پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت

کالم نگار  |  نغمہ حبیب

آج سے پندرہ سال پہلے یعنی 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور بر صغیر میں طاقت کے بگڑتے ہوئے توازن کو متوازن کیا ۔ طاقت کا جواب طاقت ہو تو معاملات بہت حد تک درست رہتے ہیں اور یہی ہوا ۔ بھارت اپنے ایٹمی دھماکوں کے بعد جو متکبرانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کر رہا تھا کم از کم اس میں کمی آئی۔ایٹم بم کے استعمال کی نوبت نہ آنا ہی انسانیت کی دلیل ہے لیکن اس نوبت کے نہ آنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے طاقت کا توازن اور دونوں طرف اس کا موجود ہونا۔ لیکن بین الاقوامی طور پر آج بھی پاکستان کے ایٹم بم کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے خود ہمارے کچھ دانشوروں کو بھی جب امن کا نوبل انعام لینے کا خیال آتا ہے تو اپنے ہی ایٹم بم کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں اور ان تمام حالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جن میں یہ بنایا گیا اور یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ اگر یہ نہ ہوتا تو کیا آج ہم اتنے محفوظ ہوتے۔ پاکستان کے خلاف بہت ساری بین الاقوامی سازشیں بھی اسی لیے کی جاتی ہیں کہ وہ ایک اسلامی ملک ہے اور اس کے پاس ایٹم بم ہے ۔مغرب اور اس کے مشرقی دوستوں نے طاقت کو اپنا حق سمجھ رکھا ہے اور مسلمانوں کے لیے شجر ممنو عہ اور سونے پر سہاگہ کہ مسلمان بھی ہمہ وقت باہم دست و گریباں رہتے ہیں بلکہ غیروں کے آلہ کار بن کر اپنوں کا ہی گلا کاٹتے نظر آتے ہیں ۔پاکستانی ایٹم بم کے سلسلے میں بھی مسلسل یہی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ خدانخواستہ اس کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے کا خطرہ ہے اور کبھی کبھار تو مضحکہ خیز قسم کے مطالبوں کی آواز بھی آجاتی ہے کہ بین الاقوامی اداروں کو ان اثاثوں تک رسائی دی جائے یعنی با الفاظ دیگر بلی کو گوشت کو چوکیدار بنا دیا جائے اور وہ یہ بھی جانتے ہیںکہ ایٹم بم کسی قوم کا حساس ترین معاملہ ہوتا ہے اور اس تک رسائی دینے کا مطلب اپنے آپ کو خود ہی دوسروں کی غلامی میں دینے کے مترادف ہے جو کوئی ذی ہوش قوم نہیں کر سکتی ۔لیکن پاکستان میں دہشت گردی کا جو تانا بانا بنا گیا ہے اس کا ہر طرف اور ہر طرح سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے بہرحال اکثر محسوس یہی ہوتا ہے کہ سزا پاکستان کو ایٹم بم بنانے کی ہی دی جارہی ہے اور یہ سب اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ پاکستان کی حکومتوں نے چاہے کسی قومی معاملے میں ذمہ داری کا ثبوت دیا یا نہ دیا ہوایٹم بم کے معاملے میں بھر پور ذمہ داری کا ثبوت دیاہے اور خدانخواستہ ابھی تک کوئی ایسا حادثہ یا سانحہ نہیں ہوا جسے ہماری غیر ذمہ داری سے تعبیر کیا جا سکے جبکہ اس کے برعکس امریکہ میں کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں اور بھارت میں ایٹمی سائنسدان اغوا بھی ہوئے اور قتل بھی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کا وقتاً فوقتاً اٹھتے واویلا پر افسوس ضرور ہے جبکہ یہی لوگ بھارت کے ایٹمی پروگرام پر در پردہ اُسے مبارکباد یں دیتے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کی پاداش میں پاکستان پر پابندی لگانے والوں نے بھارت پر وہ اعتراضات اور خدشات نہیں اٹھائے جو اٹھائے جانے چاہئیں تھے اور نہ اب ایسا کیا جا رہا ہے۔ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں بولنے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی بم ہی تھا اور ہے جس نے بر صغیر میں ہونے والی جنگ کو روک رکھا ہے۔ بھارت جو کئی بار خمار میں اٹھتاہے اور پاکستان کو دھمکیاں دینے لگتا ہے کبھی ممبئی حملوں کا سہارا لے کر اور کبھی بارڈر پر بھارتی فوجیوں کی سر بُریدہ لاشوں کو بہانہ بنا کر اور کبھی کسی اور خود ساختہ دہشت گردی کو پاکستان کے نام لگا کرلیکن پھر اسے یاد آتا ہے کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی قوت ہے اور وہ رُک جاتا ہے تو یوں پاکستانی بم نے نہ صرف پاکستانیوں کو بلکہ دنیا کو بھی ایٹمی جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ایٹمی جنگ کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ اوروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور نسل ہا نسل تک چلتے رہتے ہیں ،جیسے امریکہ کے 68 سالہ پرانے جرم یعنی ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے کا اثر آج بھی وہاں معذور بچوں کی پیدائش کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان نے اپنا بم اسے استعمال کر کے انسانیت کا قتل عام کرنے لیے نہیں بنایا ہے بلکہ اپنے حفاظت کے لیے بناےا ہے تاکہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو محفوظ بنا سکے کیوں کہ اس کی سرحد پر موجود اس کا پڑوسی اپنی فطرت کے عین مطابق کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا نہ تو وہ سرحدوں کو محفوظ رہنے دیتا ہے نہ ملک کے اندر در اندازی سے باز آتا ہے۔ اب اس سب کچھ کے باوجود کوئی قوم اگر اپنی حفاظت کا انتظام نہ کرے تو اسے امن پسندی نہیں بلکہ غفلت کہا جاتا ہے اور یہ غفلت نہ امریکہ کرتا ہے نہ برطانیہ اور نہ بھارت تو پھر پاکستان سے اس کی توقع کیسے کی جاتی ہے ۔ گذشتہ 15 سال سے پاکستان نے جس ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد یہ مان لینا چاہیے کہ پاکستان نے ایٹمی قوت اپنی حفاظت کے لیے حاصل کی ہے کسی پر گرانے کے لیے نہیں لیکن اگر اس کو ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تو نہ صرف وہ ا پنی حفاظت کرسکتا ہے بلکہ اپنے مجرم کو سبق سکھانے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