دہشت گردی اور ’’جمہوری‘‘ سوداگری!!

دہشت گردی اور ’’جمہوری‘‘ سوداگری!!

بیروزگاری، مہنگائی، لاقانونیت ، پولیس کا عام شہریوں پر بلاوجہ تشدد، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ پر تو سب کچھ شاید روز ازل سے پاکستانی قوم  کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے۔ جو بھی حکومت آئے اس کے نزدیک ان مسائل کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ ہر حکومت کی اپنی اپنی ’’ترجیحات‘‘ ہوتی ہیں۔ مگر انسانی جان کی قیمت بھلا کیا ہو سکتی ہے؟ لگتا  ہے ہمارے حکمران طبقے کے نزدیک انسانی جانیں بھی بھیڑ بکریوں کی مانند  ہی ہیں۔ جس طرح لوڈشیڈنگ کے فوراً خاتمے  کے دعوے اور دعوے کے ساتھ ن۔ لیگ نے اقتدار حاصل کیا اور آج دوسال ہونے کو ہیں آج تک زبانی جمع خرچ کے علاوہ ایک میگاواٹ بجلی بھی حکومت سسٹم میں نہیں لا سکی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے ’’دعوئوں‘‘کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ حالیہ دہشت گردی  کے حملوں (پشاور، لاہور اور شکارپور)  پر وزیراعظم صاحب نے کہا کہ یہ حملے دہشت گرد بوکھلا کرآخری حملوں  کے طور پر کر رہے ہیں۔ وزیراعظم  صاحب یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بخوبی جانتا ہے کہ یہ حملے آخری ثابت ہوں گے۔  یا دہشت گرد آخری پاکستانی کے خاتمے تک  حملے کرتے رہیں گے؟ ساٹھ  سے ستر ہزار پاکستانی معصوم شہری دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ حکومت نے کیا اقدامات کئے صرف منفی صفر؟ جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے۔ ایک تو ہر سیاسی پارٹی کے ’’مذمتی‘‘ بیانات آنا شروع ہو جاتے ہیں اور وزیراعظم صاحب پرویز رشید کے علاوہ دیگر حکومتی ٹیم کے وہ ہی رٹے رٹائے فقرے سننے کو ملتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘ بس، دوسری طرف ’’سزا‘‘کا تصور ہی ہمارے ہاں ختم کر دیا گیا ہے۔ اے پی سی بھی بلائی جاتی ہی۔کمیٹیاں اور کمشن  بھی بنتے ہیں۔ آناً فاناً ملکی و غیر ملکی دورے بھی ہوتے ہیں رزلٹ صفر سے آگے بڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔ پھانسیوں کا آغاز  ہوا۔ 22 دہشت گردوں کو دینے کے بعد روک دی گئی ہیں پھانسی پانے والے زیادہ دہشت گرد وہ ہیں جو فوجی تنصیبات پر حملہ آورہوئے۔ ظاہر ہے جنرل راحیل شریف کے دبائو پر یہ کام بھی ہوا ہوگا۔ ویسے تو ہمارے ملک میں قاتلوں اور دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ہے۔ ایک تو حکمرانوں کی ’’مفاہمتی‘‘ پالیسی نے ستیاناس کردیا ہے۔ ’’مفاہمتی‘‘ پالیسی  کے موجد ہیں آصف زرداری صاحب۔ سادہ الفاظ میں ’’مفاہمتی پالیسی‘‘ کا مطلب ہے کہ ’’آئو سب مل کر اور باری باری ملک کو لوٹیں‘‘ شہباز شریف صاحب کے وہ وعدے کہ ’’زر بابا اور چالیس چوروں کے ٹولے کو بھاگنے نہیں دیں گے ان سے ایک ایک پائی وصول کریں گے،، اب دو سال ہو گئے  ہیں۔ شہبازشریف کو اپنا  یہ ’’دعویٰ‘‘ شاید یاد بھی نہ ہو یا یہ بھی ان کا ’’جذباتی‘‘ نعرہ ہی تھا۔ ’’مفاہمت‘‘ اسی کا نام ہے۔ کراچی میں آگ لگا کر 289 افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔ دو سال بعد رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔ بجائے یہ کہ اسکے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزائیںدی جائیں اور ان سے کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتی جائے مگر نہیں اب اس عظیم سانحے کو بھی  ’’مفاہمت‘‘  کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔  شرجیل میمن صاحب کا کہنا ہے کہ  اب نیا کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ کیوں؟ صاف ظاہر ہے کہ اب دو سال مزید گزار دئیے جائیںگے۔ ’’نامزد‘‘ ملزموں کے ’’تحفظات‘‘ بھی دور ہو جائیں گے۔ سوال  یہ ہے کہ جو بے گناہ لوگ  دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں اور جو تین سو کے لگ بھگ افراد آگ میں جلائے گئے۔ ان کے لواحقین کے درود و غم سے کوئی واقف  ہے، کوئی ان کا پرسان حال بنا؟ کتنے یتیم ہوئے ہوں گے۔ کتنی مائوں کی گود اجڑی ہو گی۔ کتنی خواتین کے سہاگ اجڑے ہوں گے کتنی بہنوں کے بھائی جدا ہوئے ہوں گے؟ کیا ان سب کو انصاف فراہم کرنا حکومت کا فرض اولین نہیں ہے؟
