امن کے متلاشی… کرا چی کے فیصلے

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
امن کے متلاشی… کرا چی کے فیصلے

دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی اس بحث میں ہیں کہ ارض پاک پر رہنے والے انسانوں کی بستی کیسے آباد ہو گی، جی ہاں! ہم ہر روز رینجرز کے اختیارات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں یہ ہی نہیں مجرم اور ملزم کے احتساب اور ٹرائل، قتل اور موت درمیان لٹک رہے ہیں، انصاف اور ناانصافی، حق اور ناحق کے فرق کو بھی نہیں سمجھ رہے اور ہمیں یہ ہی نہیں علم کہ اس ملک پر کس کا حق ہے، سیاسی جماعتوں کا المیہEstablishment ''ــکسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیںـ '' وسیم اختر ایم کیو ایم کے سینئر رہنما نامزد میئر کراچی ہیں اُن پر الزام اور پولیس کے دعوے کے مطابق اعتر اف بھی ہے ۔ پولیس کے دعوے کے مطابق 12مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے استقبال کے لیے آنے والوں پر فائرنگ کا حکم وسیم اختر نے دیا تھا ۔خود فیصلہ کیجیے کیا کسی ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص پر قتل جیسے سنگین الزامات بھی ہوں اور وہ وہاں کے لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار اور استحقاق بھی رکھتا ہو، یہ تو ایک ریفرنس کے لیے لکھ دیا، پردہ ہی بھلائی ہے۔
کراچی میں خون ریزی کا بازار گرم تھا نیشنل ایکشن پلا ن کے تحت کراچی میں حکومت کی رٹ بحال کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے رینجرز کو اختیا رت دینے کا فیصلہ کیا گیا وہ پہلے سے کر اچی میں موجود تھے مگر اختیارات نہیں تھے۔ آرٹیکل 147 کے تحت رینجرز کو بلایا اوراختیارات دیئے گئے مگر آئینی طور پر رینجرز کے اختیارات 90 روز کے لیے۔ اس لیے بار بار توسیع کے وقت یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ رینجرز آپریشن کے مخالفین ہو ں یا عام شہری، سندھ حکومت اور تمام سٹیک ہولڈز اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ رینجرز نے کراچی میں امن و امان کو بہتر کیا ہے مگر سندھ حکومت اور پی پی پی رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر قدغن اور اعتراض لگانا شروع کر دیتی ہے، اب کی بار بھی ایسا ہوا ہے جب سندھ میں اسد کھر ل نا می شخص پر جب رینجرز نے ہاتھ ڈالا اُس کے بعد سابق وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ رینجرز کو اختیارات صرف کراچی کے لیے ہیں پورے سندھ کے لیے نہیں۔ یعنی کراچی میں جرُم کر نے کے بعد اگر مجرم سندھ میں فرار ہوجا ئے تو رینجرز کو کارروائی کا اختیار نہیں ہو گا۔ یہ منطق وڈے سائیں کی انوکھی تھی۔ شاید یہ منطق ہی وڈے سائیں کی کرُسی کو لے ڈوبی ہے۔ پی پی پی کے سابق اور تحریک انصاف کے رہنما سید صمام بخاری کہتے ہیں کہ قائم علی شاہ کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ ایک بار پھر رینجرز اختیارت دینے کا فیصلہ زرداری صاحب نے دبئی میں بیٹھ کر کیا اور ساتھ ہی سندھ کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ سید مراد علی شاہ کو سونپ دیا اور ابھی اس پر بحث اور اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ سندھ حکومت میں یہ تبدیلی کیوں اور کس مقصد کے لیے کی جا رہی ہے؟ مقصد کوئی بھی ہو بلاول بھٹو کے کیرئیر کی پہلی سیاسی اننگز ہے اب اس کا فائدہ اور مقصد دونوں ساتھ ہی نظر آئے جس کا اثر بلاول بھٹو کے آئندہ سیاسی سفر پر ضرور ہو گا۔ سندھ کے نئے وزیر اعلی کو پانچ بڑے چیلنچز پر توجہ دینی ہو گی۔ 1۔کراچی کا امن و امان قائم کرنے کے لیے کرائم مافیا کو کنڑول کرنا، 2۔ سندھ میں کرپشن کو ختم کرنا اور گڈ گورنس کو قائم کرنا ہو گا۔3۔میر ٹ پر بھرتیاںکر نا اور اداروں کو سیاست سے بالا تر کرنا۔ 4۔ انفراسٹکچرر ڈویلپ کرنا، ٹرانسپورٹ کا نظام، 5۔پانی کی فراہمی اور تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے جیسے مسائل شامل ہیں۔ مگر نئے سندھ کے وزیر اعلیٰ کو کرنا وہ ہی ہو گا جو قائم علی شاہ کرتے تھے یعنی رینجرز کے اختیارت کتنے ہونے چاہیے اور فیصلہ سازی کیلئے دبئی کی پرواز پکڑنی ہو گی، سیاسی مفاہمت وغیرہ وغیرہ…
پی پی پی اگر اپنا سیاسی کلہ مقبوض کرنا چاہتی ہے تو سندھ میں جو کام آٹھ سالوں میں نہیں کیے وہ اب ان اڑھائی سالوں میں کرنا ہوں گے ورنہ اگلے الیکشن نا صرف سندھ میں بلکہ پورے ملک میں لڑنے کے لیے عوام کو مطمئن کرنا مشکل ہو جائے گا اگر ایسا ہوا تو نتائج کشمیر کے الیکشن جیسے ہی ہونگے بہرحال لگتا ہے آئندہ بھی فیصلے دبئی سے ہی آئیں گے۔