اللہ اکبر

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

بھارت کی مسلسل ریشہ دوانیاں‘ بنگلہ دیش کی علیحدگی‘ امریکہ کی مداخلت‘ روس کی سردمہری اور ناپسندیدگی‘ برطانیہ کی کینہ پروری اور سرحدوں پر مسلسل تنازعات نے پاکستان کی طرف تمام توپوں کا رخ کر ڈالا تھا۔ ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا جینئس اٹھا اور اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے بھٹو نے مغربی دنیا کو باور کرایا کہ اسلامی دنیا بھی متحد اور منظم ہے۔ 40 ممالک کا بیک وقت لاہور میں اکٹھا ہونا ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ اس سے پاکستان کی طاقت اور عظمت دونوں کا تاثر ابھرا۔ بھارت اندر خانے ایٹم بم بنا رہا تھا چنانچہ جلد ہی بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر دکھایا اور جتا دیا کہ ہم کبھی بھی پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے نوجوان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات حاصل کیں اور ایک خواب دیکھا کہ پاکستان کو ایٹمی ملک بنایا جائے۔ خوش قسمتی تھی میاں نواز شریف کی کہ ان کے دور حکومت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرخرو ہونے کا موقع ملا لیکن یہاں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تو بہت عرصہ سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکے تھے اور ایٹم بم بھی بنا چکے تھے لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ خود کو ایٹمی طاقت کب اور کیسے ظاہر کیا جائے۔ امریکہ اور بھارت پاکستان کو ہر صورت اس ٹائٹل سے محروم رکھنا چاہئے تھے اور جنوبی ایشیا میں صرف بھارت کی بالادستی کے خواہاں تھے چنانچہ امریکہ کا ایک دھمکی آمیز اور بلیک میلنگ والا رویہ تھا اور پاکستانی حکمران امریکی صدر کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لیتے تھے لیکن اس موقع پر پاکستان کے عظیم قومی ہیرو جناب مجید نظامی نے پہل کی اور ایٹمی دھماکہ کرنے پر زور ڈالا۔ میاں نواز شریف بھی تذبذب میں مبتلا تھے لیکن مجید نظامی صاحب اڑ گئے کہ یہی مناسب قوت ہے کہ دھماکہ کرکے منہ توڑ جواب دیا جائے۔ مرد مجاہد جناب مجید نظامی نے ایک میٹنگ میں میاں نواز شریف صاحب کو کہا کہ میاں صاحب آپ دھماکہ کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ میں آپ کا دھماکہ کر دوں گا۔“ یہ بات میاں صاحب کے دل میں بیٹھ گئی اور یوں چاغی کے پہاڑوں میں ”اللہ اکبر“ کے نعروں کے ساتھ پانچ دھماکوں نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کوئی کمزور ملک نہیں‘ نہ ہی تر نوالہ کہ اسے کوئی ہڑپ کر جائے بلکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ بدقسمتی سے ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان میں جمہوری حکومت کو سبوتاژ کیا گیا۔ دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی طاقت پر جنگیں مسلط کر دی گئیں۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، یورپین بنک، پینٹاگون اور وائٹ ہاﺅس کی طرف سے یلغار کی گئی۔ ایک ایٹمی ملک آج ایک بار پھر ایسے مقام پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں کوئی ترقی پذیر، مفتوح اور مفلوک الحال ملک ہوتا ہے۔ 1999ءکے بعد سے آج 2013ءمیں یعنی چودہ سال بعد پاکستان ایک مقروض، مقہور، مجبور، مظلوم ملک بن گیا۔ یہ چودہ سال پاکستان کی پسماندگی اور درماندگی کے سال تھے جب غیر جمہوری رویوں کو پنپنے کا موقع ملا۔ آج میاں نواز شریف کو ناقابل یقین کامیابی ملی ہے لیکن پاکستان بدحال ہے۔ آج 28 مئی یوم تکبیر ہے۔نواز شریف آج مجید نظامی کے مہمان ہیں اور طویل ترین عرصہ بعد ایک تاریخی موقع پر نظریہ پاکستان آئے ہیں۔ آج میاں نواز شریف کو سرخرو ہونے کا ایک موقع ملا ہے۔ آج میاں نواز شریف کو موقع ملا ہے کہ اپنی مادر گیتی کا حساب چکا دیں جس نے انہیں تیسری بار وزیراعظم بننے کا شرف بخشا ہے۔ اس وطن نے اور اس ملک کے لوگوں نے میاں نواز شریف کو بہت نوازا ہے، بہت کچھ دیا ہے اور ہر حال میں گلے لگایا ہے۔ اب میاں نواز شریف کی باری ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کا قرض چکائیں اور اگر پانچ سال حکومت کرنا چاہتے ہیں تو دلوں سے رنجشیں، کدورتیں، نفرتیں، انتقام اور بدلے بھلا کر حضرت عمر فاروقؓ اور خلیفہ ہارون و مامون جیسا حسن سلوک کریں۔ اس ملک کو گیدڑ نہ بننے دیں بلکہ ایک ایٹمی ملک کو شیر ببر بنا کر دکھائیں۔ اچھا مشورہ دینے والوں، آئینہ دکھانے والوں کو اپنا ساتھی بنائیں تاکہ کبھی گمراہ نہ ہو سکیں۔ اٹھیں! اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر پاکستان اور پاکستانیوں کی قسمت بدل دیں کیونکہ آئندہ یہ موقع نہیں ملے گا۔