کتابیں بولتی ہیں!!!

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر
کتابیں بولتی ہیں!!!

ہمارا آج کا سب سے بڑا مسئلہ تطہیر روح اور جسم ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد خان کے نزدیک فنا اور بقاء کے فلسفے کو سمجھنے میں کہانیاں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی تصنیف ’’داستانوں کی علامتی کائنات‘‘ وہ منہ بولتی کہانی ہے جو انسانی زندگی کے راز فاش کرتی ہوئی زندگی کا ایک مقام متعین کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ داستانوں کے ہیرو زمانے کی شکست و ریخت کے ساتھ انسان کے اندر کی کہانی کو بیان کرتے ہیں۔ فتح حق اور سچ کی ہوتی ہے کیونکہ حق اور سچ کی طاقت روحانی طاقت سے ملتی ہے جبکہ قوت بطل نفس سے وابستہ ہوتی ہے۔ کائنات کے اس طلسم میں شر اور خیر کی جنگ جاری رہتی ہے۔ شر اپنی پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اور خیر کی قوت اپنی سچائی اور جرأت سے نفس کی کوتاہیوں اور شر کی برائیوں کا سامنا کرتی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا فن اور کن سا طریقہ یا عمل ہے جو ہمیں اس مقام تک پہنچاتا ہے جو راستہ ہر انسان کو اختیار کرنا چاہئے۔ جہاں روح اپنے اندر سمٹے تو دنیا کو بھی وہاں موجود پاتی ہے اور اپنے اندر سے نکلے تو پھر بھی دنیا کو اپنے اردگرد پاتی ہو۔ اسی فلسفہ کو ڈاکٹر سہیل احمد خان نے داستانوں کی علامتی کائنات میں زندہ کیا ہے۔ درحقیقت یہ کتاب روح کا سفر ہے اور باطنی اور روحانی ادراک کا ذریعہ ہے۔ڈاکٹر اظہر وحید کی کتاب ’’دل ہر قطرہ‘‘ ان معاشرتی مسائل کا احاطہ کئے ہوئے جس نے انسان سے اس کی تربیت چھین کر اسے نفس کا غلام بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ادھورے راستے کا مسافر دو منزلوں سے محروم ہوتا ہے۔ ایک لمبے سفر کے بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آغاز سے ہی ہمارے ہمراہ تھکا دینے والے عناصر موجود تھے جس کی وجوہات میں باطنی اور ظاہری عناصر میں تضاد ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد معاشرے کے اصلاح کی ذمہ داری‘ کہانیوں‘ کتابوں اور لوک داستانوں کیساتھ ساتھ صوفیائے کرام کے کندھوں پر بھی ڈالتے نظرآتے ہیں‘ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روبہ زوال ہوتی قوم اوراخلاقی اقدار کا بچائو کیسے ممکن ہے۔ صوفیاء کرام نفس کی تربیت کیلئے جن منزلوں کا تعین کرتے ہیں‘ ان میں باطنی ادراک کو لازمی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد خان کا داستانوں کی علامتی کائنات کا سفر بھی باطنی ادراک کا سفر ہے۔ درحقیقت یہ ذات کے اندر کی مختلف کیفیات کا نام ہے اور ذات کے تشخص کی ہی مختلف صورتیں ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایک تو ہم اس بات کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ ہم اپنا تشخص کہیں گم کر بیٹھے ہیں اور دوسرے یہ کہ بامقصد اور اصلاحی کتابوں سے دوری نے ہماری تربیت اور شخصی تعمیر میں خلا سا پیدا کر دیا ہے۔ جہاں ڈاکٹر سہیل احمد خان معاشرتی اصطلاح میں صوفیاء کرام کے کردار کو صف اول پر رکھتے ہیں۔ وہاں ڈاکٹر اظہر وحید اپنی ذات کے تمام پہلوئوں کو حضرت واصف علی واصف سے منسوب کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کی روش اختیار کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میرے لفظوں کو واصف صاحب سے وہی نسبت ہے جو جسموں کو روح سے ہوتی ہے۔ روح نکل جائے تو جسم اور لفظ دونوں لاشے کہلاتے ہیں اور لاشوں کی چلت پھرت ان کی زندگی کی دلیل نہیں ہوتی۔ ہم آج تک سمجھ نہیں پائے کہ زندہ قوم کے کیا تقاضے ہیں؟ آرنلڈ ٹوائن بی کے نزدیک جب قوموں سے حوصلہ چھن جاتا ہے تو قومیں روڈ کے بغیر servive کرتی ہیں۔ زندہ قوموں کے تقاضے نبھانا تو دور کی بات درحقیقت ہم نے فکر کو کھو دیا اور فکری بحران کا شکار ہوگئے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب نے میری کتاب دھوپ کا مسافر پر رائے دیتے ہوئے ایک خوبصورت اور فکر انگیز جملہ لکھا کہ فکرمند کو فکر کے سانچے بھی ڈھالنا غیر معمولی بات ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے معمول میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ فکری سانچے بھی فکرمندی میں ڈھل گئے ’’غیرمعمولی‘‘ کا تصور ہی ناپید ہو گیا۔ ڈاکٹر اظہر وحید اسی نظریہ کے قائل ہیں کہ فکر کی دھونی رمانے والا کسی نہ کسی حقیقت تک پہنچتا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا وجود ایک دریچہ ہے جس میں سے ہم اس دنیا میں جھانک رہے ہیں اور اس میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ نادان اس دنیا کو تماشا جان کر دل لگا بیٹھے ہیں اور دانا ’’فاعتبرو یا اولی الابصار‘‘ پڑھ کر یہاں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک حکایت ہے کہ ایک درویش کا کسی ایسی ریاست سے گزر ہوا جہاں درختوں‘ مکانوں‘ چھتوں اور محل سرائوں میں جالے لٹکتے تھے۔ ابھی وہ مناظر دیکھ ہی رہا تھا کہ دو پہرے دار اسے فرمانروا کے پاس لے گئے۔ فرمانروا نے اس سے شہر کی بابت دریافت کیا۔ اس نے کہا اے فرمانروا جس طرح تیری ریاست میں جگہ جگہ جالے اگ آتے ہیں‘ تیرے دل میں بھی جالے ہیں۔ تو باطنی ادراک سے محروم ہوا اور مکر و فریب تیرا طریق بنا۔ فرمانروا نے اسے قتل کروانا چاہا تو اس نے کہا کہ فرمانرا یاد رکھ جس ریاست کی بنیادیں انسانی خون پر تعمیر ہوں وہ بڑی جلدی ختم ہو جاتی ہیں۔ درویش کی بات نے فرمانروا پر وہ حقیقت طاری کر دی جو ’’فکر‘‘ کو جنم دیتی ہے۔ ہمارے ہاں فکر کا فقدان ہے۔ روایتی حکومت میں مکڑی کا جالا بھول بھلیاں اور نفس کی کمزوریوں کا استعارہ ہے۔ اب یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ ان سے کیسے نبردآزما ہوتا ہے۔ حقیقت حق کے حکم کا نام ہے۔ بقول ڈاکٹر اظہر وحید ’’ہر حقیقت ایک حکم ہے اور احکام مختلف ہوتے ہیں‘ متضاد نہیں ہوتے۔ الجھن وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ہم ایک ہی مقام پر کھڑے ہوکر مختلف حکموں کا تقابل شروع کر دیتے ہیں۔ فزکس کی دنیا کہتی ہے کہ "Frame of Reference" بدل جائے تو نوعیت ادراک بدل جاتی ہے۔ حقیقت ایک خبر ہے اور خبر پر یقین کا نام علم ہے اور جب علم بولتا ہے تو خیال حقیقت‘ سچائی‘ ادراک اور کائنات کا خزینہ روح میں اتر جاتا ہے اور پھر روح کے بغیر جسم لاشہ نہیں ہوتا بلکہ جاندار محرک بن کر قوموں کی زندگی میں روح پھونکتا چلا جاتا ہے۔