لوٹ کے نبیل’’ گھر‘‘ کو آئے!

کالم نگار  |  سعید خاور… حرف درماں
لوٹ کے نبیل’’ گھر‘‘ کو آئے!

جہاز اڑانے کا لائسنس رکھنے والے پرائیویٹ پائلٹ سردار نبیل گبول اب سیاست بھی جہازی کرنے لگے ہیں۔ 1911 ء میں لیاری کی چودھراہٹ پر اپنی دیرینہ جماعت پیپلز پارٹی ٗ صدر آصف علی زرداری اور لیاری کے اْس وقت کے کمان دار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے جھگڑا کرکے وفاقی وزارت اور قومی اسمبلی کی نشست قربان کرکے گبول سردارنے سیاسی افق پر ہلچل مچا دی تھی لیکن 2013 ء میں لیاری کے رومان میں مبتلا ایک اور جماعت ایم کیو ایم کی آڑلے لی توسیاسی بزرجمہر ان کے اس فیصلے پر ششدر رہ گئے۔ وہ ایم کیوایم میںگئے تو ان کی کزن نادیہ گبول نے ایم کیوایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ نبیل گبول کا خیال تھا کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے جس کے کندھوں پر سوار ہو کر وہ لیاری پر راج کر سکتے ہیں لیکن وہ ایم کیو ایم کی سیاست سمجھنے میں قاصر رہے۔ انہیں نہیں پتا تھا کہ ایم کیو ایم کسی کی بیساکھی تو بنتی ہے لیکن کسی کو اپنے کندھوں پر بندوق رکھ کر گولی چلانے کی اجازت نہیں دیتی۔ 90 کی آنیاں جانیاں گبولوں کے سردار کوراس نہیں آئیں تودو ہی برسوں میں بات اس نہج پر پہنچی کہ انہوں نے الطاف بھائی سے اپنے راستے جدا کر لئے اور ایم کیو ایم کی بخشش میں ملی قومی اسمبلی کی نشست بھی چھوڑ دی ہے۔ نبیل گبول ایک بار پھر خالی ہاتھ ہیں اور اپنا سیاسی مستقبل دوبارہ لیاری سے جوڑنے کا عندیہ ظاہر کیاہے جسے وہ اپنا آبائی گھر قرار دیتے ہیں۔
سیاست میں نئی اڑان بھرنے کے لئے اب وہ کراچی فتح کرنے کے لئے بے چین تحریک انصاف کی بانہوں میں پناہ لیتے ہیں یا واپس پیپلزپارٹی کو پلٹتے ہیں ٗ یہ فی الوقت کہنا آسان نہیں۔ لیکن ان کے ’’روڈ ٹو لیاری‘‘کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ ان کی راہ سے دو بڑے پتھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور سردار عزیر بلوچ ہٹ چکے ہیں اور ان دونوں کا بظاہر اب لیاری میں کوئی سیاسی یا سماجی کردار نظر نہیںآتا۔ البتہ پیپلزپارٹی بعض سنگین غلطیوں کے باوجود سیاسی میدان میں ان کی راہ کا بڑا روڑا ثابت ہوگی جو ذوالفقار مرزا اور سردارعزیر بلوچ سے گلو خلاصی کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے لیاری سے اب بھی امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کے سیاسی قلعہ لیاری میں بہت کاری نقب لگائی تھی اور وہاں سے تیس ہزار ووٹ لے کر سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا تھا۔ یہ تبدیلی یقیناً پیپلز پارٹی مخالفین کے لئے بہت خوش کن تھی لیکن اس تبدیلی کے پس منظر میں پراسراریت تھی جو ابھی تک رازبنی ہوئی ہے۔ ایک ایسی جماعت جس نے سینکڑوں پولنگ اسٹیشنوں میں سے ایک پر بھی ایجنٹ مقرر کرنا تو دور کی بات ہے ٗ اس کا امیدوارلیاری کے داخلی دروازے ’’چیل چوک‘‘ تک بھی نہ جا سکا ہوٗ اس نے تیس ہزار ووٹ حاصل کر لئے۔ تحریک انصاف ابھی تک اس غیرمتوقع مقبولیت کا جواز فراہم نہیں کرسکی۔ بظاہر تو نبیل گبول کو نئے مرحلے میں کامیاب سیاسی سفر کے لئے تحریک انصاف کا ہی راستہ اختیار کرنا چاہئے لیکن سیاسی زائچے بنانے والے پنڈت کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں ان کی شدید مخالفت کے باعث سردار نبیل گبول کی خواہش کے باوجود ان کی تحریک انصاف میں شمولیت معجزے سے کم نہ ہو گی۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی صبح کے بھولے کو شام کے وقت دوبارہ گلے لگا لے لیکن ان کی پرانی جماعت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو انہیں لیاری سے پرے دھکیل کرکراچی سے باہران کے آبائی گائوں تھانہ بُولا خان تک محدودکرنے کے درپے ہیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے سردارنبیل گبول اس وقت خالی ہاتھ ہیں اور اس مشکل گھڑی میں کوئی بھی انہیں ان کی قیمت پر شاید قبول نہ کرسکے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ کرسیاسی غلطی کی تھی پھر ایم کیو ایم میں شامل ہو کر فاش سیاسی غلطی کردی کیونکہ ان کے اس نئے سیاسی کردار پر لیاری کے بلوچوں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا جس کا اظہارانہوں نے اپنے حالیہ بیانات میں بھی کیاہے۔اب وہ   90کی بندشوں سے آزاد ہوئے ہیں تو لیاری کے جیالوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے اور وہ ان کی پارٹی میں واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں جواتنا آسان نہیںدکھائی دے رہا۔لیاری کراچی کا قدیم علاقہ ہے جہاں بلوچوں ٗ لاسیوں ٗ سندھیوں ٗ کچھی میمنوں اور سرائیکی میاں والیوں کی اکثریت آباد ہے ٗ یہاں نوٹ بھی ہیں اور ووٹ بھی۔ اس لئے ہر سیاسی جماعت اور ہر مافیا کی لیاری پر رال ٹپکتی ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اور قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں لیاری میں ہارون خاندان کا طوطی بولتا تھا لیکن جب بھٹو صاحب ٗ ایوب خان سے بغاوت کرکے سیاسی میدان میں نکلے تو لیاری نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا اور بی بی کی شہادت تک لگ بھگ پینتالیس برسوں تک لیاری پیپلز پارٹی کا سیاسی قلعہ رہا۔ پیپلز پارٹی کے سیاسی سفر میں لاڑکانہ ٗ لاہور اور لیاری کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ٗ یہ الگ بحث ہے کہ پیپلزپارٹی نے انہیں کیا دیا۔ لیاری ٗسترہ لاکھ آبادی کا یہ علاقہ کراچی کا دل ہے۔ ماضی میں جس کی وجہ شہرت عوام دوست سیاسی کارکن ٗ ادیب ٗ دانشور ٗ شاعر ٗ اساتذہ ٗ وکلاٗ سماجی رہنما ٗ فقرا ٗ فنکار ٗ آرٹسٹ اور محبت کرنے والے لوگ تھے مگر اب یہاں گولی اورگالی کی زبان رائج ہوچکی ہے۔ خیر اب یہاں حالات بہت بدل چکے ہیںٗ پیپلز پارٹی کی غلط سیاسی چالوں اوراس قدیم آبادی پر سیاسی گرفت کمزور پڑنے کی وجہ سے لیاری بھتہ خوروں ٗ منشیات فروشوں ٗ اغوا کاروں ٗ قاتلوں اور گینگ وار مافیاؤں کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ لیاری کے لوگ گولی اورگالی کی زندگی سے عاجز آچکے ہیں ٗ اب وہ امن کے خواہاںہیں اورچین کی زندگی جینا چاہتے ہیں۔ اس لئے اب ان کی نظریں سیاسی جماعتوں کی بجائے رینجرز پر لگی ہیں جو انہیں گینگ وار اور مسلح جتھوں سے نجات دلانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ رینجرز بتدریج لیاری کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے تو لگتا ہے کہ سندھ اسمبلی کے پہلے ڈپٹی اسپیکر اور دوبار کراچی سے منتخب مئیر ٗ خان بہادراللہ بخش گبول کا پوتا اور ملک بھر کے گبولوں کے سردار ٗ احمد خان گبول کا بیٹا ٗ سردار نبیل گبول سیاسی فتوحات کیلئے رینجرز کی طرف دیکھ رہا ہے۔کیونکہ تجزیہ کار تو یہی کہتے ہیں ٗ اب اگلے دس برسوں میں لیاری میں سیاسی عمل رینجرزکے عمل دخل سے خالی نہیں ہوگا۔