ایٹمی دھماکے۔۔۔نواز شریف تذبذب سے کیسے نکلے!

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بلا شبہ ذولفقار علی بھٹو بانی ہیں تاہم 28مئی1998ءکے دھماکوں کے روز تک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بہت سے لوگوں کا کردار ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔1960کے عشرے میںیہ خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں کہ بھارت بڑی تیزی سے جوہری تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے۔1963میں ایوب خان کے وزیرذوالفقار علی بھٹو کی نظریں بھارت کے ایٹمی پروگرام پر بھی تھیں انہوں نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کیلئے پروگرام شروع کرنا چاہئے۔ لیکن صدر ایوب خان اور ان کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دوسرے وزیروں نے ان کی یہ تجویز یکسر مسترد کر دی اور واضح فیصلہ کیا کہ پاکستان جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔1963 میں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر گئے تھے تو صدر چارلس ڈیگال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ یہ پیشکش ٹھکرانے کا مشورہ انہیں ان کے چیف آف اسٹاف جنرل یحییٰ خان ، صدر ایوب کے اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ایم ایم احمد نے دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو1971 میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد بر سر اقتدار آئے اور پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے فوراً بعد بھٹو نے ایران، ترکی، مرکش، الجزائر ، تیونس، لیبیا ، مصر اور شام کا طوفانی دورہ کیا۔ اس دورہ کے دو اہم مقاصد تھے۔ ایک مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلقات تھا اور دوسرا پاکستان کے جوہری پروگرام کیلئے مسلم ملکوں کی مالی اعانت حاصل کرنا تھا۔ ہالینڈ میں موجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان آکر ایٹمی پروگرام کے آغاز کی پیش کش کی تو ذوالفقار علی بھٹو نے ان کو خوش آمدید کہا۔ یوں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے پر باقاعدہ کام شروع ہوگیا۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کلیدی کردار رہا۔1998ءمیں ایٹمی دھماکوں تک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے تک ہر حکمران نے حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر خان کو فنڈز کی کمی نہ آنے دی۔اس حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل محمد ضیاءالحق، بینظیر بھٹو میاں نواز شریف اور غلام اسحا ق خان کے نام سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ایٹمی پروگرام کے حوالے سے نوائے وقت کا کردار پروگرام کی ابتدا سے ہی حکمرانوں اور سائنسدانوں کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث رہا۔ایک مرحلے پر جب بھارت نے ۱۱اور ۳۱ مئی ۸۹۹۱ءکو دھماکے کئے تو وزیر اعظم نواز شریف پر دھماکے کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے دباﺅ تھا۔ایسے میں اسلام آباد کے وزیراعظم ہاﺅس میں ملک بھر کے ایڈیٹرز کی نوازشریف سے ملاقات تھی۔ نوازشریف پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے حوالے سے بہت دباﺅ تھا۔ انہیں دھمکی دی گئی اور رشوت کی پیشکش کے علاوہ 5‘ 6 فون بھی کئے گئے مگر انہوں نے تمام دباﺅ مسترد کر دیا۔ اس ملاقات میں بے شمار ایسے ایڈیٹر تھے جنہوں نے نوازشریف کو دھماکے نہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ایسی صورت میں امریکہ ہماری امداد بند کر دے گا۔ مجید نظامی صاحب کا موقف تھا کہ مسلمان حکمران کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے گھوڑے تیار رکھنے چاہئیں اور ہمیں ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے اور ایٹمی دھماکے کر دینے چاہئیں۔ اس موقع پرمجید نظامی صاحب نے نوازشریف کو بڑی سختی سے کہا کہ قوم آپ سے ایٹمی دھماکوں کی توقع رکھتی ہے تاکہ ہم بھارت کی سطح پر کھڑے ہوں‘ اگر آپ ایٹمی دھماکے نہیں کرینگے تو قوم حکومت کا دھماکہ کر دے گی۔ چنانچہ میاں صاحب نے دھماکے کر دئیے اور وہاں سے مجید نظامی صاحب کوفون کر کے کہا کہ میں پہلا ٹیلی فون آپ کو کر کے ایٹمی دھماکوں کی اطلاع دے رہا ہوں مبارک ہو پھر‘ 23 مارچ 1999ءکو انہوں نے ڈاکٹر قدیر اور مجید نظامی صاحب کوپاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشان امتیاز دیا۔اس موقع پرمجید نظامی صاحب نے کہا کہ مجھے یہ ایوارڈ کس خوشی میں دیا ہے تو نوازشریف نے کہا کہ اگر آپ اس وقت سخت لہجے میں مجھے ایٹمی دھماکے کرنے کا نہ کہتے تو شاید میں تذبذب میں پڑ جاتا اور دیر سے دھماکے کرتا۔