جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا

کالم نگار  |  تہمینہ شیروانی

28 مئی 1998 ء کے پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے چار ایٹمی دھماکوں کے جواب میں یکے بعد دیگرے5 ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پوری قوم کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ بات ایٹمی دھماکوں کی ہو رہی تھی اس سلسلے میں تمام محب وطن افراد اور قوتوں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا حتیٰ کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تمام بیرونی اور اندرونی دباﺅ کہ ایٹمی دھماکے نہ کئے جائیں کے مشورے کے پیش نظر زندگی کے ہر میدان سے تعلق رکھنے والے اہم حضرات سے اس سلسلے میں مشاورت کی جس پر تمام محب وطن جن میں محترم مجید نظامی صاحب کا کردار قابل ذکر ہے۔ سب نے میاں نواز شریف صاحب کو دھماکوں کے حق میں رائے دی۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں 1983ءمیں ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان نے 11مئی 1998ءاور 13مئی 1998ءکے ہندوستان کی جانب سے پے در پے۴ ایٹمی دھماکوں کا جواب ۵ ایٹمی دھماکے کر کے دے دیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی قیادت کی جانب سے کینیڈا، آسٹریلیا اور فرانس کے حکمرانوں سمیت امریکی صدر بل کلنٹن کے 5 ٹیلی فون کہ ایٹمی دھماکے نہ کرو ہم تمہارے ذاتی اکاﺅنٹ میں اربوں ڈالر منتقل کر دیں گے۔ پاکستان کی بقا اور سالمیت کو امر کرنے کے لئے کوئی بین الاقوامی، اندرونی اور بیرونی دباﺅ قبول نہ کیا جو اس بات کا مظہر تھا کہ خوددار، غیرت مند قیادت بھی قومی مفاد پر آنچ نہیں آنے دیتی چاہے اس سلسلے میں اسے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ درپیش ہوں۔ دنیا میں سب سے پہلے امریکہ نے 1945ءمیں 16 جولائی کے دن ایٹمی طاقت حاصل کی جس کے 20 دن بعد ہی امریکہ نے 6 اگست 1945ءکے دن جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم پھینک دیا اور پھر اسکے تین دن بعد 9 اگست کو ناگاساکی پر بھی ایٹم بم گرا دیا۔ امریکہ کے بعد 1949ءمیں روس، 1952 ءمیں برطانیہ اور پھر 1960ءمیں فرانس نے ایٹمی طاقت حاصل کی جبکہ چین 1963ءمیں ایٹمی قوت بنا یہ وہ دور تھا جب دنیا بھرسے ان پانچوں ممالک کا سکہ چلتا تھا اور پھر یہی پانچوں ملک سلامتی کونسل کے مستقل ممبر بھی بنے۔ پاکستان میں ایٹمی پروگرام 1960ءکی دہائی کی ابتداءمیں ایوب خان کے دور میں شروع ہوا جس میں وقتاً فوقتاً کام ہوتا رہا جبکہ اس کام میں تیزی اس وقت آئی جب 18 مئی 1974ءکو ہندوستان نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا جس کے اثرات بقول ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب ان پر بہت گہرے ہوئے تو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو لکھا کہ مجھے ایٹمی پروگرام سونپا جائے میں سات سال کے عرصے میں ہدف پورا کروں گا چنانچہ 1983ءمیں پاکستان نے ایٹمی طاقت حاصل کر لی تھی جس کا ثبوت 28 مئی 1998ءکے دن پاکستان کے وزیراعظم جو کہ آج پھر 28 مئی کو ایک بار پھر تیسری بار پاکستانی قوم کی جانب سے مینڈیٹ دیئے جانے پر وزیراعظم پاکستان بننے جا رہے ہیں نے ہندوستان کے۴ ایٹمی دھماکوںکے جواب میں ۵ ایٹمی دھماکے کر کے دیا ۔ اللہ تبارک تعالیٰ پاک سرزمین کو قیامت تک اپنی خاص حفاظت اور حفظ و امان میں رکھے اور ایک بار پھر ترقی و خوشحالی کا سفر شروع ہو (آمین ثم آمین)