے چار دھماکوں کے جواب میں پانچ دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا تھا ۔اب وہ سب سے بڑی پارٹی کے قائد کی حیثیت سے مرکز ،پنجاب اور بلوچستان میں حکومت بنا رہے ہیں۔ 12اکتوبر 1999ءکے سیاہ دن کی یادیں نواز شریف کے ذہن میں تازہ ہونگی جب ایک آئینی اور جمہوری حکومت پر فوجی آمر نے شب خون مارا تھا۔ وہ ان کو شاید موت کی وادی میں پہنچا دیتا مگر میاں صاحب کے دوست ان کو بچاکرسرور پیلس لے گئے۔ اب میاںصاحب کو ایک نیا سیاسی جنم ملا اورقوم نے ان کے سر پر تیسری بار تاج سجا دیا ہے۔ ان کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھانا ہوگا۔ان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں جیسی جرات اور عزم وارادے کا مظاہر ہ کیا گیا تو پاکستان یقینامسائل اور بحرانوں کے بھنور سے نکل آئے گا۔پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ،قوم کچھ بھی کر گزرنے کے عظیم تر جذبے اور ولولے سے معمور ہے۔ اسے ایک ایسے ہی جذبے سے معمور قیادت کی ضرورت ہے۔ میاں نواز شریف نے خود کو ایسا ثا بت کر دیا تو پاکستان واقعی تبدیل ہوجائے گا جیسا میاں نواز شریف نے انتخابی مہم میں قوم سے پاکستان کو بدلنے کے عہدو پیمان کئے تھے۔