یوم تکبیر

کالم نگار  |  خورشید احمد

28 مئی پاکستان کی تاریخ میں اہم ترین ایام میں سے ایک ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مجاہدانہ قیادت میں 14 اگست 1947ءکو مسلمانان ہند و پاک کی عظیم قربانیوں سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ 6 ستمبر 1965ءپاکستان کی بہادر افواج اور پاکستانی قوم نے بھارت کی جارحیت کو اپنی عظیم قربانیوں سے ناکام بنایا۔ اندرا گاندھی نے 1971ءمیں بھارت نے جارحیت کرکے مشرقی پاکستان علیحدہ کرنے کے بعد 1974ءمیں ایٹم بم کا دھماکہ کیا۔ جس سے پاکستانی قوم کو اپنی آزادی کے تحفظ کے چیلنج کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس وقت جناب زوالفقار علی بھٹو نے نہایت مدبرانہ طور پر قومی دفاع کا تحفظ کرنے کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر محسن پاکستان کے تعاون سے ایٹمی پروگرام شروع کردیا۔ بھارت نے دوبارہ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کے دفاع کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی۔ تمام قوم اس وقت سخت پریشان تھی اور بجاطور پر توقع رکھتی تھی کہ میاں نوازشریف ان ایٹمی دھاکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کرکے بھارت کو مثبت جواب دیں ۔عالمی طاقتوں نے برصغیر میں ایٹمی ہتھیاروں کی جنگ رکوانے کیلئے میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان پر دباو¿ ڈالا کہ وہ ایسا نہ کریں ورنہ انکی اقتصادی امداد بند کردی جائیگی۔ اس موقع پر صدر امریکہ مسٹر کلنٹن نے پانچ بار میاں نواز شریف کو ٹیلی فون کیا کہ وہ ایٹمی دھماکہ نہ نیز انہیں پانچ ارب ڈالر امداد کی مشروط پیش کش کی جسے میاں نواز شریف صاحب نے ہمت کرکے ٹھکرا دیا۔اس وقت تمام محب الوطن عناصر نے میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ عالمی طاقتوں کے دباو¿ کو نظر انداز کرکے پاکستان کی سالمیت و تحفظ کیلئے ایٹمی دھماکہ کریں۔ خود بزرگ صحافی مجید نظامی صاحب نے میاں نواز شریف کو تنبیہ کی کہ اگر انہوں نے عوامی امنگوں کو نظر انداز کرکے یہ دھماکہ نہ کیا تو قوم ان کا دھماکہ کردیگی۔ اس طرح 28 مئی کوچاغی (بلوچستان) میں ہمارے عظیم سائنس دانوں کی ٹیم نے جناب ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر صاحب کی قیادت میں کامیاب ایٹمی دھماکہ کیا۔ جس پاکستان دنیا کی ساتویں عالمی اور اسلامی ممالک میں پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔ اس دھماکہ کے بعد مجھے عالمی کانفرنس منعقدہ جنیوا میں شرکت کرنے کا موقعہ ملا۔ جہاں تمام مسلم ممالک کے مندوبین پاکستان کے ایٹمی دھماکے پر فخر محسوس کررہے تھے اور مجھے مبارکباد دے رہے تھے۔آج مورخہ 28 مئی کو یوم تکبیر مناتے ہوئے ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں قومی اقتصادی و سماجی ترقی میں بہتری کی ضرورت ہے جس ملک میں عام بیروزگاری، کمر توڑ مہنگائی اور امیر و غریب کے مابین بے پناہ فرق اور عام جہالت، دہشت گردی اور شدید لوڈشیڈنگ کی لعنتوں کو جلد ختم کیا جائے۔ پاکستان میں اقتصادی و سماجی انصاف پر مبنی اسلامی فلاحی جمہوری مملک کے مقاصد کی جلد از جلد تکمیل کی جائے کیونکہ کوئی ملک اقتصادی و سماجی ترقی کے بغیر خود کفیل و مضبوط نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ ہمارے نئے منتخب حکمرانوں کو اپنی مفادات و حرض و ہوس قربان کرکے غریب قوم کی اقتصادی و سماجی حالت بہتر کرنے کے نیک مشن میں کامیاب کرے اور قوم کی داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ کرے، آمین۔