ریاست کا کام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں ہے؟ کیا اعلیٰ عدلیہ ان مظلوموں کو انصاف دلائے گی؟ جو پی پی پی آج تک محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب نہیں کر سکی انہیں سزا نہیں دلا سکی وہ کسی اور کو کیا دے گی؟ پنجاب پولیس عوامی تحریک کے درجن سے زائد افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیتی ہے تو کئی ماہ کے بعد صرف دھرنوں کے خوف سے من پسند FIR درج کی جاتی ہے۔ کسی ایک کو بھی سزا ہوئی؟ قرآن پاک کے مطابق ’’جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کوقتل کیا، اور اس کی سزا بھی قتل  ہی ہو گی۔ مگر ہمارے ہاں قاتلوں کو پھانسیاں اس لئے نہیں دی جا رہیں۔ بقول پرویز رشید کے کہ یورپی یونین والے ناراض ہو جاتے ہیں اور  وہ ہماری امداد بند کر دیتے ہیں، مطلب یہ کہ اللہ اور خاتم النبینؐ کی ناراضگی تو ہمیں گوارا ہے مگر یورپی یونین والوں کی ’’امداد‘‘ ہمیں زیادہ عزیز ہے اوران کی ناراضگی بھی ہم مول نہیں لے سکتے۔ لاری اڈوں پر خود ساختہ  زخم دکھا کر بھیک مانگنے والے بھکاری کی طرح ہمارے حکمران سابقہ اور موجودہ بھی ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’بجلی کی لوڈشیڈنگ‘‘ کی آڑ میں قرضوں اور امداد کی مد میں اربوں، کھربوں حاصل کر چکے ہیں اور معلوم نہیں کب تک کرتے رہیں گے۔ مگر اب قاتلوں کے ’’مذموم فعل‘‘ سے بھی ’’ڈالر‘‘ کمائے جا رہے ہیں۔ قاتلوں کو سزا نہ دینے سے بھی ہمارے حکمرانوں کی ’’تجوریاں‘‘ بھریں گی۔
ظاہر  ہے ایک ایم۔ این۔ اے  اور ایم پی۔ اے بننے کے لئے کروڑوں کا خرچہ آتا ہے۔ تو یہ لوگ اربوں کمانے ہی تو آتے ہیں۔ لہذا عوامی مسائل جائیں بھاڑ میں۔ انہیں تو اپنا  اپنا بزنس عزیز  ہے۔ لہذا، دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا جاری رہتا اور قاتلوں کو کھلی چھوٹ دینا ہے۔ ہمارے حکمران طبقے کے انتہائی منافع بخش  کاروبار ہیں۔ اس لئے تو انہیں ختم نہیں کیا جا رہا۔ پھر ڈالروں کی صورت میں امداد کہاں سے ملے گی؟
قانون اندھا نہیں ہوتا مگر قانون کواندھا کہنے والے خود بینائی سے ضرور محروم ہوتے ہیں۔ قانون کی چار آنکھیں۔ اگر قانون اندھا ہوتا تو کبھی نہ کبھی کسی ’’مگر مچھ‘‘ کے گریبان کو بھی پکڑے۔ اب دیکھئے اگر کسی غریب گھرانے پر ’’دہشت گردی‘‘ کا شک بھی ہوتا تو اب تک اس پورے گھرانے کو پولیس زبردستی ’’دہشت گرد‘‘ ثابت کرکے ’’تعریفی میڈلز ‘‘ بھی حاصل کر چکی ہوتی۔ مگر لال مسجد  کے مولوی عبدالعزیز کے سہولت کار ہونے کے ثبوت بھی ہیں۔  اس کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں وہ ببانگ دھل طالبان اور داعش کے لئے کام کررہے ہیں۔ لیکن قانون نے ادھر سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے میں حکومت کے ’’مخلصانہ‘‘  کردار کا یہ واضح ثبوت ہے۔ فوجی عدالتیں ابھی تک کام شروع کیوں نہیں کر سکی ہیں کیا یہ بھی حکومت کا ’’جذباتی‘‘  فیصلہ اور واہ ویلا ہی تھا۔ بدقسمتی ہے کہ آئے روز دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں مگر  حکمران طبقہ کے چہرے، پر رونق، ہشاش ، بشاش، کھلے کھلے رہتے ہیں۔
دہشت گردی کا خاتمہ کون، کب اور کیسے کرے گا۔ ابھی تک یہ سوالیہ نشان  ہے۔ ہمارے حکمران تو دہشت گردی، لوڈشیڈنگ پر ’’سوداگری‘‘ کرتے ہی دکھائی دے رہے ہیں۔